پاکستانی سائنسدان میکس پلانک سوسائٹی میں پہلی بین الاقوامی خاتون نائب صدر

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

وہ بطور نائب صدر صنفی مساوات کے معاملے کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہیں — فوٹو: بشکریہ میکس پلانک سوسائٹی ٹوئٹر اکاؤنٹ
وہ بطور نائب صدر صنفی مساوات کے معاملے کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہیں — فوٹو: بشکریہ میکس پلانک سوسائٹی ٹوئٹر اکاؤنٹ

کراچی: پاکستان میں پیدا ہونے والی سائنسدان آصفہ اختر جرمنی کی میکس پلانک سوسائٹی میں شعبہ حیاتیات اور طب کی پہلی بین الاقوامی خاتون نائب صدر بن گئیں۔

میکس پلانک سوسائٹی جرمنی کی سب سے کامیاب تحقیقی تنظیم ہے اور 1948 میں اپنے قیام کے سے لے کر اب تک اس کے سائنسدانوں میں سے 18 نے نوبل انعام حاصل کیے جنہوں نے اسے دنیا بھر کے بہترین اور ممتاز تحقیقی اداروں کے برابر کھڑا کردیا۔

اپنے عہدے کی مدت کے دوران آصفہ اختر حیاتیات اور طب کے شعبے کے انسٹیٹیوٹس کی انچارج ہوں گی اور میکس پلانک اسکولز کے لیے کانٹیکٹ (رابطہ) پرسن بھی ہوں گی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی سائنسدان نے 5 منٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والی کٹ تیار کرلی

میکس پلانک سوسائٹی کی ویب سائٹ کے مطابق آصفہ اختر نے کہا کہ 'میرا دل نوجوان سائنسدانوں کے لیے دھڑکتا ہے'۔

آصفہ اختر نے میکس پلانک سوسائٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'اکیڈمک سائنس انضمام کی ایک خوبصورت مثال ہے کیونکہ آپ کے پاس دنیا بھر سے لوگ ہوتے ہیں جو سرحدوں، ثقافت یا تعصب سے بالاتر ہوکر علم کا تبادلہ کرتے ہیں'۔

واضح رہے کہ وہ بطور نائب صدر صنفی مساوات کے معاملے کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'صنفی مساوات پر مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے، سائنس میں نمایاں خواتین موجود ہیں اور ہمیں انہیں میکس پلانک سوسائٹی میں شامل کرنے کے لیے تمام کوششیں اور اپنے وسائل کا استعمال کرنا چاہیے'۔

مختلف کیریئر ڈومینز میں صنفی تنوع (gender diversity) سے متعلق انہوں نے کہا کہ معاشرے کو زیادہ سے زیادہ مفاہمت پسندی اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔

آصفہ اختر نے مزید کہا کہ 'اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواتین سائنس کے شعبے میں ترقی کریں تو ہمیں بچوں کی دیکھ بھال اور وقت کی تقسیم یا ہوم آفس آپشن جیسے عملی حل کی ضرورت ہے'۔

 یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سائنسدانوں نے کورونا کے علاج میں مددگار ادویات کی شناخت کرلی

آصفہ اختر کراچی میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے 1997 میں برطانیہ کے شہر لندن میں امپیریئل کینسر ریسرچ فنڈ سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔

جس کے بعد وہ جرمنی چلی گئی تھیں جہاں انہوں 1998 سے 2001 تک میونخ میں ایڈولف-بٹنینڈ-انسٹی ٹیوٹ اور ہیڈل برگ میں یورپین مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری (ای ایم بی ایل) میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی۔

آصفہ اختر نے 2008 میں ارلی کیریئر یورپین لائف سائنس آرگنائزیشن ایوارڈ حاصل کی، 2013 میں ای ایم بی او کی رکنیت اور 2017 میں فیلڈ برگ پرائز حاصل کیا۔

اس کے علاوہ وہ 2019 میں نیشنل اکیڈمی آف سائنس لیپولڈینا کی رکن بھی منتخب ہوئی تھیں۔

 


یہ خبر 15 جولائی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی