مشکوک لائنسس والے مزید 15 پائلٹس معطل

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2020
باقی141 کیسز کی تصدیق کا عمل ایک ہفتے میں مکمل ہونے کی توقع ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
باقی141 کیسز کی تصدیق کا عمل ایک ہفتے میں مکمل ہونے کی توقع ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

راولپنڈی: پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز کی تصدیق کا عمل جاری اور ایوی ایشن ڈویژن نے مزید 15 پائلٹس کو معطل کردیا جس کے بعد معطل ہونے والے پائلٹس کی مجموعی تعداد 93 ہوگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ 15 اُن 262 پائلٹس میں شامل تھے جن کے لائسنسز مشکوک تھے جبکہ 28 کے لائسنس پہلے ہی معطل کیے جاچکے ہیں۔

ترجمان ایوی ایشن ڈویژن، سینئر جوائنٹ سیکریٹری عبدالستار کھوکھر نے کہا کہ حکومت کی ہدایات پر بورڈ آف انکوائری نے 262 پائلٹس کے لائسنسز مشکوک ہونے کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد انہیں فوری طور پر گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس درست ہیں، سی اے اے

انہوں نے کہا کہ یہ 28 پائلٹس پرواز سرانجام نہیں دے سکیں گے اور ان کے لائسنسز مکمل قانونی عمل کے تحت منسوخ کیے گئے ہیں جس میں پائلٹس کو اپنی صفائی کا موقع دیا گیا تھا جبکہ فیصلے سے قبل کابینہ نے 2 مرتبہ اس پر غور کیا تھا۔

اس سلسلے میں 93 پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ باقی141 کیسز کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی توقع ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان اسکروٹنی، تصدیق اور ضروری انضباطی کارروائی کے مکمل عمل کی بغور نگرانی کررہے ہیں۔

دوسری جانب ایک نجی ایئرلائن سیرین ایئر نے ’مشکوک‘ لائسنس والے اپنے پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کو تنخواہوں کی ادائیگی روک دی۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ: اپوزیشن کا وزیر ہوا بازی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ایئرلائن کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کو آگاہ کیا کہ جب تک لائسنس کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا مشتبہ پائلٹس 29 جون سے تنخواہوں سے محروم رہیں گے۔

قبل ازیں ایوی ایشن ڈویژن نے نجی ایئرلائن کو 10 پائلٹس کی فہرست فراہم کی تھی جن کے لائسنسز مشکوک ہیں، ان 10 میں 3 پہلے ہی ایئرلائن چھوڑ چکے جبکہ بقیہ کو گراؤنڈ کردیا گیا۔

خیال رہے 2 روز قبل ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے عمانی عہدیدار کو ایک خط میں کہا تھا کہ اس کے جاری کردہ تمام کمرشل/ایئرلائنز ٹرانسپورٹ پائلٹس لائسنسز درست اور حقیقی ہیں۔

ڈی جی سی اے اے نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئی پائلٹ کا لائسنس جعلی نہیں ہے بلکہ اس معاملے کو غلط سمجھا گیا اور میڈیا/سوشل میڈیا میں غلط طور پر اجاگر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کے مشکوک لائسنس: سول ایوی ایشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

سیکریٹری ایوی ایشن نے اپنے خط میں وزیر ہوا بازی کے بیان کی اہمیت، یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی کہ کچھ پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق کے حوالے سے ’کچھ خدشات‘ کا اظہار کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور فرانزک اسکروٹنی کے ذریعے تمام لائسنس یافتہ پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کا عمل شروع کیا‘۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کمپیوٹر کے ذریعے ہونے والے امتحان کے حوالے سے کچھ تضادات موجود تھے جو لائسنس کے عمل کا ایک حصہ ہے اور اس عمل کو مکمل نہ کرنے والے پائلٹس کو کلیئرنس ہونے تک ’مشتبہ‘ کیٹیگری میں شامل کردیا گیا تھا۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں