پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ: اپوزیشن کا وزیر ہوا بازی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایوان میں وزیر ہوا بازی کے دیے گئے بیان پر افسوس کا اظہار کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز
مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایوان میں وزیر ہوا بازی کے دیے گئے بیان پر افسوس کا اظہار کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے پائلٹس کا جاری کردہ تمام لائسنس ’حقیقی‘ قرار دینے کے ایک روز بعد اپوزیشن نے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کو پہلے قومی اسمبلی اور بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں 40 فیصد پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز ’جعلی‘ قرار دینے کے بیان پر آڑے ہاتھوں لیا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایوان زیریں میں پوائنٹ آف آرڈر پر وزیر پر الزام عائد کیا کہ ان کے غلط بیان کی وجہ سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو روزانہ 50 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے اور متعدد ایئرلائنز سے 200 پائلٹس فارغ کردیے گئے جبکہ ‘قومی وقار‘ کو بھی نقصان پہنچا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر ہوا بازی کی عدم موجودگی میں انہوں نے کہا کہ ’اگر وزیر سچ بول رہے ہیں تو سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کو مستعفی ہوجانا چاہیے لیکن اگر ڈی جی کے خط میں صحیح بات کی گئی ہے تو وزیر کو جانا ہوگا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس درست ہیں، سی اے اے

اس سے قبل ایوان کی توجہ سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کے خط کی جانب دلاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایوان میں وزیر ہوا بازی کے دیے گئے بیان پر افسوس کا اظہار کیا جسے اب اسی وزارت کے ایک ’ذمہ دار افسر‘ نے ’ مسترد‘ کردیا ہے۔

مرتضیٰ عباسی نے ڈی جی سی اے اے کا خط پڑھتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی تا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ وزیر نے ایسا ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیان کیوں دیا۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی نے کراچی میں طیارہ حادثے کی بریفنگ کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ کیس میں صرف سی ای او کی بریفنگ قبول کریں گے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد اللہ کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور اور وفاقی سیکریٹری ناصر حسین جامی سمیت پی آئی اے کے دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھیں: کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ وزیر ہوا بازی کے غلط اقدام نے پاکستان کی ساتھ کو نقصان پہنچایا۔

تاہم وزیر ہوا بازی نے نہ صرف اپنے بیان کا دفاع کیا بلکہ اسے تقریباً دہرایا، تاہم انہوں نے ایک وضاحت کی کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پائلٹس کے لائسنس کو ’مشتبہ‘ کہا تھا ’جعلی‘ نہیں۔

'طیارہ حادثہ کیس میں صرف قومی ایئر لائن کے سی ای او کی بریفنگ قبول کریں گے‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سی ای او پی آئی اے کی غیر حاضری پر فیصلہ کیا کہ جب تک وہ خود آکر کراچی طیارہ حادثے پر بریفنگ نہیں دیں گے تب تک حادثے پر کسی اور کی بریفنگ قبول نہیں کریں گے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ کراچی پی آئی اے طیارہ حادثہ رپورٹ ایک اہم معاملہ ہے، سی ای او پی آئی اے کمیٹی میں کیوں نہیں آئے؟

انہوں نے کہا کہ وزیر ہوا بازی آ سکتے ہیں تو سی ای او پی آئی اے بھی آ سکتے ہیں۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ سی ای او پی آئی اے نے کمیٹی میں نہ آکر پارلیمنٹ کی توہین کی، جب تک وہ نہیں آئیں گے پی آئی اے طیارہ حادثے پر کوئی بات نہیں ہو گی۔

کمیٹی میں شامل مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ سی ای او کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آکر طیارہ حادثے پر بریف دیتے اور بتایا جائے پائلٹس کی لائسنسنگ اتھارٹی کون ہے؟

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے سول ایوی ایشن کی پوزیشن تبدیل ہو رہی ہے، پہلے کہا گیا کہ لائسنسز جعلی تھے اب کہتے ہیں کہ لائسنسز اصلی ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

اس ضمن میں سیکریٹری ہوا بازی ناصر حسین جامی نے بتایا کہ 2010 سے ہوا بازوں کے لائسنس کمپیٹوٹرائزڈ ٹیسٹ پر منتقل کیے گئے اور 18-2017 میں 54 پائلٹس کے لائسنسز کے حوالے سے شکوک وشبہات سامنے آئے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فروری 2019 میں فیصلہ کیا گیا کہ کمپیوٹر ٹیسٹنگ کے آغاز سے لائسنسز کی فرانزک انکوائری کرالی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جعلی لائسنسز پر لائسنسگ برانچ کے 5 ملازمین کو معطل کیا۔

ناصر حسین جامی نے بتایا کہ 262 پائلٹس کے لائسنسز کے اجرا میں باقاعدگیاں پائی گئیں، پہلے ہر سال لیکن 2019 سے ٹیسٹ کی معیاد 5 سال کر دی گئی۔

علاوہ ازیں پی آئی اے حکام کی جانب سے روزویلٹ ہوٹل کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کو بریفنگ دی گئی۔

پی آئی اے کے افسر نجیب کامران نے بتایا کہ امریکا میں روزویلٹ ہوٹل کو 1978 میں لیز پر لیا تھا اور 1999 میں 36.5 ملین ڈالر میں خریدا گیا جبکہ ہوٹل 2019 تک فائدے میں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ: مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا اس کا احتساب ہوگا، سربراہ پی آئی اے

انہوں نے بتایا کہ یہ ہوٹل اب مالی فائدہ نہیں دے گا کیونکہ عمارت بہت پرانی ہے۔

جس پر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ سرخی لگی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہوٹل کو خریدنا چاہتے ہیں، یہ پاکستان کی قیمتی پراپرٹیز کو بیچنے کی کوشش ہے اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ہمیں جو دستاویزات دی گئی ہیں ان میں بتایا گیا حکومت نے 2019 نومبر سے ہوٹل روزویلٹ نجکاری کے ٹی او آرز بنا کر کام شروع کر دیا تھا اور کورونا کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس پر پی آئی اے افسر نجیب کامران نے بتایا کہ ہوٹل کو لینڈ مارک پراپرٹی قرار دیے جانے کا خطرہ ہے جس کے بعد ہم اسے بیچ نہیں سکیں گے۔

مزید پڑھیں: 'تباہ شدہ طیارے کا آخری معائنہ 21 مارچ کو ہوا، ایک روز قبل مسقط سے آیا تھا'

سیکریٹری ہوا بازی حسن ناصر جامی نے بتایا کہ ہوٹل روزویلٹ کی نجکاری کے لیے قائم کی گئی ٹاسک فورس کو آخری کابینہ اجلاس میں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے اور کوئی بھی ہوٹل روزویلٹ کو فروخت نہیں کرنا چاہتا، یہ بات واضح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کی معاشی پوزیشن اس وقت بہتر نہیں، 100سالہ پرانی عمارت ہے اگر فروخت کریں تو ٹیکسسز بہت زیادہ ہوں گے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی اور سی اے اے کے حکام استعفیٰ دیں، شیری رحمٰن

بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمٰن نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی اور سول ایوی ایشن حکام استعفیٰ دیں۔

انہوں نے کہا کہکمیٹی میں دو گھنٹوں پر مشتمل سوالات میں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور وزیر ہوا بازی کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص ذمہ داری قبول نہیں کررہا جو کہ تشویش ناک ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ کسی نے بتایا کہ کون لائسنس جاری کرتا ہے اور کہاں سے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت غلط تاثر دے رہی ہے کہ وزیر ہوا بازی نے کمیٹی کو مطمئن کردیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سی اے اے کے حکام اور وفاقی وزیر کسی کو مطمئن نہیں کرسکے اور ان کے بیانات میں بھی تضاد تھا۔