ایف اے ٹی ایف سے متعلق 6 بلز پر حکومت، اپوزیشن میں اتفاق

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

مشاورتی اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی
مشاورتی اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن بالآخر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 8 میں سے 6 بلز پر اتفاق رائے کرنے میں کامیاب ہوگئے جس سے ان کی قومی اسمبلی سے بآسانی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی۔

اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید نوید قمر نے یہ امید ظاہر کرتے ہوئے کہ بل بآسانی اسمبلی سے منظور ہوجائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے ہماری تمام ترامیم منظور کرلی ہیں جس سے ہم سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بقیہ 2 بلز، انسداد منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل 2020 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیم) بل 2020 کو مؤخر کرنے اور ان دونوں کی قانون سازی پر کچھ وقت بعد بات چیت کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایجنڈے پر ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز ایوان میں پیش نہ کیے جاسکے

قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے آج کے اجلاس کے لیے 16 نکاتی ایجنڈا جاری کیا ہے جس میں وہ 6 بلز بھی شامل ہیں جن پر اتفاق ہوچکا ہے۔

جن بلز پر اتفاق ہوگیا ہے ان بلز میں انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بلز 2020، لمیٹڈ لائبلیٹی پارٹنر شپ (ترمیمی) بل 2020، کمپنیز (ترمیمی) بل 2020، نشہ آور اشیا کی روک تھام کا (ترمیمی) بل 2020، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وقف پراپرٹیز بل 2020 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ٹرسٹ بل 2020 شامل ہے۔

یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں پر مشتمل ایک اجلاس میں ہوئی جو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر ہوا تھا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا ارادہ مؤخر کرتے ہوئے بلز پر اتفاق رائے کے لیے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ذریعے اپوزیشن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ اس سے قبل اسپیکر کی کوششوں کی ہی بدولت حکومت 3 بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو حکومتی بل قومی اسمبلی کی کمیٹی سے منظور

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ جب تک وہ ترمیم نہ کرلیں وہ ان بلز کو پارلیمان سے منظور نہیں ہونے دیں گے جس پر حکومت نے اپوزیشن سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سخت مشاورت کے بعد میوچوئل لیگل اسسٹنس (مجرمانہ معاملات) بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی جو دیگر ممالک کے ساتھ مجرمان کے تبادلے سے متعلق تھا۔

دوسری جانب قبل حکومت جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور نیشنل پارٹی کے احتجاج کے باوجود اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت سے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پارلیمان کے دونوں ایوان سے منظور کروا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ان بلز کی منظوری پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر لانے کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی اسمبلی میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور

علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں جے یو آئی ایف اراکین کے شدید احتجاج کے بعد حکومت نے وزیر قانون فروغ نسیم اور مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے اپوزیشن کے ساتھ کی جانے والے مشاورت میں جے یو آئی ایف کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی کو بھی مدعو کیا تھا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن ان بلز کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط سے متجاوز قرار دے رہی تھی اور اس بات کا اندیشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ انہیں ملک میں سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ اپوزیشن نے حکومت کے طریقہ کار پر بھی اعتراض اٹھایا تھا کہ حکومت کو ایف اے ٹی ایف کی حمتمی تاریخ کا پہلے سے معلوم تھا لیکن مہینوں یہ بلز کمیٹیوں میںن زیر التوا رکھے گئے۔


یہ خبر 12 اگست 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔