ایجنڈے پر ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز ایوان میں پیش نہ کیے جاسکے

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

اپوزیشن رہنماؤں نے کمیٹی میں بھی ان بلز کی مخالفت کی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
اپوزیشن رہنماؤں نے کمیٹی میں بھی ان بلز کی مخالفت کی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد؛ حکومت نے آخری لمحات پر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بلز قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا ارادہ مؤخر کردیا اور فیصلہ کیا کہ بلز پر اتفاق رائے کے لیے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ذریعے اپوزیشن سے رابطہ کیا جائے گا۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اسپیکر نے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت سے رابطہ کر کے انہیں اپنی رہائش گاہ پر بات چیت کے لیے مدعو کیا تا کہ قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والی قانون سازی پر سمجھوتہ ہوسکے کیوں کہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں مذکورہ بلز کی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کمیٹی میں بھی ان بلز کی مخالفت کی تھی اور وہ پارلیمنٹ میں بھی مخالفت کرنے والے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو حکومتی بل قومی اسمبلی کی کمیٹی سے منظور

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب تک وہ ترامیم نہ کرلیں یہ قوانین پارلیمان سے منظور نہیں ہوں گے۔

اجلاس کے دوران اسپیکر نے کمیٹی چیئرمین کو بلز کی رپورٹ پیش کرنے کی اجازت دی لیکن وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے نام پر تحریک نہ لی جس میں بلز کی منظوری کے لیے قواعد معطل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

بلز مؤخر ہونے سے اراکین کو اپنے حلقوں سے متعلق متعدد معاملات، بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور سندھ میں بالخصوص حیدرآباد میں بجلی کی بندش کے حوالے سے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کا موقع ملا۔

خیال رہے کہ حکومت نے پہلے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ایف اے ٹی اے ایف سے متعلق بلز اسمبلی سے منظور کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور اسے ایجنڈے میں شامل کر رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گھر صاف کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، مشاہد حسین

ان بلز میں انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بلز 2020، کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیمی) بل 2020، لمیٹڈ لائبلیٹی پارٹنر شپ (ترمیمی) بل 2020، کمپنیز (ترمیمی) بل 2020 اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا (ترمیمی) بل 2020 شامل تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سخت مشاورت کے بعد میوچوئل لیگل اسسٹنس (مجرمانہ معاملات) بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

اس سے قبل حکومت جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور نیشنل پارٹی کے احتجاج کے باوجود اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت سے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پارلیمان کے دونوں ایوان سے منظور کروا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور

دوسری جانب پیر کے روز حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایک اور انسداد منی لانڈرنگ بل اپوزیشن کے احتجاج کے دوران قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ سے منظور کروالیا تھا جسے مؤخر کی گئی قانون سازی کے ساتھ ایوان میں پیش کیا جانا تھا۔

جے یو آئی (ایف) کا احتجاج

دوسری جانب اہم قانون سازی میں مشاورت نہ کرنے پر اور گزشتہ ہفتے مشترکہ اجلاس میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر جے یو آئی (ف) کے اراکین اسد محمود کی سربراہی میں احتجاج کا انوکھا انداز اختیار کرتے ہوئے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے اسپیکر کی گیلری میں جا کر بیٹھ گئے۔

قواعد کے مطابق اراکین کو گیلریوں میں بیٹھنے کی اجازت نہیں اور اسپیکر اسمبلی نے جے یو آئی (ف) کے اراکین کے اس طرزِ عمل کو ’قواد کی خلاف ورزی اور ایوان کی توہین قرار دیا‘۔