کورونا وائرس کس طرح خلیات کو متاثر کرتا ہے؟ چونکا دینے والی تصاویر

04 ستمبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین
— فوٹو بشکریہ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین

نوول کورونا وائرس جسم میں خلیات پر کس طرح حملہ آور ہوتا ہے، اس کا عندیہ نئی تصاویر سے ملتا ہے جو چونکا دینے والی ہیں۔

ان تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد میں وائرس کے ذرات نظام تنفس کی نالی میں موجود خلیات پر حملہ کررہے ہوتے ہیں۔

امریکا کی نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین نے نظام تنفس کی نالی کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یہا کورونا وائرس خلیات کو متاثر کرتا ہے۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تصاویر کو پیڈیا ٹرکش شعبے کی اسسٹنٹ پروفیسر کامیلا ایری نے کھینچا جس سے وائرس کے حملے کی شدت کا اندازہ لگا جاسکتا ہے۔

تصاویر میں وائرس کے ذرات کی تعداد ہزاروں میں ہے جو گول گیند کی شکل میں ہیں اور انہیں کھینچنے کے لیے ایک اسکیننگ الیکٹرون مائیکرو اسکوپ کا استعمال کیا گیا۔

یہ ایسی ڈیوائس ہے جو تصاویر میں الیکٹرونز پر فوکس کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

محققین نے اس مقصد کے لیے پہلے انساننی نظام تنفس کے خلیات کو کورونا وائرس سے لیبارٹری میں متاثر کیا اور پھر ان کا تجزیہ 4 دن بعد کیا گیا۔

فوٹو بشکریہ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین
فوٹو بشکریہ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین

تصاویر میں متاثرہ خلیات زرد رنگ میں ہیں جو نیلی رنگ کی جھلی سے منسلک ہیں۔

Cilia نامی یہ جھلیاں بال جیسی ساخت کی ہوتی ہیں اور یہ نظام تنفس کے خلیات کی سطح پر ہوتی ہیں جو میوکس (لیس دار سیال) کو پھیپھڑوں سے نظام تنفس تک پہنچاتی ہیں۔

تصاویر میں کورونا وائرس کو سرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے جس میں اس کی ساخت اور کثافت دیکھی جاسکتی ہے۔

اس تحقیق سے یہ عکاسی کرنے میں مدد ملتی ہے کہ انسانی نظام تنفس کے اندر ہر خلیہ کتنی بڑی تعداد میں وائرس کی نقول بناتا ہے۔

اتنا زیادہ وائرل لوڈ ہی جسم کے دیگر اعضا میں بیماری کو پھیلانے کا باعث بنتا ہے جبکہ دیگر میں اس کی تیزی سے منتقلی کی ممکنہ وجہ بھی یہی ہے۔

محققین کے مطابق تصاویر یہ بات بھی ٹھوس انداز سے ثابت ہوتی ہے کہ فیس ماسک کا استعمال متاثرہ اور صحت مند افراد کے لیے انتہائی اہم کیوں ہے۔