وہ آسان احتیاطی تدابیر جن پر عمل کرکے کورونا کی وبا پر قابو پانا ممکن

02 جون 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور آج بھی مزید نئے کیسز اور اموات کے بعد ملک میں مصدقہ کیسز کی تعداد 78 ہزار 249 جبکہ اموات 1652 تک پہنچ گئی ہیں۔

کیسز میں تیزی سے اضافے کے متعدد عناصر ہوسکتے ہیں مگر ان میں سب سے بڑی وجہ لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا ہے، یعنی گھر سے باہر فیس ماسک کو پہننے سے گریز اور سماجی دوری یعنی لوگوں سے چند فٹ دوری کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

کووڈ 19 جیسے وبائی امراض کو قابو پانے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوسکتا ہے مشکل ہو یعنی دیگر افراد سے 6 فٹ دور رہنا، گھر سے باہر فیس ماسکس کا استعمال وغیرہ۔

مگر معتبر طبی جریدے دی لانسیٹ میں میں سائنسدانوں نے اب تک کے مضبوط ترین شواہد پیش کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چند عام چیزوں پر عمل کرکے وائرس کے پھیلنے کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

بین الاقوامی سائنسدانوں کی اس تحقیق کی سربراہی کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہولگر شکیونمین نے کی اور اس میں 16 ممالک میں ہونے والی 172 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا جن میں سماجی دوری، فیس ماسکس کے استعمال اور آنکھوں کو ڈھانپنے سمیت وائرس کے پھیلنے کے خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ان رپورٹس میں کووڈ 19 کے ساتھ ساتھ دیگر 2 کوورونا وائرسز کی وبائیں یعنی سارس اور مرس کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔

یہ سب تحقیقی رپورٹس مشاہداتی تھیں یعنی ان میں بیماری کے پھیلنے کی شرح کو ایسے افراد میں دیکھا گیا تھا جو کسی قسم کی احتیاطی تدبیر پر عمل کرتے تھے۔

172 میں سے 44 رپورٹس (جن میں 25 ہزار سے زائد افراد شامل تھے) میں ایسے افراد کا موازنہ بھی کیا گیا جو احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے تھے یا ان سے دور رہتے تھے۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ جب سماجی دوری پر عمل کیا جاتا ہے جس کے دوران لوگوں سے ایک میٹر یا 3 فٹ سے کچھ دور رہتے ہیں تو متاثرہ فرد سے بیماری کی منتقلی کا خطرہ 3 فیصد ہوتا ہے جبکہ ایک میٹر سے کم دوری پر یہ خطرہ 13 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

اسی طرح اگر لوگوں کے درمیان فاصلہ 3 میٹر تک ہو تو یہ خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہولگر شکیونمین کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر پہلو کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ لوگوں کے درمیان کتنا فاصلہ وائرس کی روک تھام کے لیے موثر ہے اور ہم نے دریافت کیا کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ 2 فت یا 6 سے 7 فٹ کا فاصلہ ایک میٹر یا 3 فٹ کے مقابلے میں زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ طبی عملے کو اپنی آنکھوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہیے کیونکہ حفاظتی چشمے یا دیگر فیس شیلڈز سے بیماری کا خطرہ 6 فیصد رہ جاتا ہے جو کسی قسم کے تحفظ کے بغیر 16 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

ان تمام تحقیقی رپورٹس ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا جو گھروں میں کسی مریض کے ساتھ مقیم تھے۔

محققین نے دیکھا کہ کورونا کے مریض کے کتنے قریب رہنے سے خطرہ ہوسکتا ہے اور کتنا دور رہنا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ فیس ماسک اور آنکھوں کو تحفظ دینے سے خطرہ کتنا کم ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر ہولگر شکیونمین نے کہا 'ہم احتیاطی تدابیر کا اثر دیکھ کر دنگ رہ گئے، وبائی بیماریوں میں ہم اکثر معمولی اثرات دیکھتے ہیں، مگر اس میں ہم نے جو اثرات دیکھے وہ بڑے یا بہت زیادہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے موجودہ طبی ہدایات کی حمایت کی گئی ہے جو کووڈ 19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جاری کی گئی ہیں، مگر مزید تفصیلی تحقیق کی بھی ضرورت ہے، جیسے یہ ابھی واضح نہیں کہ کچھ جگہوں پر ایک میٹر کا فاصلہ بھی موثر ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی پرہجوم مقام پر لوگوں کے درمیان زیادہ فاصلے کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ مثالی فاصلہ کتنا ہونا چاہیے۔

محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کے درمیان کپڑے سے بنے فیس ماسک کا استعمال موثر ثابت ہوسکتا ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی جانب سے وائرس کو آگے پھیلانے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ صحت مند لوگ بھی وائرس سے بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی احتیاط نہ کرنے سے بہتر ہے کہ گھر میں تیار کردہ ہی ماسک پہن لیں۔