آئی جی پنجاب کے تبادلے کے خلاف درخواست برقرار رکھنے کیلئے دلائل طلب

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

وفاقی اور صوبائی حکومت کے لا افسران نے بھی درخواست برقرار رکھنے کی مخالفت کی — فائل فوٹو: وکیمیڈیا
وفاقی اور صوبائی حکومت کے لا افسران نے بھی درخواست برقرار رکھنے کی مخالفت کی — فائل فوٹو: وکیمیڈیا

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب اور کیپٹل پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور کے قبل از وقت تبادلے کے خلاف دائر درخواست برقرار رکھنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لا افسران اور درخواست گزار کے وکیل سے مزید دلائل مانگ لیے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد احمد خان کی دائر کردہ درخواست پر 'اعتراض' کی سماعت کی کیوں کہ رجسٹرار آفس نے معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے آئین کی دفعہ 199 کے تحت درخواست کے اختیار پر سوال اٹھایا تھا۔

سماعت کے آغاز میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے لا افسران نے بھی درخواست برقرار رکھنے کی مخالفت کی اور کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی جی پنجاب کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

آئین کی دفعہ 212 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ سول سرونٹس کے تبادلوں، ترقیوں سے متعلق معاملات کو براہ راست ہائی کورٹ نہیں لایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے معاملات دیکھنے کے لیے سروس ٹریبونل مناسب فورم ہے۔

عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے درخواست گزار نے کہا کہ پٹیشن میں اٹھایا گیا سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت کے لیے ہر کیس اہم ہے اور درخواست گزار سے استفسار کیا کہ وہ اس کیس میں کس طرح ایک متاثرہ فریق ہیں۔

جسٹس قاسم خان نے مزید دریافت کیا کہ کیا انہیں صوبائی اسمبلی میں قرار داد منظور کر کے درخواست دائر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سی سی پی او لاہور سے اختلافات: آئی جی پنجاب تبدیل، انعام غنی کو ذمہ داری سونپ دی گئی

محمد احمد خان نے کہا کہ درخواست میں اٹھایا گیا سوال ایک افسر کے تبادلے کا نہیں تھا بلکہ پولیس آرڈر 2020 کی خلاف ورزی کا ہے اور ہر شہری کو اسے چیلنج کرنے کا اختیار ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس قاسم خان نے سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے اس بیان کو دہرایا جو انہوں نے عدالت میں دیا تھا کہ انسانی لحاظ سے قانون کا مکمل نفاذ ممکن نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے سابق پولیس افسر کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ 'کیا اس سوچ کا حامل افسر فورس کی سربراہی کرسکتا ہے؟'

چیف جسٹس نے اس بات پر برہمی کا اظہار بھی کیا جب لا افسران نے درخواست کو برقرار رکھنے کے لیے تفصیلی دلائل دینے کے لیے وقت مانگا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘سی سی پی او کے ہٹائے جانے تک’ آئی جی پی پنجاب نے فرائض انجام دینے سے انکار کردیا

انہوں نے کہا کہ لا افسران نے کبھی اس موقع پر وقت نہیں مانگا جب وہ کسی پارلیمینٹیرین کے کہنے پر ہونے والے تبادلے کا دفاع کرنے آتے ہیں۔

تاہم انہوں نے سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی اور دونوں فریقین کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ آئی جی پنجاب کے تبادلے کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ پولیس فورس میں قبل از وقت تبادلے پولیس آرڈر (2002) اور پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس کی خلاف ورزی ہے۔

پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت پنجاب نے پولیس آرڈر (2002) پر عملدرآمد کے بجائے پولس کو مزید سیاسی بنادیا گیا اور قانون پسند اور آزاد خیال ذہنیت رکھنے والے افسران کو ان کی آزادی اور قانون کی طرف سے فراہم کردہ مدت کے تحفظ کی پرواہ کے بغیر باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔

مذکورہ درخواست کے مطابق پنجاب پولیس نے 2 سال میں 6 آئی جیز تبدیل کیے اور ان کی اوسط مدت 4 ماہ رہی، اعلیٰ ترین عہدیداروں کی بار بار اور من پسند تبادلوں کے باعث پولیس فورس میں ناراضی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گزشتہ 2 برسوں میں 3 سی سی پی اوز کا تقرر اور تبادلے کیے گئے۔

عدالت میں دائر اس درخواست میں استدعا کی گئی کہ پروونشل پولیس افسر (پی پی او) اور سی سی پی اوز کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ یہ 'غیر آئینی' ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ عدالت یہ قرار دے کہ صوبائی حکومت کو صرف پی پی او کی سفارش پر ہی سی سی پی او تعینات کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ 8 ستمبر کو پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئی جی کو تبدیل کرتے ہوئے شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو نیا آئی جی پولیس تعینات کردیا گیا تھا۔

شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی تھی۔

اس سے قبل یہ رپورٹس آئی تھیں کہ شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کو حال ہی میں لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کے تقرر پر تحریک انصاف کی حکومت کے تحت کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔