پی ایچ اے ہاؤسنگ اسکیم میں مہنگے یونٹوں سے عوام مایوس

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

ہاؤسنگ یونٹس کے چاروں کیٹیگریز میں مکانات کی قیمتیں 40 لاکھ روپے سے ایک کروڑ 30 لاکھ روپے تک ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
ہاؤسنگ یونٹس کے چاروں کیٹیگریز میں مکانات کی قیمتیں 40 لاکھ روپے سے ایک کروڑ 30 لاکھ روپے تک ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

پشاور: پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی (پی ایچ اے) اسکیم میں ہاؤسنگ یونٹوں کی حیرت انگیز قیمتوں سے مقامی لوگوں اور سرکاری ملازمین میں مایوسی پھیل گئی جس کے بارے میں انہیں وزیر اعظم عمران خان کے نظریے کے مطابق کم قیمت والے مکانوں کی توقع تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے اس سے قبل ملک میں رہائشی مکانات کی کمی کو دور کرنے کے لیے پورے ملک میں 50 لاکھ کم قیمت والے گھروں کا اعلان کیا تھا۔

تاہم پی ایچ اے ریسیڈنشیا پشاور کے ادائیگی کے منصوبے کے اعلان، جس میں بھاری بھرکم ادائیگی اور قسطیں شامل ہیں، سے مقامی افراد میں ناراضی اور غم و غصہ پایا گیا ہے جنہوں نے اس اسکیم کے تحت مکانات کے لیے درخواست دی تھی۔

درخواست دہندگان میں سے زیادہ تر ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں وہ نہ ڈاؤن پیمنٹ ادا کرسکتے ہیں اور ہی قسطیں جمع کرواسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کیلئے ہر گھر کو 3 لاکھ روپے کی سبسڈی ملے گی، عمران خان

چاروں کیٹیگریز میں مکانات کی قیمتیں 40 لاکھ روپے سے لے کر ایک کروڑ 30 لاکھ روپے تک ہیں جس سے ممبران حیران ہیں۔

یہ اسکیم صوبائی دارالحکومت کے جنوبی کنارے میں سوریزئی کے علاقے میں واقع ہے، یہ ایک بنجر علاقہ ہے جہاں کوئی آبادی نہیں اور فی الحال اس علاقے میں زمین کی قیمتیں بہت کم ہیں۔

قرعہ اندازی کے مرحلے میں کامیاب ہونے والے افراد کو 5 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کی رقم جمع کروانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

دوسری طرف وہ افراد جو قرعہ اندازی کے ذریعے ہاؤسنگ یونٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، وہ بھی ناراض ہیں کہ وہ نہ صرف مکانات حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ انہیں رجسٹریشن فیس کی مد میں دیے گئے 10 ہزار روپے کا نقصان بھی ہوا ہے۔

ہشت نگری میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر معاز خان نے نامہ نگار کو بتایا کہ اس مشکل وقت میں 10 ہزار روپے گٹر میں گر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس اسکیم کے ذریعے گھر کے مالک بننے کی اُمید کر رہے تھے لیکن یہ ایک وہم ثابت ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہزاروں کم آمدنی والے لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے جن کے اپنے گھر نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 279 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے امور کی تحقیقات کی ضرورت ہے، ایف آئی اے

انہوں نے 11 مرلہ کے مکان کے لیے درخواست دی تھی۔

معاز خان کا کہنا تھا کہ 50 ہزار روپے تنخواہ میں 10 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ اور 7 لاکھ روپے ہر سہہ ماہی پر ادا کرنا ان کی سوچ سے بالاتر ہے، 'یہ ہزاروں غریب عوام کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق لگتا ہے'۔

ایک اور مقامی انور حسین نے کہا کہ حکومت کی نیت اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ ادائیگی کے منصوبے کے بارے میں ابتدائی اشتہار میں ذکر نہیں کیا گیا تھا اور عوام کو تاثر دیا گیا تھا کہ انہیں کم قیمت والے مکان ملیں گے جیسا کہ وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا۔

انور حسین گزشتہ دو دہائیوں سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں۔

عبد المجید نے الزام لگایا کہ 'لوگوں کو اشتہار میں ادائیگی کے منصوبے کا نہ بتا کر حکومت نے دھوکہ دیا یہاں تک کہ چھوٹے نجی بلڈرز بھی اپنی اسکیموں کے اشتہار میں قیمت اور ادائیگی کا شیڈول جاری کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر حکومت قیمت اور ادائیگی کی قسطوں کا تفصیل سے ذکر کرتی تو میں اس ہاؤسنگ اسکیم کے لیے کبھی درخواست نہیں دیتا'۔

پی ایچ اے کی جانب سے ڈاؤن پیمنٹ کی ادائیگی اور سہ ماہی قسطوں کے بارے میں تفصیلات کے اجرا نے سوشل میڈیا پر بھی ایک بحث چھیڑ دی ہے۔

پی ایچ اے کے ایک رکن نے سوشل میڈیا پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی جو پی ایچ اے کے ڈائریکٹر، سیکریٹری یا اس سے متعلق وزیر سے ملاقات کرے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ عوامی مفاد میں کل قیمت، ڈاؤن پیمنٹ اور سہ ماہی قسطوں کو کم کریں۔

ایک اور ممبر نے مطالبہ کیا کہ سہ ماہی یا ماہانہ قسطوں کو ان کی مشترکہ یا انفرادی تنخواہ کے 50 فیصد سے کم ہونا چاہیے۔

پی ایچ اے نے اپنے آفر لیٹر کے ذریعے ممبران سے کہا کہ وہ 15 اکتوبر تک ہاؤسنگ یونٹ کے لیے 10 فیصد ڈاؤن پیمنٹ جمع کروایں، جس میں ناکامی پر پیش کش منسوخ ہوجائے گی اور ہاؤسنگ یونٹ دوسرے ممبران کو فہرست کے مطابق پیش کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ امجد علی نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ہاؤسنگ یونٹوں کی قیمتیں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہاؤسنگ یونٹ 'نہ منافع نہ خسارہ' کی بنیاد پر تعمیر کرے گی اور ممبران کو نہ صرف اراضی بلکہ ایک مکمل مکان بھی ملے گا۔