279 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے امور کی تحقیقات کی ضرورت ہے، ایف آئی اے

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2020

ای میل

ایف آئی اے کے مطابق 279 سوسائٹیز میں سے مجموعی طور پر 66 میں سے 38 وفاقی دارالحکومت میں ہیں۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
ایف آئی اے کے مطابق 279 سوسائٹیز میں سے مجموعی طور پر 66 میں سے 38 وفاقی دارالحکومت میں ہیں۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر 667 میں سے 279 کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے معاملات کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق از خود کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 279 سوسائٹیز میں سے مجموعی طور پر 66 میں سے 38 وفاقی دارالحکومت میں ہیں اور ان کی مزید تفتیش کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب زون-1 میں 98 میں سے 16 کی تحقیقات کے لیے سفارش کی گئی ہے جبکہ پنجاب زون-2 کے 42 میں سے 9 ریڈ لائن پر ہیں۔

سندھ زون-1 میں 282 میں سے 164 اور سندھ زون-2 میں 117 میں سے 41 گرے لسٹ میں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں 36 میں سے ایک کو تحقیقات کی ضرورت ہے اور بلوچستان میں 26 میں سے 10 کو تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار کردہ سفارشات پر سپریم کورٹ سے منظوری طلب کی ہے جن میں سے ایک صوبوں کے کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے تمام رجسٹرارز، صوبائی محکمہ قانون کے نمائندوں اور وفاقی وزارت قانون کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینا ہے۔

اس کمیٹی کو کوآپریٹو قوانین پر نظرثانی کرنے کا کام سونپا جانا چاہیے تاکہ قانون میں مناسب ترامیم کی تجویز کی جائے۔

اسی طرح سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پارٹنرشپ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ واحد ملکیتی اداروں اور اداروں کے رہائش کے منصوبے کے آغاز پر پابندی عائد کی جانی چاہیے اور اس کے بجائے صرف کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ کمپنیوں کو رہائش کے شعبے میں ترقیاتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔

اسی طرح وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ ریئل اسٹیٹ منصوبوں کے لیے عوام سے کمپنیوں کو ملنے والی ایڈوانس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 456 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

ایک سفارش میں صوبائی یا وفاقی سطح پر ایک مرکزی ایجنسی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو نجی اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ریگولیٹری امور کی دیکھ بھال کرے جس کے پاس تفتیشی اختیارات بھی ہونے چاہئیں تاکہ دھوکہ دہی اور اوور بکنگ کو روکا جاسکے۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ رہائشی املاک (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 2017) کے نام سے ہاؤسنگ سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کا بل سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ میں پیش کیا ہے۔

یہ بل جس کا سینیٹ کمیٹی جانچ جائزہ لے رہی ہے ایف آئی اے کی زیادہ تر سفارشات کا احاطہ کرے گا۔

ایف آئی اے نے عدالت عظمیٰ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ ترقیاتی حکام کو تمام بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز کی تیاری اور ان شہروں کی مستقبل میں توسیع کے دوران اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ہدایت جاری کرے۔

اسی طرح اتھارٹیز اور دیگر ریگولیٹرز کو بھی ضلعی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کمیٹیوں کے اجلاسوں کے انعقاد اور ڈیولپرز کی درخواستوں کے فیصلے کے لیے ہاؤسنگ منصوبوں کی منظوری کے لیے ونڈو آپریشن متعارف کروانی چاہیے۔

صوبوں کے تیار کردہ اراضی کے سب ڈویژن قوانین پر نظرثانی کی جائے اور اس میں ترمیم کی جائے اور تمام ترقیاتی حکام اور ریگولیٹرز کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ متعلقہ کمیٹیوں کے اجلاس فوری طور پر طلب کریں تاکہ ان کے پاس زیر التوا نجی اسکیموں کے کیسز کے اندراج کا فیصلہ کیا جاسکے۔