صحافی اسد طور کی حفاظتی ضمانت منظور، متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

16 ستمبر 2020

ای میل

—فوٹو: بشکریہ فیس بک
—فوٹو: بشکریہ فیس بک

اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی اسد علی طور کی ایک ہفتے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں اس دوران متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی اسد علی طور کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: صحافی اسد طور کے خلاف فوج مخالف 'منفی پروپیگنڈا' کرنے پر ایف آئی آر درج

عدالت نے ایک ہفتے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پٹیشنر کو اس عرصہ کے دوران متعلقہ کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ اسد طور نے اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اسد طور کے خلاف مقدمے کا اندراج

واضح رہے کہ 15 ستمبر کو اسلام آباد میں مقیم صحافی اسد طور نے ایف آئی آر کی ایک کاپی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر 'ریاست، پاکستانی اداروں اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا' پر مبنی مواد شیئر کیا تھا۔

راولپنڈی کے رہائشی حافظ احتشام احمد کی ایک شکایت پر اسد طور کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

مزید پڑھیں: پولیس نے ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی بلال فاروقی کو رہا کردیا

اسد طور کے خلاف درج ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 499 (ہتک عزت)، 500 (بدنامی کی سزا) اور 505 (بدعنوانی پر مبنی بیانات) اور پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعہ 37 (غیر قانونی آن لائن مواد) شامل کی گئیں ہیں۔

اسد طور نے ایف آئی آر کے اندراج کو 'مایوس کن پیش رفت' قرار دیا تھا۔

ایچ آر سی پی کا اظہار مذمت

بعد ازاں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اسد طور کے خلاف درج مقدمے کی مذمت کی تھی۔

ایچ آر سی پی نے بیان میں کہا تھا کہ 'صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اس طرح کے اقدامات سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ حکومت آزادی اظہار رائے کو دبا رہی ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ایچ آر سی پی مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جائے، حکومت اور ریاست دونوں درست اقدامات کریں'۔

واضح رہے کہ اسد طور کے خلاف یہ مقدمہ پچھلے چند دنوں میں صحافیوں کے خلاف درج ہونے والی تیسری ایسی شکایت ہے۔

مزید پڑھیں: سال 2019 بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کیلئے پریشان کن رہا!

اس سے قبل اسی طرح کی ایف آئی آر جہلم میں صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف بھی درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر چوہدری نوید احمد کی شکایت پر درج کی گئی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ابصار عالم نے وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے خلاف ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر 'انتہائی نازیبا' زبان استعمال کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ 'غداری' کے مترادف ہے۔

اس سے قبل کراچی میں پولیس نے سوشل میڈیا پر 'قابل اعتراض' مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون سے وابستہ صحافی بلال فاروقی کو گرفتار کرلیا تھا۔

ایک شہری جاوید خان کی شکایت پر بلال فاروقی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 اور 505 اور پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 11 اور 12 کے تحت ایف آئی درج کی گئی تھی۔

بلال فاروقی پر الزام تھا کہ انہوں نے 'انتہائی قابلاعتراض مواد' اپنے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔

شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ بلال فاروقی کی جانب سے پاکستان آرمی اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد کی حامل انتہائی اشتعال انگیز پوسٹ شیئر کی گئیں تھیں۔