سال 2019 بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کیلئے پریشان کن رہا!

اس سال بھی پاکستان میں آزادی صحافت کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹس کچھ اچھی صورتحال ظاہر نہیں کرتیں۔
شائع 24 دسمبر 2019 05:40pm

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافت کو درپیش مشکلات کی طویل تاریخ موجود ہے کئی عشروں قبل اخبارات سے خبریں نکال دینے کا عمل اب اخبارات کی رسائی اور چینلز کو بند کرنے کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔

سال 2019 میں بھی ملک میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں صحافیوں پر دباؤ یا آزادانہ رپورٹنگ پر قدغن عائد کی گئی تاہم اس کے باجود صحافتی ادارے بالخصوص ڈان تمام تر دباؤ اور مخالفت کے باجود ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرتے ہوئے متعدد اعزازات حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اس سال بھی پاکستان میں آزادی صحافت کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹس کچھ اچھی صورتحال ظاہر نہیں کرتیں۔

تاہم 2019 میں پاکستان میں صحافیوں کے خلاف نیا رجحان دیکھنے میں آیا اور ایک خاص طریقے سے حکومت مخالف رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی کردار کشی کی منظم مہمات سوشل میڈیا پر چلائی گئیں۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے میڈیا کورٹس کے قیام کا حیرت انگیز اعلان سامنے آیا، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق ان عدالتوں کا مقصد میڈیا انڈسٹری کے تنازعات کو ان خصوصی عدالتوں میں لے جانا ہے تاکہ فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کے درجے میں 3 درجے تنزلی ہوئی —تصویر:شٹراسٹاک
آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کے درجے میں 3 درجے تنزلی ہوئی —تصویر:شٹراسٹاک

حکومت کے اس اعلان کی صحافی برادری اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور مخالفت کی گئی جس کے بعد میڈیا کورٹس کا معاملہ پسِ پشت ڈالتے ہوئے حکومت نے میڈیا مالکان کی حکومت کے ساتھ شکایات اور میڈیا کارکنان کی ملازمتوں، تنخواہوں اور کچھ صحافیوں کی جانب سے ایک خاص نقطہ نظر پیش کیے جانے جیسے معاملات کو حل کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اس کے علاوہ سال 2019 میں صحافیوں، آزادی صحافت، میڈیا اداروں کے خلاف کیا واقعات رونما ہوئے اور ملک میں صحافت کا منظر نامہ کیا رہا؟ اس کا ذکر ہم اس رپورٹ میں کررہے ہیں۔

پاکستان میں صحافت پر بین الاقوامی رپورٹس

پاکستان کے درجے میں تنزلی

رواں برس اپریل میں میڈیا نگرانی کے عالمی ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے صحافتی آزادی کے حوالے سے ممالک کی درجہ بندی فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان اپنے پرانے درجے سے 3 درجے تنزلی کا شکار ہوگیا تھا۔

آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کو سینسر شپ کے کڑے معاملات کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص عام انتخابات کے دوران، اس کے ساتھ اخبارات کی تقسیم میں رکاوٹیں حائل ہوئیں، ذرائع ابلاغ کو اشتہارات واپس لینے کے لیے دھمکایا گیا جبکہ کچھ ٹی وی چیننلز کے سگنلز بھی بند کردیے گیے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نئی حکومت نے گزشتہ برس پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا جس کے نام میں موجود لفظ ’ریگولیشن‘ واضح طور پر سینسر شپ کو ظاہر کرتا ہے اور کہا تھا کہ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کام کرنے والے صحافی سب سے زیادہ خطرات کی زد میں ہیں۔

6 برسوں میں 33 صحافی قتل

ایک اور تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان بھر میں 6 برس میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران 33 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ گزشتہ برس نومبر سے رواں سال اکتوبر کے دوران 7 صحافی قتل ہوئے۔

2019 میں ممالک میں صحافیوں کے غیر حل شدہ قتل کی تعداد—اسکرین شاٹ سی پی جے
2019 میں ممالک میں صحافیوں کے غیر حل شدہ قتل کی تعداد—اسکرین شاٹ سی پی جے

پاکستان امپیونٹی اسکور کارڈ کے مطابق 2013 سے 2019 کے درمیان 33 صحافیوں میں سے 32 کے قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی جس میں پولیس صرف 20 کیسز یا 60 فیصد کیسز میں چارج شیٹ جمع کراسکی۔

رپورٹ کے مطابق 33 مقدمات میں سے عدالتوں نے صرف 20 کیسز کو ٹرائل کے لیے موضوع قرار دیا جبکہ ان میں سے صرف 6 مقدمات یعنی 18 فیصد میں پروسیکیوشن اور ٹرائل مکمل ہوا۔

جن 6 مقدمات کا ٹرائل مکمل ہوا ان میں سے صرف ایک میں قاتل کو سزا ہوئی لیکن وہ بھی اپیل دائر کرنے کے بعد سزا سے بچنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد مقتول صحافی کے اہلِ خانہ وسائل کی کمی کے باعث انصاف کے حصول سے پیچھے ہٹ گئے۔

حکومتی اراکین کا میڈیا کے ساتھ نامناسب رویہ

سیاسی جماعتیں اپنے خلاف بات کرنے والے صحافیوں کو عموماً پسند نہیں کرتیں اور ماضی میں بھی ان کی جانب سے مخصوص چینلز یا میڈیا گروپس کے بائیکاٹ کی نظیر موجود ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جنگ میڈیا گروپ کا اعلانیہ جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اے آر وائے نیوز کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔

جس کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے ان میڈیا گروپس کو مخالف مہم کا حصہ تصور کرتے ہوئے نشانہ بنانے کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔

تاہم حکومتی اراکین کی جانب سے بھی بعض اوقات میڈیا کے ساتھ تعصبانہ رویے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور رواں برس بھی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اور وزرا کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات منظر عام پر آئے جو درج ذیل ہیں:

حکومتی اراکین کی جانب سے بھی میڈیا اراکین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے —تصویر: سی پی جے
حکومتی اراکین کی جانب سے بھی میڈیا اراکین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے —تصویر: سی پی جے

2 جنوری کو وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایل این جی کنٹریکٹ اور مہمند ڈیم کے ٹھیکے میں شفافیت سے متعلق سوال پوچھنے پر ڈان اخبار سے منسلک صحافی سے بدتمیزی کی۔

فیصل واڈا، صحافی کا سوال سن کر آگ بگولا ہوگئے اور صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آپ کے ادارے سے اسی سوال کی امید کر رہا تھا آپ ہمارے بزرگ ہیں، اگر آپ کی جگہ آپ کے ادارے کا کوئی دوسرا نمائندہ ہوتا تو میں یہ مائیک اٹھا کر سائیڈ میں رکھ دیتا۔

8 جنوری کو رہنما جماعت قاضی حسین احمد کی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی میڈیا نمائندوں سے تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

ایک صحافی نے ان سے جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق کے ریاست مدینہ کے حوالے سے دیے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا تو فیاض الحسن چوہان اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے اور جواب دینے کے بجائے میڈیا کو بے شرم قرار دیا اور کہا کہ میڈیا شتر بے مہار ہوگیا ہے۔

3 ستمبر کو کینسر میں مبتلا زیر علاج صحافی سے متعلق ’تضحیک آمیز‘ زبان استعمال کرنے پر وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید پر نیشنل پریس کلب میں آمد اور ان کی پریس کانفرنسز پر عارضی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

نیشنل پریس کلب کے صدر کو زیر علاج صحافی نے آگاہ کیا تھا کہ شیخ رشید نے چند روز قبل ہسپتال کا دورہ کیا اور جب ایک صحافی نے شیخ رشید کو مطلع کیا کہ کینسر میں مبتلا ایک صحافی بھی اسی ہسپتال میں زیر علاج ہیں تو وفاقی وزیر نے ’توہین آمیز جملے کہے جس سے ان کے جذبات مجروح‘ ہوئے۔

5 ستمبر کو شیخ رشید پر لاہور پریس کلب میں بھی داخلے پر عارضی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

14 جون کو وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے ایک شادی کی تقریب میں صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کا واقع پیش آیا تھا۔

جس کا جواز پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ انہوں نے تھپڑ اس لیے مارا کیوں کہ انہوں نے انصاف کے لیے ہر حکومتی دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن کہیں ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔

24 جون کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما مسرور سیال کی جانب سے سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران پر لائیو ٹی وی شو کے دوران حملہ کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا۔

نجی چینل کے پروگرام میں امتیاز فاران کی جانب سے بطور تجزیہ کار پشاور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے سے متعلق بات کرنے پر مسرور سیال طیش میں آگئے تھے جس کے بعد پہلے دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور پھر پی ٹی آئی رہنما نے سینئر صحافی پر حملہ کیا اور ان کے لیے نامناسب زبان کا استعمال کی اور ساتھ ہی سینئر صحافی پر جانبدارانہ تجزیہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے پر پریس کلب کی تنظیموں کی جانب سے تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں پر 3 دن کے لیے کراچی، لاہور پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی دوسری جانب حکومتی جماعت پی ٹی آئی نے سینئر صحافی پر تشدد کرنے والے اپنے رہنما کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کے بعد پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی۔

جس کے چند روز بعد مسرور سیال نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنے طرز عمل پر پوری صحافی برادری سے معافی مانگی لی تھی۔

13 دسمبر کو وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی صحافی کی جانب سے اپنی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے پر سیخ پا ہوگئے اور صحافی سے نامناسب رویہ اختیار کیا۔

سوال کرنے پر انہوں نے پہلے تو غیر مہذبانہ لہجے میں جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ناراض ہوجائیں میں جواب نہیں دوں گا۔

بعد ازاں جب صحافی نے اپنے سوال کے حوالے سے مزید کچھ کہا تو انہوں نے نو کمنٹس کے ریمارکس دے دیے، ان کے اس غیر مہذبانہ رویے پر صحافیوں نے برہمی کا اظہار کیا۔

رواں سال قتل ہونے والے صحافی

دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں صحافیوں کو اکثر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فرض کی راہ میں کئی صحافیوں نے اپنی جان بھی قربان کی یہ سلسلہ 1994 میں روزنامہ تکبیر سے منسلک محمد صلاح الدین کے رپورٹ ہونے والے پہلے قتل کے بعد سے اب تک جاری ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 برس میں صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے 33 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ گزشتہ برس نومبر سے رواں سال اکتوبر کے دوران 7 صحافی قتل ہوئے۔

ڈان اخبار کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان میں سال 2002 سے اب تک 72 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا گیا اور سوائے چند کیسز کے دیگر کیسز میں نہ تو ملزم گرفتار ہوئے نہ ہی مقدمے کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

اس سال جو صحافی قتل کیے گئے ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

رواں برس قتل ہونے والے صحافی
رواں برس قتل ہونے والے صحافی

ملک امان اللہ خان

30 اپریل کو خیبر پختونخو کے شہر ڈیرہ اسمعٰیل خان میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے ایک مقامی رپورٹر اور پرووا پریس کلب کے چیئرمین ملک امان اللہ خان کو فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا، ان کے والد کے مطابق ان کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔

علی شیر راجپر

4 مئی کو روزنامہ عوامی آواز سے وابستہ علی شیر راجپر کا قتل ہوا جو پریس کلب کے رکن بھی تھے ان کے قاتل جائے وقوع سے فرار ہوگئے تھے اور ان کے بھی قتل کی وجوہات سامنے نہ آسکیں۔

مرید عباس

9 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بول ٹی وی سے وابستہ اینکر پرسن مرید عباس کو ایک شخص نے لین دین کے تنازع پر فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا جبکہ واقعے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کے باجود مقدمے میں کوئی خاص پیش رفت اب تک نہیں ہوسکی۔

محمد بلال خان

17 جون کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، بلاگر اور وی لاگر محمد بلال خان کو بہانے سے گھر سے باہر بلا کر چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

عروج اقبال

25 نومبر کو لاہور میں مقامی اخبار سے وابستہ ایک خاتون صحافی 27 سالہ عروج اقبال کو ان کے دفتر کے باہر سر پر گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا، پولیس نے مقدمے میں ان کے شوہر کو نامزد کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر ان پر ملازمت چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور خاتون نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروا رکھی تھی۔

صحافیوں پر حملوں کے واقعات

اس کے علاوہ رواں سال صحافیوں پر حملے کے بھی متعدد واقعات منظر عام پر آئے جو مندرجہ ذیل ہیں:

20 مارچ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے حمایتیوں نے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ کیمرا مین اور نیشنل پیرس کلب کے جوائنٹ سیکریٹری شیراز گردیزی پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیا تھا، جو پی پی پی چیئرمین کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر باہر ہونے والے احتجاج کی کوریج کے لیے وہاں موجود تھے۔

25 اپریل کو شکار پور میں مبینہ طور پر بروہی قبیلے کے مسلح افراد نے سینئر صحافی وحید پھلپوٹو کے گھر پر حملہ کیا تھا، صحافی کے مطابق ملزمان ان سے گزشتہ 2 ماہ سے بھتہ طلب کررہے تھے لیکن انہوں نے دینے سے انکار کیا تھا جس پر انہوں نے گھر پر حملہ کر کے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

فرائض کی انجام دہی کے موقع پر بھی صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے —تصویر: اے ایف پی
فرائض کی انجام دہی کے موقع پر بھی صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے —تصویر: اے ایف پی

27 اپریل کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے افسران نے نجی ٹی وی نیوز ون کے کورٹ رپورٹر شوکت کورائی کو سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیے گئے ملزمان (جن کے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے) کی فوٹیج بنانے پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا تھا، صحافی کے مطابق پولیس افسران نے ان کا فون چھین لیا اور انہیں زبردستی پولیس اسٹیشن لے جانے کی کوشش کی اسی چھینا جھپٹی میں ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔

23 جولائی کو ٹی وی چینل 41 اور 24 نیوز کے رپورٹرز محمد طیب، علی رضا اور کیمرا مین وقاص احمد کو سپریم کورٹ بار کونسل کے سیکریٹری منیر شاہد سمیت وکلا کے گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، مذکورہ واقعے کا تعلق اس سے کچھ روز پہلے پیش آنے والے واقعے سے تھا۔

پولیس کی وردیوں میں کچھ افراد عوام سے رشوت لے رہے تھے جس کی کوریج کرنے پر منیر شاہد کے ہیڈ کانسٹیبل بھائی نے صحافیوں پر حملہ کیا تھا جس پر صحافیوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ان کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے بعد 25 جولائی کو بھی وکلا کے ایک گروپ نے ٹیلیویژن چینل سٹی 42 کے کیمرا مین اور رپورٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جو پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو بنا رہے تھے، رپورٹر شاہین عتیق اور ناصر سون کے سیشن کورٹ پہنچنے پر انہوں نے کیمرا چھینا اور کہا کہ سیشن عدالت میں صحافیوں کا داخلہ بند ہے، بعدازاں ناصر کو وین سے اتار کر بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈان اخبار کے خلاف احتجاج

رواں برس لندن میں ہوئے ایک حملے میں چاقو مار کر 2 افراد کو قتل اور 3 کو زخمی کرنے والے برطانوی شہری کے پاکستانی نژاد ہونے حوالے سے خبر دینے پر ڈان اخبار کے اسلام آباد میں موجود دفتر کا گھیراؤ کیا گیا تھا۔

میڈیا ہاؤس کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈز کو گیٹ لاک کرنا پڑے—تصویر: پرویز بنبھن ٹوئٹر
میڈیا ہاؤس کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈز کو گیٹ لاک کرنا پڑے—تصویر: پرویز بنبھن ٹوئٹر

احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین نے ڈان اخبار کے خلاف بیننرز اٹھا کر نعرے بازی بھی کی اور عملے کو عمارت کے اندر محصور کر کے 3 گھنٹے تک دفتر کے باہر موجود رہے، انہوں نے ملازمین کو عمارت کے اندر داخل ہونے اور باہر نکلنے سے بھی روک دیا تھا جبکہ دفتر آنے والے ڈان اخبار اور ڈان نیوز ٹی وی کے کچھ ملازمین کے ساتھ بد تمیزی بھی کی گئی۔

بعدازاں 6 دسمبر کو دوبارہ اسلام آباد بیورو کا گھیراؤ کر کے ڈان میڈیا گروپ کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے نعرے بازی کی اور اس دوران ڈان اخبار کی کاپیاں بھی نذر آتش کردیں۔

قبل ازیں اسی روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلام آباد میں ڈان کے دفاتر کا محاصرہ کرنے کے معاملے کا جائزہ لے اور اگر اس میں کوئی جرائم پیشہ عناصر' ملوث ہیں تو اس کی تحقیقات کی جائے۔

اظہار یکجہتی کے مظاہرہ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں ڈان کے دفاتر اور پریس کلب کے باہر کیے گئے—تصویر قرۃالعین صدیقی
اظہار یکجہتی کے مظاہرہ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں ڈان کے دفاتر اور پریس کلب کے باہر کیے گئے—تصویر قرۃالعین صدیقی

ڈان کے خلاف اس قسم کے واقعات سامنے آنے پر صحافی برادری کی جانب سے ڈان سے اظہار یکجہتی کے لیے اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں ڈان کے دفاتر کے باہر اور مقامی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر صحافیوں کی کردار کشی کی منظم مہم

صحافیوں کو عموماً غیر جانب دارانہ تجزیوں یا حقائق پیش کرنے پر حکومت، سیاسی جماعتوں حتیٰ کہ عوام کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن رواں برس صحافیوں کے خلاف سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک سے زائد مرتبہ ہیش ٹیگز کی منظم مہم چلائی گئیں۔

رواں برس مارچ میں معروف صحافی غریدہ فاروقی کو نیوزی لینڈ میں ہونے والے کرائسٹ چرچ سانحے کے ملزم کی پاکستان آمد کے موقع پر لی گئی تصویر ٹوئٹ کرنے پر آن لائن ہراساں کرنے کی مہم کا نشانہ بنایا گیا جس میں انہیں غدار کہا گیا، انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، کردارکشی کی گئی بلکہ انہیں قتل کرنے تک کی دھمکی دی گئی۔

جس کے خلاف خاتون اینکر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں شکایت درج کروائی بلکہ وزیراعظم عمران خان اور اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو خط لکھ کر سیکیورٹی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر میڈیا کے خلاف مہم میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹس سے بھی ٹوئٹس کی گئیں تھی—تصویر: شٹراسٹاک
سوشل میڈیا پر میڈیا کے خلاف مہم میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹس سے بھی ٹوئٹس کی گئیں تھی—تصویر: شٹراسٹاک

بعدازاں مختلف صحافیوں کے خلاف دشنام طرازی پر مبنی غیر مہذبانہ ہیش ٹیگز کے پہلے سلسلے کا آغاز 24 اپریل کو ہوا جس کے تحت نازیبا القابات اور تدوین شدہ تصاویر کی مدد سے ماروی سرمد، مبشر زیدی اور عمر چیمہ کو نشانہ بنایا گیا۔

جس کے بعد 26 اپریل کو مزید 7 صحافیوں کو بدسلوکی اور ہتک آمیز مواد کا سامنا کرنا پڑا جس میں سلیم صافی، ارشد وحید چوہدری اور فخردرانی شامل ہیں، اس کے ساتھ ہی ان پر اپوزیشن جماعتوں سے رقم وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر تحقیق کرنے والے سعید رضوان کے مطابق ٹوئٹر صارفین نے ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے ان ہیش ٹیگز کو مقبول کیا گیا، ان ٹرینڈز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ماروی سرمد کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران صرف 2 گھنٹے کی مختصر مدت میں 11 ہزار ٹوئٹس کی گئیں۔

سوشل میڈیا پر ان ہیش ٹیگز کو ایک نیٹ ورک کے ذریعے مقبول کیا گیا—گرافک: رضوان سعید
سوشل میڈیا پر ان ہیش ٹیگز کو ایک نیٹ ورک کے ذریعے مقبول کیا گیا—گرافک: رضوان سعید

بعدازاں جولائی کے آغاز میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں صحافیوں کو گرفتار کرنے کے حوالے سے ہیش ٹیگ ArrestAntiPakjournalists# یعنی ’پاکستانی صحافیوں کو گرفتار کرو' ٹاپ ٹرینڈ بنا جسے 28 ہزار مرتبہ ٹوئٹس میں استعمال کیا گیا تھا۔

ڈیجیٹل رائٹس گروپ 'بائٹس فار آل' کے شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ ’یہ ہیش ٹیگ، پی ٹی آئی کے حمایتی اکاؤنٹس کی سازش لگتی ہے جو عام عوام کی رائے نہیں ہے‘۔

جس کے بعد 16 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آفیشل اکاؤنٹ سے انگریزی اور اردو میں دو درجن سے زائد ٹوئٹس کیے گئے جن میں پریس کی جانب سے ناقدانہ کوریج پر تنقید کی گئی اور ممکنہ طور پر ریاست مخالف قرار دیا گیا، اس روز ٹاپ ٹرینڈز میں کم از کم 4 ہیش ٹیگز میں صحافت کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سے 2 ہیش ٹیگز سب سے اوپر تھے۔

اس قسم کے ایک ہیش ٹیگ '#جرنلزم ناٹ ایجنڈا' کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ اس ٹرینڈ میں حصہ لینے والے دیگر اکاؤنٹس بھی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ونگ کے متعدد دھڑوں سے تعلق رکھتے تھے۔

تاہم بعد میں پی ٹی آئی نے میڈیا کے خلاف ڈیجیٹل مہم سے لاتعلقی اختیار کرلی جس میں میڈیا کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو ممکنہ ’غداری‘ کہا گیا تھا۔

رواں برس گرفتار ہونے والے صحافی

رضوان رضی

9 فروری کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی چینل 'دن نیوز' کے سینئر صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹوئٹر پر عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف مبینہ طور پر ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

تفتیش کے دوران رضوان رضی کا موبائل ضبط کرکے ڈیٹا کی فرانزک رپورٹ بھی حاصل کی گئی—تصویر: فیس بک
تفتیش کے دوران رضوان رضی کا موبائل ضبط کرکے ڈیٹا کی فرانزک رپورٹ بھی حاصل کی گئی—تصویر: فیس بک

تحقیقاتی ادارے کی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ رضوان رضی نے ‘اعتراف’ کیا کہ انہوں نے عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف پوسٹس کی ہیں جس پر وہ ‘بہت شرمندہ ہیں’ اور معذرت بھی کر لی اور وعدہ کیا کہ ‘وہ آئندہ عدلیہ، پاکستان آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیز اور دیگر اداروں کے خلاف اس طرح کی نفرت انگیز اور ہتک آمیز پوسٹس نہیں کریں گے’۔

بعدازاں 11 فروری کو ایف آئی اے کی جانب سے صحافی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض سینئر صحافی کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

گوہر وزیر

28 مئی کو خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں سے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے کم از کم 22 کارکنان کو حراست میں لے کر ہری پور جیل بھیج دیا گیا تھا جن میں ایک صحافی گوہر وزیر بھی شامل تھے۔

سی پی جے نے حکام سے گوہر وزیر کو فوری اور بلا مشروط رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا—تصویر: فیس بک
سی پی جے نے حکام سے گوہر وزیر کو فوری اور بلا مشروط رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا—تصویر: فیس بک

ان کی گرفتاری پر صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'منگل کو بنوں سے حراست میں لیے جانے والے خیبر نیوز کے رپورٹر گوہر وزیر نے ایک روز قبل رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ کا انٹرویو کیا تھا'۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'گوہر وزیر کو محض خبر رپورٹ کرنے پر حتیٰ کہ متنازع معاملات مثلاً پشتون تحفظ موومنٹ کی رپورٹ کرنے پر حراست میں نہیں لیا جانا چاہیے تھا'۔

مطلوب حسین

30 مارچ کو کراچی میں روزنامہ جنگ اخبار کے رپورٹر مطلوب حسین موسوی کے بھائی منہاج موسوی نے دعویٰ کیا تھا کہ 'تقریباً دو درجن افراد صبح 4 بجے کے لگ بھگ سلمان فارسی سوسائٹی میں واقع ان کے گھر کی دیواریں پھلانگ کر داخل ہوئے اور ان کے بھائی کو لے گئے جبکہ نامعلوم افراد نے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے'۔

متعدد میڈیا اداروں نے مطلوب کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا—تصویر: فیس بک
متعدد میڈیا اداروں نے مطلوب کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا—تصویر: فیس بک

بعدازاں 7 مئی کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ قتل میں ملوث ہونے پر معروف اردو اخبار سے منسلک صحافی سمیت 5 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ مطلوب حسین پر بیرونِ ملک سے تربیت لینے اور ایک سرکاری ویب سائٹ سے شخصیات کی فہرست ڈاؤن لوڈ کر کے غیر ملکی افراد کو دینے کا الزامات ہیں جو ممکنہ طور پر ان کی ٹارگٹ کلنگ کرسکتے تھے۔

شاہ زیب جیلانی

اپریل میں معروف صحافی شاہ زیب جیلانی کے خلاف مولوی اقبال حیدر کی درخواست پر 2017 میں دنیا ٹی وی کے ایک پروگرام کے دوران حساس اداروں کے خلاف نامناسب ریمارکس دینے اور وہی ریمارکس دوبارہ 2019 میں دہرانے کا الزام عائدکر کے سائبر ٹیررازم کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شاہ زیب علی جیلانی کے وکیل سلمان مرزا نے ایف آئی آر میں درج الزامات کو قطعی مسترد کیا اور کہا تھا کہ ٹی وی شوز اور ٹوئٹر پر دیئے گئے بیان سائبر دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ یہ پاکستان الیکڑونک کرائم ایکٹ 2016 کی دفعہ 6، 7، 8 اور 9 سے منسلک نہیں ہیں۔

شاہ زیب جیلانی نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی—تصویر: فیس بک
شاہ زیب جیلانی نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی—تصویر: فیس بک

جس پر شاہ زیب جیلانی نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی جس میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی۔

صحافی کے خلاف مقدمے پر میڈیا نگرانی کے عالمی ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے ’پاکستانی صحافیوں کو خوفزدہ‘ کرنے کی کوششوں پر تنقید کی اور کہا تھا کہ ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر ’سائبر دہشت گردی‘ کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

بعدازاں 18 مئی کو کراچی کی مقامی عدالت نے صحافی شاہ زیب جیلانی کے خلاف سائبر دہشت گردی، الیکڑونک جعل سازی اور ریاستی اداروں کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے سے متعلق مقدمہ عدم ثبوت کی بنا پر ختم کر دیا تھا۔

نیوز چینلز، پروگرامز کی بندش اور کیبلز پر نمبرز کی تبدیلی

صحافیوں اور میڈیا اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے حربوں میں اخبارات کی ترسیل روکنا، چینلز کی نشریات روکنے کے علاوہ ان کی کیبل نمبر پر تبدیلی شامل ہے ایسے واقعات 2019 میں دیکھنے کو ملے۔

رواں برس جولائی کے آغاز میں پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے کیپیٹل ٹی وی، 24 نیوز ایچ ڈی اور اب تک نیوز کو بلاک کردیا تھا۔

ان چیننلز کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی تقریریں دکھانے پر بلاک کیا گیا تھا جو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہی ہیں۔

اس ضمن میں پیمرا نے اپنی ویب سائٹ یا کسی آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کوئی آفیشل نوٹس جاری نہیں کیا اور اس اقدام پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کی ای میل پر فوری طور پر جواب بھی نہیں دیا مذکورہ اقدام پر سی پی جے نے چینلز کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔

چینلز کی بندش کی صحافتی تنظیموں کی جانب سے مذم کی گئی—تصویر: اسد ہاشم الجزیرہ
چینلز کی بندش کی صحافتی تنظیموں کی جانب سے مذم کی گئی—تصویر: اسد ہاشم الجزیرہ

بعدازاں وزیراعظم کے دورہ امریکا کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں جیو ٹی وی چینل کی نشریات روک دی گئی تھیں یا ان کے پوزیشن تبدیل کردیے گئے تھے جس کی سی پی جے نے مذمت کی تھی۔

اس ضمن میں جیو کے منیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے سی پی جے کو بتایا تھا کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران چینل کی غیر قانونی بندش کے باعث جیو کو بہت نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے جیو کے عملے کو 3 ماہ تنخوا نہ مل سکی اور بلاک کیے جانے کا حالیہ اقدام چینل کے لیے انتہائی مہلک رہا۔

چینلز کی نشریات میں خلل ڈالنے کے علاوہ رواں برس پروگرامز روکنے کے واقعات بھی پیش آئے اور 2 جولائی کو جیو ٹی وی کے پروگرام میں سابق صدر آصف زرداری کے انٹرویو کو نشر ہونے کے فوراً بعد روک دیا گیا تھا۔

بعدازاں پروگرام کو نشر ہونے سے روکنے کا جواز بتاتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ چونکہ سابق صدر نیب کی حراست میں ہیں اس لیے انہیں انٹرویو دینے کی اجازت نہیں۔

نجی چینل ’ہم نیوز‘ پر مریم نواز کا انٹرویو نشر کیا گیا تھا—فوٹو: ندیم ملک ٹوئٹر اکاؤنٹ
نجی چینل ’ہم نیوز‘ پر مریم نواز کا انٹرویو نشر کیا گیا تھا—فوٹو: ندیم ملک ٹوئٹر اکاؤنٹ

بعدازاں 12 جولائی کو ہم نیوز پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا انٹرویو بھی نشر ہونے کے فوراً بعد ہی ’جبراً‘ رکوا دیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے پر ہم نیوز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نیوز، ذمہ دار اور آزاد میڈیا پریقین رکھتا ہے اور آزادی اظہار کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے ساتھ ہی ہم آئین اور اخلاقی قدروں کے تناظر میں عدلیہ کی عزت اور وقار عظمت کے لیے بھی کھڑے ہیں‘۔

مشکلات کے باوجود ذمہ دارانہ صحافت پر ڈان کے اعزازات

رواں سال بھی پاکستان میں صحافت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کبھی چینلز کی پوزیشن تبدیل کی گئی تو کبھی نشریات بند کردی گئیں، کبھی احتجاجی مظاہرین نے دفاتر کا ہی گھیراؤ کیا۔

اس سب کے باوجود ڈان گروپ پوری ذمہ داری سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عوام تک حقائق پہنچاتا رہا جس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا اور ڈان گروپ کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔

جولائی میں ظفرعباس کے لیے ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا — فوٹو: سگنل ٹوئٹر اکاؤنٹ
جولائی میں ظفرعباس کے لیے ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا — فوٹو: سگنل ٹوئٹر اکاؤنٹ

اس میں سب سے اہم ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کو کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے ‘آزادی صحافت کے لیے غیرمعمولی اور مسلسل کامیابیوں’ کا اعتراف کرتے ہوئے گوین ایفل پریس فریڈم ایوارڈ 2019 دینے کا اعلان کیا۔

نومبر میں نیویارک میں منعقدہ تقریب میں امریکی صحافی لیسٹیر ہولٹ نے ظفر عباس کو گوین ایفل پریس فریڈم ایوارڈ 2019 سے نوازا، اس موقع پر لیسٹیر ہولٹ نے کہا کہ 'ظفر عباس سے زیادہ کوئی اس اعزاز کا اہل نہیں ہوسکتا'۔

تقریب سے خطاب میں ظفر عباس نے بطورِ صحافی اپنے ذاتی سفر، خود کو اور ڈان کو درپیش چیلنجز سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور کہا کہ 'میں نے سچ بتانے کی کوشش میں تقریبا 40 برس گزارے ہیں، صحافت ہتھیار ڈالنا نہیں، سچ رپورٹ کرنے کا نام ہے'۔

اس کے علاوہ رواں برس جون میں ڈان کے سابق اسسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیڈا کو جنیوا میں انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) کا 71واں 'ورلڈ پریس فریڈم ہیرو' کا ایوارڈ دیا گیا۔

آئی پی آئی نے اپریل میں ایوارڈ کے وصول کنندہ کے لیے سرل المیڈا کے نام کا اعلان کیا تھا — فوٹو: آئی پی آئی ٹوئٹر
آئی پی آئی نے اپریل میں ایوارڈ کے وصول کنندہ کے لیے سرل المیڈا کے نام کا اعلان کیا تھا — فوٹو: آئی پی آئی ٹوئٹر

سرل المیڈا کو 100 سے زائد ممالک میں ایڈیٹرز، میڈیا ایگزیکٹوز اور نامور صحافیوں کے عالمی نیٹ ورک 'آئی پی آئی' کے سالانہ عالمی کانگریس اور جنرل اسمبلی کے دوران خصوصی تقریب میں اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

اس کے علاوہ جون میں صدر مملکت عارف علوی نے بھی عوامی آگاہی مہم اور ذمہ دارانہ صحافت پر ڈان نیوز کو ایوارڈ سے نوازا تھا جو ڈان کی صحافتی اقدار کی مضبوط بنیادوں کا حکومت کی جانب سے اعتراف ہے۔

ایوارڈز حاصل کرنے والے ڈان گروپ کے صحافیوں کی گروپ تصویر — فوٹو: ڈان نیوز
ایوارڈز حاصل کرنے والے ڈان گروپ کے صحافیوں کی گروپ تصویر — فوٹو: ڈان نیوز

بعدازاں 25 نومبر کو ڈان گروپ کے 11 صحافیوں سمیت پاکستان کے 40 صحافیوں کو میڈیا میں ان کی مہارت اور اخلاقیات کے لیے ملک کے سب سے معروف اور باوقار 'آگاہی ایوارڈز 2019' سے نوازا گیا تھا۔

Twitter Share
Facebook Count