افغان امن مذاکرات میں مدد کے لیے تیار ہیں، ایرانی سفیر

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ پہلے کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران پائیدار امن کے فروغ کے لیے مطلوبہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے فائل فوٹو:اے ایف پی
ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ پہلے کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران پائیدار امن کے فروغ کے لیے مطلوبہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: ایران کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے بین الافغان مذاکرات میں مدد کے لیے تیار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ 'پہلے کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران پائیدار امن کے فروغ کے لیے مطلوبہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور پائیدار امن کے حصول کے لیے اپنے اچھے تجربات اور سہولتیں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شیئر کرے گا'۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو فراہم کردہ ایک فہرست کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں اسپیکرز کی فہرست میں شامل تھے جو اس تقریب میں نہیں آئے تھے بلکہ ورچوئلی اس میں شرکت کی تھی۔

ایران امن مذاکرات کا حامی رہا ہے جس میں تمام افغان جماعتیں شامل ہیں۔

محمد علی حسینی نے کہا کہ طویل عرصے سے منتظر امن کے لیے بین الافغان مذاکرات پر 'مستقبل کی خبر دینے والے' ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے افغانستان میں ہر طرح کی بیرونی مداخلتوں کا خاتمہ ہونا چاہیے اور افغانوں کو آزادانہ طور پر اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ 'غیر ملکی افواج کا انخلا، مذاکرات کرنے والی جماعتوں کے درمیان باہمی اعتماد کا قیام اور سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنا، مذاکرات کے لیے ایک پُر امید نقطہ نظر فراہم کرسکتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے وفد کی بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کیلئے اسلام آباد آمد

انہوں نے افغان عوام کی 'گراں قدر کامیابیوں’ کو محفوظ رکھنے پر زور دیا جس میں ان کا آئین، جمہوری اسٹرکچر، سیاسی شمولیت، خواتین کے حقوق اور نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق شامل ہیں۔

انہوں نے کہا اس سے مستقبل میں کسی بھی بحران کو روکا اور دیرپا امن لایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین ان مذاکرات کی بہت قریب سے پیروی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ بے صبری سے اس مذاکرات کا نتیجہ سامنے آنے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے وطن واپس آسکیں، وہ اپنے ملک کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور اپنے ہی ملک میں اپنے بچوں کی پرورش ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں'۔