کیا یہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین سے بھی زیادہ موثر ذریعہ ہے؟

17 ستمبر 2020

ای میل

— رائٹرز فائل فوٹو
— رائٹرز فائل فوٹو

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا ابھی تک کوئی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں مگر امریکا کے اہم ترین طبی ماہر کا کہنا ہے کہ فیس ماسک کو پہننا کسی فرد کو اس وبائی مرض سے بچانے کے لیے ویکسین سے زیادہ موثر ہوسکتا ہے۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے 16 ستمبر کو امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ فیس ماسک کا استعمال کسی فرد کو ویکسین فراہم کرنے سے زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بات ایک سینیٹر جیک ریڈ کے سوال پر کہی، جنہوں نے پوچھا تھا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیشتر عوامی مقامات پر فیس ماسک نہ پہننا امریکی عوام کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اس کے جواب میں رابرٹ ریڈ فیلڈ نے کہا کہ 'میں براہ راسہ صدر کی بات پر کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر میں بطور سی ڈی سی ڈائریکٹر ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت فیس ماسکس ہمارے پاس سب سے اہم ترین عوامی صحت کا ٹول ہے'۔

انہوں نے مزید کہا 'یہ ہمارا بہترین دفاع ہے، میں تو یہ کہنا اہتا ہوں کہ فیس ماسک مجھے کووڈ 19 کے خلاف کسی کووڈ ویکسین سے زیادہ تحفظ فراہم کرے گا، کیونکہ کسی ویکسین کے لیے مدافعتی ردعمل 70 فیصد چاہیے ہوگا اور اگر میرا مدافعتی ردعمل اتنا نہ ہوا تو ویکسین ممکنہ طور پر تحفظ فراہم نہیں کرسکے گھی، مگر فیس ماسک ضرور یہ کام کرے گا'۔

سی ڈی سی ڈائریکٹر کے بیان کے کئی گھنٹے بعد امریکی صدر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا 'ماسک اتنا اہم نہیں جتنی اہم ویکسین ہوگی، البتہ ماسک سے مدد ضرور ملتی ہے، جب میں نے آج رابرٹ سے بات کی تو میں نے پوچھا کہ ماسک کے ساتھ کیا ؟ تو اس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے سوال کا جواب درست نہیں دیا'۔

خیال رہے کہ عموماً ایک ویکسین سے لوگوں کے اندر ایسی مدافعت پیدا ہوتی ہے جو انہیں کسی جراثیم سے بیمار ہونے سے تحفظ فراہم کرتی ہے، اس عمل کو طبی زبان میں اسٹرلائز امیونٹی کہا جاتا ہے۔

مگر جہاں تک کورونا وائرس کی بات ہے تو اس وقت اسٹرلائز امیونٹی کو مدنظر نہیں رکھا جارہا بلکہ زیادہ توجہ بیماری کی شرح میں کمی کو دی جارہی ہے۔

مثال کے طور پر امریکی کمپنی موڈرینا کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل میں جو ہدف رکھا گیا ہے وہ کووڈ 19 کی روک تھام میں کم از کم 60 فیصد افادیت ہے۔

تاہم امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ کم افادیت والی ویکسین کو بھی منظوری دے سکتی ہے یعنی 50 فیصد افادیت والی ویکسین۔

یہی وجہ ہے کہ ابتدائی ویکسینز سے زندگی فوری طور پر پہلے کی طرح معمول پر نہیں آسکے گی اور فیس ماسک اور دیگر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا ہوگا۔

اس کے مقابلے میں فیس ماسک جسمانی مدافعتی نظام کو متحرک نہیں کرتے تو اس کے اثرات کا براہ راست ویکسین سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

مگر متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فیس ماسکس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے موثر ترین ذریعہ ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکا کی ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا تھا کہ فیس ماسک کورونا وائرس کے ذرات کو فلٹر کرکے ان کی شرح اتنی کم کردیتے ہیں جو ماسک پہننے والا جسم کے اندر کھینچ لے تو اس حد تک ہی بیمار ہوتے ہیں جس میں علامات سامنے نہیں آتیں۔

یعنی بالکل ویکسینیشن کی طرح کا کام فیس ماسک مدافعتی ردعمل کے حوالے سے کرتا ہے جو وائرس کی معمولی مقدار ماسک پہننے والے کے اندر پہنچا دیتا ہے جو کسی سنگین بیماری کا باعث نہیں ہوتا۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو بڑے پیمانے پر فیس ماسک وہ بھی کسی بھی قسم کے ماسک کا استعمال بڑھے گا اور اس سے کووڈ 19 کے بغیر علامات والے کیسز کی شرح بڑھے گی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین ڈاکٹر مونیکا گاندھی اور ڈاکٹر جارج رتھرفورڈ نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ فیس ماسک اس طرح کام کرتے ہیں جیسا نظریہ انہوں نے پیش کیا ہے۔

انہوں نے 1930 کی دہائی سے اب تک جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کی جانب اشارہ کیا جن میں بتایا گیا کہ کتنی مقدار میں وائرل ذرات سنگین بیماری کے لیے درکار ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ حال ہی میں چوہوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ وائرس کے زیادہ ذرات کے نتیجے میں کووڈ 19 کی سنگین شدت کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب چوہوں کو ماسک کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا تو ان میں بیماری کی علامات معتدل رہیں یا نمودار ہی نہیں ہوئیں۔

اخلاقی وجوہات کی وجہ سے انسانوں پر اس طرح کے ٹرائلز نہیں ہوئے مگر آبادیوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس سے بھی 'ماسک کے ویکسین' ہونے کے خیال کو تقویت ملتی ہے۔

محققین کے مطابق اگر چہرے کو ڈھانپنے سے کسی فرد میں متاثر کرنے والے وائرس کی کم مقدار جائے تو ان میں معمولی یا بغیر علامات کے بیماری کی تشخیص ہوتی ہے جس سے کسی حد تک امیونٹی یا مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔

مئی میں کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے جن میں کپڑے سے بنے عام فیس ماسکس کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے موثر قرار دیا گیا، خصوصاً ایسے ماسک جن میں سوتی کپڑے کی کئی تہیں استعمال کی گئی ہوں، جو وائرل ذرات کو ماحول میں پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں۔

درحقیقت محققین کا کہنا تھا کہ کپڑے کے ماسک نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو پھیلنے سے روکنے میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ 99 فیصد وائرل ذرات کو بلاک کردیتے ہیں۔

اسی طرح جون میں طبی جریدے دی لانسیٹ میں 16 ممالک میں ہونے والی 172 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا جن میں سماجی دوری، فیس ماسکس کے استعمال اور آنکھوں کو ڈھانپنے سمیت وائرس کے پھیلنے کے خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ان رپورٹس میں کووڈ 19 کے ساتھ ساتھ دیگر 2 کوورونا وائرسز کی وبائیں یعنی سارس اور مرس کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔

محققین نے کہا کہ ہم احتیاطی تدابیر کا اثر دیکھ کر دنگ رہ گئے، وبائی بیماریوں میں ہم اکثر معمولی اثرات دیکھتے ہیں، مگر اس میں ہم نے جو اثرات دیکھے وہ بڑے یا بہت زیادہ تھے۔

محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کے درمیان کپڑے سے بنے فیس ماسک کا استعمال موثر ثابت ہوسکتا ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی جانب سے وائرس کو آگے پھیلانے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ صحت مند لوگ بھی وائرس سے بچ سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کم از کم 30 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں علامات سامنے نہیں آتیں اور اسی وجہ سے فیس ماسک کا استعمال صحت مند فرد کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔