کورونا وائرس کا ایک معمہ ماہرین نے حل کرلیا

27 ستمبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

نوول کورونا وائرس سے متاثر افراد میں علامات کی شدت معتدل سے جان لیوا ہوسکتی ہے اور جان لیوا حد تک متاثر مریضوں میں اس کا اندازہ کئی ہفتوں قبل مدافعتی نظام کے کمزور پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ ہوئیز میڈیکل انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل سنگین حد تک بیمار کم از کم ساڑھے 3 فیصد مریضوں کے ان جینز میں تبدیلیوں کو دیکھا گیا جو اینٹی وائرل دفاع کا حصہ ہوتے ہیں۔

اسی طرح کم از کم 10 فیصد مریضوں آٹو اینٹی باڈیز کو بنتے دیکھا گیا جو وائرس سے لڑنے کی بجائے مدافعتی نظام پر حملہ کرنے کا باعث بننے والا عنصر ہے۔

جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 کے جان لیوا بننے کے چند بنیادی عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں شامل 987 میں سے ایک 101 مریضوں میں یہ نقصان دہ اینٹی باڈیز کی دریافت دنگ کردینے والا مشاہدہ تھا، نتائج سے پہلی بار وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آخر کووڈ کچھ افراد میں بہت زیادہ سنگین کیوں ہوتا ہے جبکہ بیشتر افراد کو اس وائرس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کا آٹو اینٹی باڈیز ٹیسٹ میں ضرور ہونا چاہیے، جس ان اینٹی باڈیز کو خون سے ہٹانا ممکن اور جان لیوا اثرات کی شدت میں کمی لائی جاسکے گی۔

تحقیقی ٹیم نے دنیا بھر کے ماہرین کے ساتھ اشتراک کرکے فروری میں اپنی تحقیق کے لیے کووڈ 19 کے مریضوں کو شامل کیا تھا۔

اس وقت وہ ایسے نوجوانوں کو تلاش کررہے تھے جن میں کووڈ 19 کی شدت سنگین ہو، تاکہ ان مریضوں میں مدافعتی نظام کی کمزوریوں کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔

اس مقصد کے لیے مریضوں کے جینومز کو اسکین کیا گیا، خاص طور پر ان 13 جینز کے سیٹس کو، جو انفلوائنزا کے خلاف مدافعت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

صحت مند افراد میں ان جینز کے مالیکیولز جسمانی دفاعی نظام کے طور پر کام کرتے ہیں، وائرسز اور بیکٹریا کو شناخت کرکے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں تاکہ دیگر مدافعتی نظام متحرک ہوسکیں۔

اس تحقیقی ٹیم نے ماضی میں ایسی جینیاتی تبدیلیوں کو دریافت کیا تھا جو ان مالیکیولز کے بننے کے عمل اور افعال میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

جن لوگوں میں یہ جینیاتی تبدیلیاں آتی ہیں وہ مخصوص جراثیموں بشمول انفلوائنزا کے مقابلے میں کمزور ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیقی ٹیم نے یہی تبدیلیاں کووڈ 19 کے مریضوں میں بھی دریافت کیں جس سے انہیں توقع ہے کہ ڈاکٹروں کو یہ شناخت کرنے میں مدد مل سکے گی کہ کن مریضوں میں اس بیماری کی شدت سنگین ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ علاج کی تلاش میں بھی مدد مل سکے گی۔

مارچ میں تحقیقی ٹیم نے اپنے کام کے لیے دنیا بھر سے کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار 500 افراد کو شامل کرنے کی کوشش شروع اور یہ تداد اگست تک ڈیڑھ ہزار سے زائد اور اب 3 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔

محققین کی جانب سے مریضوں کے نمونوں کے تجزیے کے ساتھ نقصان دہ جینیاتی تبدیلیوں کو بھی دریافت کرنے کا عمل شروع ہوا۔

تحقیقی ٹیم نے 659 میں سے 23 مریضوں کے جینز میں خامیوں کو دریافت کیا جو اینٹی وائرل دفاع کا کام کرتے ہیں۔

محققین کے خیال میں ان دفاعی حصاروں کے بغیر کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے اس وائرس سے نجات پانا ممکن نہیں ہوسکتا اور اس سے انہیں ایک نیا خیال آیا، کہ ہوسکتا ہے کہ دیگر سنگین مریضوں میں بھی یہی مسئلہ ہو مگر وجہ مختلف ہو۔

ان کے مطابق ہوسکتا ہےک ہ کچھ مریضوں کے جسموں کو ان مالیکیولز سے نقصان پہنچ رہا ہو، جیسے ذیابیطس ٹائپ 1 کے مریضوں میں اینٹی باڈیز جسم کو ہدف بنالیتی ہیں۔

اس کے بعد ماہرین نے کووڈ 19 سے جان لیوا حد تک بیماری 987 مریضوں کا تجزیہ کیا اور کم از کم 101 میں آٹو اینٹی باڈیز کو دریافت کیا۔

یہ اینٹی باڈیز دفاعی عمل کو بلاک کردیتی ہیں جبکہ کووڈ 19 سے معمولی یا معتدل حد تک متاثر مریضوں میں نظر نہیں آتیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ بے نظر دریافت ہے کیونکہ اس سے ان اینٹی باڈیز کو دریافت کرکے یہ پیشگوئی کی جاسکے گی کہ کون اس سے شدید حد تک بیمار ہوسکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ یہ نقصان دہ اینٹی باڈیز 94 فیصد مردوں میں موجود تھیں اور ان میں ہی کووڈ 19 کی جان لیوا شدت کا امکان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔

اب یہ ٹیم طریقہ علاج کے لیے دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور اس کے لیے ایک کلینکل ٹرائل کا آغاز کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ وہ ایسے جینیاتی عناصر کی تلاش بھی کریں گے جو اس بیماری کے خلاف حفاظتی اثرات فراہم کرسکیں اور اس کے لیے کووڈ 19 کے سنگین حد تک بیمار مریضوں کو تحقیق کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا جائے گا جو وائرس کی زد میں تو آئے مگر ان میں بیماری تشکیل نہیں پاسکی۔