'پی ایم سی بغیر کونسل ممبران کے کام کررہا ہے'

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے پی ایم سی کے حالیہ اقدامات پر حیرت کا اظہار کیا ۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے پی ایم سی کے حالیہ اقدامات پر حیرت کا اظہار کیا ۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) تکنیکی طور پر ابھی مکمل فعال نہیں ہے تاہم یونیورسٹیز کو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی سی اے ٹی) لینے سے روکنا اور قومی امتحانات بورڈ (این ای بی) کو معطل کرنے جیسے اس کے حالیہ اقدامات نے صحت کے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو حیران کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ پی ایم سی، جس کو پہلے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کہا جاتا تھا، نے اپنی ویب سائٹ پر یہ ذکر کیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مکمل طور پر فعال ہوجائے گا اور ایم بی بی ایس گریجویٹس کو مکمل لائسنس کی گرانٹ سمیت تمام زیر التوا درخواستوں پر 2 اکتوبر سے کارروائی کا آغاز کردے گا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)، جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے، نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب اس کے کونسل ممبران، جنہوں نے اسے چلانا ہے، ابھی بھی نامزد نہیں ہوئے ہیں تو پی ایم سی نے کیسے فیصلے کرنا شروع کردیے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ایم ڈی سی کی عمارت سیل، ملازمین کو کام سے روک دیا گیا

پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020، 16 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا تھا اور بعدازاں اس پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے دستخط کیے تھے۔

ڈان کے پاس ایکٹ کی ایک دستیاب کاپی کے مطابق، پاکستان میڈیکل کمیشن کے تین جُز ہوں گے جن میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (ایم ڈی سی)، نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ (این ایم ڈی اے بی) اور نیشنل میڈیکل اتھارٹی (این ایم اے) شامل ہے۔

اس میں کہا گیا کہ پی ایم سی ایکٹ 2020 کی شق 18 کے تحت ملک میں میڈیکل یا ڈینٹل کالجز میں داخلے کے خواہاں تمام طلبہ کو 2021 کے بعد سے ایم ڈی سی اے ٹی لازمی دینا ہوگا۔

کہا گیا ہے کہ 'اتھارٹی کونسل کی جانب سے منظور شدہ تاریخ اور بورڈ کے ذریعے منظور شدہ معیار کے مطابق سالانہ ایم ڈی سی اے ٹی لے گی، پاکستان میں کسی بھی طالب علم کو میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری نہیں دی جائے گی اگر اس نے پاکستان میں میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں داخلے سے قبل ایم ڈی سی اے ٹی پاس نہ کی ہو اور 2021 کے پروگرام اور اس کے بعد میڈیکل یا ڈینٹل انڈر گریجویٹ میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کے لیے یہ شرط لازمی ہوگی'۔

وزارت قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالج داخلے کے لیے کم از کم 50 فیصد ایم ڈی سی اے ٹی ویٹیج دینے کے پابند ہوں گے جبکہ نجی کالجز کو اس قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ اس شق کے تحت ہر نجی کالج کو داخلے کے لیے اپنی پالیسی تیار کرنے کے لیے آزادانہ اجازت دی گئی ہے جس میں داخلے کے اضافی ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

لازمی ایم ڈی سی اے ٹی کے بغیر پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کی سہولت کے لیے پی ایم سی ایکٹ 2020 کی شق 21 کے تحت ایک اور طریقہ کار بھی فراہم کیا گیا ہے جس میں میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں دو سال سے زیادہ کا پروگرام مکمل کرنے والے طلبہ کا پاکستان سے باہر داخلہ لینے والوں کو منتقلی اور داخلہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: طبی تنظیموں کی پاکستان میڈیکل کمیشن بل پر تنقید

انہوں نے بتایا کہ 'اس طرح کا طالب علم اس کے اگلے سال میں داخلہ حاصل کرنے کا اہل ہوگا تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا ایسے طلبہ کو مذکورہ بالا نشستوں میں داخل کیا جائے گا یا کسی کالج میں خالی نشستوں پر انہیں داخلہ دیا جائے گا'۔

ماضی میں پی ایم ڈی سی نے ہر میڈیکل اور ڈینٹل کالج کے لیے متعدد نشستیں مختص کی تھیں تاہم نئے ایکٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ 'ایک اور قابل اعتراض پیشرفت، جسے پی ایم سی کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے، یہ ہے کہ کمیشن قومی سطح پر ایم ڈی سی اے ٹی کروائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امتحان کے شیڈول کا اعلان کمیشن کے ذریعے 2 اکتوبر کے فورا بعد کیا جائے گا جبکہ ایکٹ کی شق 18 میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پی ایم سی 2021 سے ایم ڈی سی اے ٹی منعقد کرے گا۔

پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ سن کر حیران ہیں کہ پی ایم سی نے کونسل کی نامزدگی کے بغیر کام کرنا کیسے شروع کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سنٹرلائزڈ انٹری ٹیسٹ پالیسی کو ختم کرنے کے فیصلے کی وجہ سے والدین کو متعدد کالجز سے پراسپیکٹس خریدنے اور پروسیسنگ فیس ادا کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑیں گے، میں نہیں جانتا کہ کون پی ایم سی کے حوالے سے فیصلے لے رہا ہے، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کمیشن کی وجہ سے صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہماری تمام دیگر تنظیموں نے وزیر اعظم عمران خان سے پی ایم ڈی سی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے'۔