یمن: حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

حکومت کی جانب سے 681 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا—فائل/فوٹو:رائٹرز
حکومت کی جانب سے 681 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا—فائل/فوٹو:رائٹرز

یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ 5 برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں دونوں فریقین نے 15 سعودیوں سمیت 1081 قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرلیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے پر دستخط سوئٹزرلینڈ کے علاقے گلیون میں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:یمنی حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ

اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ 'کہا جاتا تھا کہ کشیدگی کی اس نوعیت کے دوران بڑی تعداد میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ غیرمعمولی ہوگا اور ایسا ہر تنازع کے بعد اکثر ہوجاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق مزید جزیات طے کرنے ہیں جو انٹرنیشنل کمیٹی ریڈ کراس (آئی سی آرسی) کے تحت ہوگا اور وہی قیدیوں کا تبادلہ کرے گی۔

مارٹن گریفتھس نے دونوں فریقین سے قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ وہاں دنیا کے بدترین بحران کا سامنا ہے اور لاکھوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ یمن میں جنگ کا خاتمہ ہو اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے جو قومی جنگ بندی کا باعث ہو اور اس کے نتیجے میں بندرگاہیں، ایئرپورٹس اور شاہراہیں کھل جائیں'۔

یہ بھی پڑھیں:یمن: جنوبی علاقے کے باغیوں نے بھی خود مختاری کا اعلان کردیا

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت حکومت حوثیوں کے 681 قیدیوں کو آزاد کرے گی جبکہ حوثی 400 حکومتی افراد کو رہا کریں گے۔

گزشتہ ہفتے یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے حکومت کا وفد روانہ ہو گیا ہے جو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے حوثیوں سے مذاکرات کرے گا۔

یمنی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کا تیسرا دور اردن کی میزبانی میں ہو گا اور اس مرحلے میں مزید ایک ہزار 420 قیدیوں ‌کی رہائی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ کہ حوثی باغیوں کے خلاف 2015 میں سعودی اتحادی اور یمن کی حکومت نے کارروائی شروع کی تھی جو عالمی طور پر تسلیم شدہ یمن کے صدر منصور ہادی کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات کا یمن میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ

یمن میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ بارہا متبنہ کرچکی ہے کہ یمن میں خوراک اور دیگر انسانی ضروریات کی کمی کے باعث انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے۔

سعودی عرب کے اتحادی الزام عائد کرتے ہیں کہ حوثی باغیوں کو ایران کی مدد حاصل ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کر رہا ہے۔

رواں برس سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ہونے والے حملے میں بھی امریکا اور سعودی عرب نے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا تھا تاہم سعودی حکومت نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کے بعد ردعمل دیا جائے گا۔