آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتیں 240 سے زائد ہوگئیں

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2020

ای میل

دونوں جانب سے بڑے شہروں میں ہونے والی شیلنگ کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے —فوٹو: اے پی
دونوں جانب سے بڑے شہروں میں ہونے والی شیلنگ کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے —فوٹو: اے پی

آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں جاری لڑائی میں مزید شدت آرہی ہے اور دونوں جانب سے بڑے شہروں میں ہونے والی شیلنگ کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق آرٹلری فائر سے بڑے شہروں کو نشانے بنانے پر عوام کے جانی نقصان کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں اب تک 240 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ آرمینیا کی فورسز نے اس کے تین اہم شہروں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ گزشتہ روز ملک کے دوسرے بڑے شہر گانجا پر شیلنگ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

خیال رہے کہ آرمینیا کے زیر تسلط آذربائیجان کے علاقے کاراباخ میں علیحدگی پسند فورسز اور آذربائیجان کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے تنازع جاری ہے، تاہم گزشتہ ہفتے شدید لڑائی کا آغاز ہوا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقائی دارالحکومت اسٹیپنکرٹ سے منسلک سرحد میں آرٹلری سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

نیگورنو-کاراباخ میں 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی سے خطے کے دو بڑے ممالک ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

آذربائیجان اور آرمینیا دونوں کی جانب سے عالمی برادری کے جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق پہاڑی خطے پر واقع اسٹیپنکرٹ شہر 50 ہزار آبادی کا حامل ہے اور گزشتہ 4 روز سے شدید گولہ باری کا شکار ہے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد زیر زمین پناہ گاہوں میں چلی گئی اور کئی افراد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ شہر میں ہونے والی شیلنگ صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہوئی اور 4 شیل گرائے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آرمینیائی فوج نے دوسرے شہر پر بھی گولہ باری کردی، آذربائیجان

اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شدید شیلنگ سے فلیٹس کے مختلف بلاکس کو نقصان پہنچا، جبکہ دعویٰ کیا کہ آذربائیجان کی فوج کلسٹر ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب آذربائیجان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فورسز نے بیلاغان، باردا اور تیرتر میں شیلنگ کی۔

دونوں فریقین نے لڑائی شروع ہونے سے اب تک 244 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 42 عام شہری شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ایک دوسرے کا بھاری جانی نقصان ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے گزشتہ روز اپنے بیان میں بلاامتیاز شیلنگ، شہروں اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں غیر قانونی حملوں کے دوران دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی شدید مذمت کی تھی۔

شہری چرچ کے تہہ خانوں میں منتقل

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسٹیپنکرٹ میں دھماکوں اور فضائی کارروائی کی آوازیں آنے پر شہریوں نے کیتھڈرل ہولی مادر آف گاڈ کے تہہ خانے میں پناہ لی۔

آذربائیجان کا کہنا تھا کہ بیلاغان کے جنوبی قصبے میں شیلنگ سے 2 شہری ہلاک ہوئے، صحافیوں نے کہا کہ انہوں نے تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے شہریوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا۔

دونوں جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے آرمینیا، آذربائیجان کو ’سرحدی مداخلت‘ پر خبردار کردیا

قوم سے خطاب میں آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے جنگ بندی کے لیے سخت شرائط رکھیں جو آرمینیا کے لیے ناقابل قبول تصور کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فورسز متنازع علاقہ خالی کریں اور یہ صرف باتوں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کریں، دستبرداری کے لیے ایک وقت مقرر ہوگا۔

علی یوف نے کہا کہ آرمینیا اپنے اقدامات پر آذربائیجان کے عوام سے معافی مانگے اور آذربائیجان کی خود مختاری کو تسلیم کرے۔

دوسری جانب آرمینیا نے علی یوف کی شرائط کو مسترد کردیا۔

کاراباخ کے صدر نے دھمکی دی کہ وہ لڑائی کو آذربائیجان کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیں گے۔

روس، امریکا اور فرانس پر مشتمل مصالحتی گروپ بھی تنازع کا سیاسی حل نکالنے میں مکمل ناکام رہا ہے تاہم انہوں نے لڑائی کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے آرمینیا کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں، آرمینیا

دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔