نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں، آرمینیا

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

آرمینیا کے زیرتسلط متنازع علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد 158 ہوگئی ہے—فوٹو:رائٹرز
آرمینیا کے زیرتسلط متنازع علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد 158 ہوگئی ہے—فوٹو:رائٹرز

آرمینیا نے نیگورنو-کاراباخ میں ایک ہفتے سےجاری جھڑپوں میں جانی نقصان کے بعد کہا ہے کہ روس سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق آرمینیا کا کہنا تھا کہ وہ روس، امریکا اور فرانس کے ساتھ نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کریں گے۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم پرامن انداز میں تنازع کا حل نکالنے کے لیے پرعزم ہیں’۔

مزید پڑھیں: آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 'ہم آذربائیجان کی جارحیت کو پسپا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے لیکن اس کے ساتھ ہم 1994 اور 1995 کے معاہدوں کی بنیاد پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں’۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ پائیدار جنگ بندی اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب آرمینیا، نیگورنو-کاراباخ سے دست بردار ہوں۔

رپورٹ کے مطابق آذر بائیجان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کو جنگ بندی کے حوالے سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

اس سے قبل آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے نیگورنو-کاراباخ پر آرمینیا سے کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا تھا جبکہ قریبی اتحادی ترکی کا کہنا تھا کہ مذکورہ تینوں عالمی طاقتوں کا جنگ بندی پر کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والی جھڑپیں تاحال جاری ہیں اور تازہ رپورٹس کے مطابق نیگورنو-کاراباخ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ مزید 54 فوجی ہلاک ہوئے اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 158 ہوگئی ہے۔

آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے زیر تسلط متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں 11 عام شہری بھی ہلاک ہوئے اور 60 سے زائد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آذربائیجان کا آرمینیا کی فوج کی پسپائی تک لڑنے کا عزم

آذربائیجان کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ آرمینیا کی شیلنگ سے اب تک 20 شہری ہلاک ہوئے اور 55 زخمی ہوئے تاہم فوجیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ یورپی یونین کی قیادت نے برسلز میں سربراہی اجلاس میں اس بحران پر تبادلہ خیال کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نیگورنو-کاراباخ پر آرمینیا کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔

دوسری جانب آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں بتایا کہ جب تک نیگورنو-کاراباخ سے دہشت گردوں اور بیرونی مداخلت کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔

ادھر فرانس نے ترکی پر الزام عائد کیا کہ شام کے جنگجوؤں کو متنازع علاقے میں بھیجا جارہا ہے اور روس نے شام اور لیبیا سے جنگجوؤں کی مبینہ تعیناتی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ترکی اور آذربائیجان نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

آذربائیجان اور آرمینیا دونوں ممالک کے شہری بھی خوف کا شکار ہیں اور انہیں سلامتی کے خدشات ہیں۔

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں موجود 28 سالہ آرکیٹکٹ خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے پریشانی ہے کہ میرے شوہر اور بھائی کو جنگ کے لیے طلب کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسی چیزیں ہم صرف فلموں میں دیکھتے تھے اور اب ہم اپنی زندگی میں خود سے گزر رہے ہیں’۔

آرمینیا کے دارالحکومت یروین میں 30 سالہ فوڈ ٹیکنالوجسٹ ایڈورڈ ولاسیان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت گھمسان کی جنگ ہے، اگر ہم نے کاراباخ انہیں دے دیا تو وہ اگلی مرتبہ آرمینیا کا مطالبہ کریں گے’۔

مزید پڑھیں: آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 39 ہوگئی

یاد رہے کہ آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا اور اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوویت یونین سے 1991 میں آزادی حاصل کرنے والے دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی کشیدگی رہی جو 1994 میں جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مسلم ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے درمیان کشیدگی سے خطے کی دو بڑی طاقتین روس اور ترکی کے درمیان تلخی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ترکی کو تنازع سے دور رکھیں۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کے آرمینیا کے خلاف لڑنے کی رپورٹس بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

دوسری جانب آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے کشیدگی شروع کرنے کا الزام آرمینیا پر عائد کیا اور باکو کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں آرمینیا کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'ترکی کے لوگ آذربائیجان کے بھائیوں سے ہمیشہ کی طرح ہر ممکن تعاون کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آرمینیا خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن رہا ہے'۔

عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آرمینیا کی 'جارحیت کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے'۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔