میشا شفیع کی اپنے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کیلئے درخواست

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2020

ای میل

وکیل ثاقب جیلانی نے لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع جانب سے درخواست دائر کی—فائل فوٹوز: انسٹاگرام
وکیل ثاقب جیلانی نے لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع جانب سے درخواست دائر کی—فائل فوٹوز: انسٹاگرام

پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع نے اداکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کے لیے لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے عدالت میں گلوکارہ کی جانب سے درخواست دائر کی جس پر سماعت کے بعد سیشن کورٹ نے 13 اکتوبر کو علی ظفر کو طلب کرلیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مجھ سمیت دیگر گواہان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جبکہ مقدمے درج ہونے کے باعث میرے گواہ ذہنی طور پر خوف زدہ ہیں۔

مزید پڑھیں: علی ظفر کی شکایت پر میشا شفیع، عفت عمر سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ایف آئی آر کا فیصلہ ہونے تک ہتک عزت کے دعوے کی کارروائی روک دے۔

ابتدائی طور پر میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
ابتدائی طور پر میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

بعدازاں ایڈیشنل سیشن جج یاسرعلی نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کی اور علی ظفر کی جانب سے دائرہ کردہ ہتک عزت کے دعوے پر 13 اکتوبر تک کارروائی ملتوی کردی۔

سیشن کورٹ نے 13 اکتوبر کو علی ظفر کو درخواست پر جواب جمع کرانے کے لیے بھی طلب کرلیا۔

اس سے قبل 28 ستمبر کو میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کی سماعت سیشن کورٹ کے پریزائڈنگ جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملتوی ہوئی تھی۔

ایڈشنل سیشن جج محمد یاسر حیات نے گلوکارہ میشا شفیع اور ان کے گواہان کو طلب کیا تھا۔

تاہم عدالت میں علی ظفر کی لیگل ٹیم نے آفس کلرک کو 10 اکتوبر تک دفاعی وکیل بیریسٹر ثاقب جیلانی کی عدم دستیابی سے متعلق آگاہ کیا تھا، جس پر عدالتی عملے نے ہتک عزت کیس کی آئندہ سماعت 3 اکتوبر کو مقرر کی تھی۔

خیال رہے کہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے پر علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ ہر جانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'علی ظفر کے خلاف کوئی کیس نہیں، حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے'

ہرجانے کے نوٹس میں میشا شفیع کو کہا گیا تھا کہ وہ گلوکار سے 2 ہفتوں کے اندر میڈیا کے سامنے آکر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف عدالت میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ علی ظفر کے خلاف متعدد افراد اور خاص طور پر خواتین نے اپریل 2018 کے بعد اس وقت سوشل میڈیا پر الزامات لگانا شروع کیے تھے جب میشا شفیع نے ان پر ٹوئٹ پوسٹ کے ذریعے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔

—فوٹو: انسٹاگرام
—فوٹو: انسٹاگرام

علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو مسترد کیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے گلوکارہ کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر درجنوں سماعتیں ہو چکی ہیں۔

سیشن کورٹ میں علی ظفر اور ان کے 11 گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں اور اب میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات قلم بند ہوں گے، اسی کیس میں میشا شفیع اور ان کی والدہ اداکارہ صبا حمید بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا

اسی عدالت میں میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے جس پر عدالت نے سماعت روک رکھی ہے اور حکم دیا ہوا ہے کہ پہلے علی ظفر کے ہرجانے کے کیس کا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خواتین میں سے 2 معافی بھی مانگ چکی ہیں جن میں صوفی نامی ٹوئٹر صارف اور خاتون بلاگر و سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مہوش اعجاز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں 28 ستمبر کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے خلاف مذموم مہم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گلوکارہ میشا شفیع اور دیگر 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 اور پاکستان پینل کوڈ کے آر/ڈبلیو 109 کے تحت میشا شفیع، اداکارہ و میزبان عفت عمر، لینیٰ غنی، فریحہ ایوب، ماہم جاوید، علی گل، حزیم الزمان خان، حمنہ رضا اور سید فیضان رضا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

نومبر 2018 میں علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی— فائل فوٹوز: انسٹاگرام
نومبر 2018 میں علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی— فائل فوٹوز: انسٹاگرام