ٹک ٹاک پر پابندی، سینیٹ کمیٹی کی پی ٹی اے پر تنقید

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو 9 اکتوبر کو بند کردیا تھا — فائل فوٹو:اے ایف پی
پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو 9 اکتوبر کو بند کردیا تھا — فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: سینیٹ کمیٹی برائے قانون سازی نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگانے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) پر تنقید کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو عالمی ترقی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور تنہائی پسندانہ روش اپنانے کے بجائے اصلاحی اقدامات کرنا ہوں گے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک، دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا تھا، جس کی وجہ سے ہی ٹک ٹاک کو 9 اکتوبر سے ملک میں بند کردیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر کودا بابر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک پر لگائی جانے والی پابندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تاہم سینیٹ کمیٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنا اور آئی ٹی کمپنیوں پر پابندی لگانا قابل اعتراض مواد کے پھیلاؤ کی روک تھام کا جواب نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: وی پی این پر ’ٹک ٹاک‘ کو بند کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر

سینیٹر کودا بابر نے کہا کہ پی ٹی اے کے اس طرح کے نقطہ نظر سے پاکستان ترقیاتی دوڑ سے دور ہوجائے گا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر مواد ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کررہا تھا تو پورے پلیٹ فارم یا ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کی بجائے اس مواد کو منظم کرنا ضروری تھا۔

کمیٹی نے پی ٹی اے سے ان قوانین کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا جس کے تحت ٹک ٹوک کو بلاک کیا گیا تھا۔

تاہم، متعلقہ عہدیداروں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ پابندی کوئی ’مستقل‘ فیچر نہیں ہے کیونکہ ایپ انتظامیہ نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے اور جب وہ پاکستان کے قوانین کی پاسداری کریں گی تو اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل، جب سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ حال ہی میں چین کی بائٹ ڈانس کمپنی کی ملکیت ٹک ٹاک بہت سارے ممالک میں پریشانی کا شکار ہے تو سینیٹرز نے کہا کہ امریکا اور بھارت جیسے ممالک یہ پریشانی بنیادی طور پر سیاسی وجوہات کی بنا پر ہے اور یہ فیصلے کسی میرٹ پر مبنی نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

پاکستان میں ٹک ٹاک کے ماہانہ 2 کروڑ فعال صارفین تھے جو واٹس ایپ اور فیس بک کے بعد تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپ ہے۔

سینیٹرز نے ٹیلی کام ایکٹ 1996 کے سیکشن 57 اور ٹیلی کام پالیسی 2015 میں شامل مسابقتی قواعد کی حیثیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیلی کام پالیسی 2015 کے مطابق، مارکیٹ کی مضبوطی کو مستحکم کرنے کے لیے, ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے مسابقتی قواعد کے اطلاق کے ذریعے ٹیلی کام کو منظم کیا جائے گا۔

مسابقتی قوانین ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے تمام امور دیکھیں گے اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیلی کام ایکٹ کے سیکشن 57 کے تحت اور مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت تیار کیا جائے گا۔

پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مسابقتی قواعد کے مسودے کو مزید ضروری کارروائی کے لیے دسمبر 2017 میں وزارت آئی ٹی کو بھیج دیا گیا تھا۔

بریفنگ کے بعد سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ شعبے میں اجارہ داری سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور سب کو یکساں موقع فراہم کرنا ہوگا۔

کمیٹی اراکین نے وزارت آئی ٹی کی جانب سے قواعد وضع کرنے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا ایپس پر پابندیوں کے باعث پاکستانی ڈیجیٹل انڈسٹری غیر یقینی صورتحال کا شکار

بعدازاں گزشتہ روز پی ٹی اے کی ہدایت کے مطابق مواد کو مناسب بنانے سے متعلق اتھارٹی اور ٹک ٹاک انتظامیہ کا ورچوئل اجلاس بھی ہوا تھا۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹک ٹاک کی سینئر انتظامیہ نے پی ٹی اے کی ہدایات کے مطابق پاکستان کے قوانین کی روشنی میں غیر قانونی آن لائن مواد کو مناسب بنانے کے حوالے سے بات چیت کی۔

ٹک ٹاک کے سینئر نمائندے نے مقامی قوانین کے مطابق مواد کو معتدل بنانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے مجوزہ اقدامات کے لیے ٹھوس ٹائم لائنز طلب کی۔

پی ٹی اے کے مطابق دونوں فریقین نے باہمی طور قابل قبول طریقہ کار پر پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ پاکستان میں صارفین کے لیے محفوظ انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔