پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2020

ای میل

پاکستان کے علاوہ بھی دیگر ممالک میں ٹک ٹاک کو پابندیوں کا سامنا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
پاکستان کے علاوہ بھی دیگر ممالک میں ٹک ٹاک کو پابندیوں کا سامنا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بالآخر شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو نامناسب مواد نہ ہٹائے جانے پر ملک میں بند کردیا۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک، دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے ہی ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں، تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق متنازع اور نامناسب مواد کو نہ ہٹائے جانے کی وجہ سے ہی ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی عائد کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لائیو اسٹریمنگ ایپ 'بیگو' پر پابندی، ٹک ٹاک کو آخری نوٹس

خیال رہے کہ پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔

پی ٹی اے نے رواں برس جولائی میں ٹک ٹاک انتظامیہ کو نامناسب مواد پر ٹک ٹاک کو 'حتمی وارننگ' جاری کی تھی، علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ میں پی ٹی اے نے متعدد بار ایپ انتظامیہ کو غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹانے کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔

پی ٹی اے کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد ٹک ٹاک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے درجنوں متنازع ویڈیوز کو ہٹادیا ہے جب کہ وہ اخلاقی اور اچھا مواد تیار کرنے کے لیے حکومت اور مواد تیار کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

علاوہ ازیں ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں عام شہری کی جانب سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

رواں برس جولائی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اس اپیلی کیشن کے استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔

مزید برآں یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن سوشل میڈیا پر ریٹنگ اور شہرت کے لیے پورنوگرافی پھیلانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک پر پابندی کیلئے عدالت میں درخواست دائر

درخواست میں جولائی میں ہی پیش آئے اس واقعے کا بھی ذکر کیا گیا تھا جس میں ایک لڑکی کو ٹک ٹاک پر بنے دوستوں کے ایک گروپ کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

دائر کی گئی درخواست میں ٹک ٹاک کو فحش اور خلاف مذہب ایپ قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک ایسے وقت میں پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ چند ہفتے قبل ہی پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس پر پابندی عائد کی گئی تھی اور امریکا میں بھی اسے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

امریکا نے بھی ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رکھا ہے اور ٹک ٹاک کو دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرے یا کسی امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر امریکا میں کام کرے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔