’پاکستان میں ہر سال 50 ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے باعث موت کا شکار ہوجاتی ہیں‘

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

ڈاکٹر زبیدہ قاضی کے مطابق پاکستان میں زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہے — فائل فوٹو:شٹر اسٹاک
ڈاکٹر زبیدہ قاضی کے مطابق پاکستان میں زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہے — فائل فوٹو:شٹر اسٹاک

کراچی: پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ہرسال 50 ہزار خواتین بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتیں ہیں جو ایشیا میں بریسٹ کینسر کا شکار ہونے والی خواتین کی سب سے زیادہ شرح ہے جبکہ سالانہ اس بیماری کے 90 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات ماہرین نے جامعہ کراچی میں منعقدہ ایک سیمنار میں بتائیں، جو پنک پاکستان ٹرسٹ (پی پی ٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بریسٹ کینسر کی نشاندہی کرنے والی عام علامات

اس موقع پر پنک پاکستان ٹرسٹ کی بانی اور صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص اور عوامی آگاہی مہم کے بعد سے پوری دنیا میں اس کے کیسز میں 30 فیصد تک کمی آئی ہے تاہم پاکستان اور ایشیا کے دیگر ممالک میں یہ بیماری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کہ بنیادی وجہ آگاہی اور کینسر کی تشخیص کے لیے سہولیات کی کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہے۔

پنک پاکستان ٹرسٹ کی صدر کے بقول ملک میں 49 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، جن میں 40 سے 45 سال کی عمر کی 30 لاکھ خواتین ہیں جنہیں اس مرض سے زیادہ خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: بریسٹ کینسر کون سی خواتین میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا پاکستان میں بریسٹ کینسر کے کیسز کی تعداد کے بارے میں ڈبلیو ایچ او اور دیگر تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر جلد کے کینسر کے بعد دوسرا عام کینسر ہے، یہاں تک کہ اب ہم نوجوان لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کی ایڈوانس اسٹیجز بھی دیکھ رہے ہیں جس کے باعث تشخیص پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔

خواتین میں دیگر کینسرز

انہوں نے پاکستانی خواتین میں کینسر کی دیگر اقسام کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ ہی آگاہی، اس کی تشخیص اور علاج سے متعلق سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم دیہی اور شہری خواتین میں بیضہ دانی، رحم اور رحم کے نچلے حصے کا کینسر بھی دیکھ رہے ہیں، بد قسمتی سے پاکستان میں مختلف اقسام کے کینسر کی تشخیص کے لیے اسکریننگ مراکز کی شدید کمی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: بریسٹ کینسر کی علامات ظاہر کرنے والی تصویر

ڈاکٹر زبیدہ کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کے لیے بڑا خطرہ خاندان میں اس بیماری کا پایا جانا ہے۔

سندھ میں خواتین کی ترقی کی وزیر شہلا رضا نے اپنی تقریر میں عوامی آگہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خاندانوں کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کو سنجیدگی سے لینا پر زور دیا۔

انہوں نے خواتین کو تجویز دی کہ وہ وقتاً فوقتاً ٹیسٹ ضرور کرواتی رہیں کیونکہ صرف بروقت تشخیص کے ذریعے ہی اس بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اجتماعی طور پر بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ ہم عوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے’۔

مزید پڑھیں: محض 3 منٹ میں خود ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات تشخیص کرنے کا طریقہ

انہوں نے متاثرہ خواتین سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیماری کی تشخیص اور علامات کی وجہ سے شرم محسوس نہ کریں اور فوری طور پر اس کا علاج کرائیں۔

علاوہ ازیں کراچی یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر خالد محمود عراقی نے اس پر روشنی ڈالی کہ جامعات صحت عامہ میں اہم کردار ادا کرسکتیں ہیں۔

اس موقع پر پنک پاکستان ٹرسٹ کی ڈاکٹر فاریا، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر کوثر عباس اور لیاقت نیشنل ہسپتال کی ڈاکٹر صدف ناصر نے بھی بات کی۔

مزید یہ کہ اس سے قبل کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیر کے ہمراہ کیمپس میں بریسٹ کینسر کی آگاہی کیمپ کا افتتاح بھی کیا۔


یہ خبر 22 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔