اقلیتی کمیشن نے جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف قانون کا مسودہ تیار کرلیا

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

کمیشن کے سربراہ چیلا رام نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے مسودہ غور فکر اور جائزے کے لیے وزارت قانون کو ارسال کردیا ہے—تصویر: پی آئی ڈی
کمیشن کے سربراہ چیلا رام نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے مسودہ غور فکر اور جائزے کے لیے وزارت قانون کو ارسال کردیا ہے—تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: قومی اقلیتی کمیشن نے مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون کے مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام نے کہا کہ صوبوں اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد قانون کو حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بات پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہی، جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:نو تشکیل شدہ اقلیتی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری

نیوز کانفرنس میں شریک اقلیتی کمیشن اراکین میں شنیلا روتھ، پروفیسر سارا صفدر، ڈاکٹر سروپ سنگھ اور مفتی گلزار احمد نعیمی شامل تھے۔

کمیشن کے سربراہ چیلا رام نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے مسودہ غور فکر اور جائزے کے لیے وزارت قانون کو ارسال کردیا ہے اور وزیراعظم نے اقلیتی کمیشن کو مجوزہ قانون کے لیے حکومتی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور حکومت جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اقلیتی کمیشن نے غیر مسلموں کو درپیش مسائل جاننے کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔

مزید پڑھیں: قومی اقلیتی کمیشن کی بھارت میں 11 ہندوؤں کی ہلاکت کی مذمت

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ کمیشن کو مضبوط کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن نہ صرف ملک کی ضرورت ہے بلکہ ملک کے تشخص کو بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری ہے‘۔

انہوں نے سینیٹر انوار کاکڑ کی سربراہی میں جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف قائم پارلیمانی کمیٹی کے کیے گئے کام کو بھی سراہا۔

قبلہ ایاز کا مزید کہنا تھا کہ قومی اقلیتی کمیشن اتحاد کے لیے کام کرے گا تا کہ قوم کے خلاف سازشوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔

معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمے کے بارے میں سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ مدارس کے پانچوں بورڈز کے سربراہان اور علما کی بڑی تعداد نے ایک ایکشن پلان پر اتفاق کیا ہے جس کا نام ’پیغامِ پاکستان‘ ہے تا کہ مختلف مذہبی گروہوں اور فرقوں کے مابین بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اقلیتی حقوق کمیشن کا وزارت مذہبی امور پر عدم تعاون کا الزام

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں زیر غور ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئین اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شنیلا روتھ نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد مذہبی اقلیتوں کا معاملہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے لیکن جبری تبدیلی مذہب پوری قوم کا مسئلہ ہے۔