بریسٹ کینسر کون سی خواتین میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2019

ای میل

عام طور پر 40 سال کی عمر کے بعد خواتین میں بریسٹ کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
عام طور پر 40 سال کی عمر کے بعد خواتین میں بریسٹ کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) دنیا بھر کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کی خواتین کی شرح اموات کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بھی بریسٹ کینسر کو ہی مانا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ریسرچ کے مطابق بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تمام قسم کے کینسرز کا 10 فیصد ہے جو کہ تشخیص سے ثابت ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق ہمارے جسم میں پائے جانے والے سیلز (خلیے) ضرورت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں اور جسم کی نشو ونما میں حصہ لیتے ہیں، اگر یہ سیلز کسی بھی حصے میں ضرورت سے زیادہ تقسیم ہو جائیں یا چلے جائیں تو اس حصے میں سیلز کا ایک گروہ بن جاتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ٹیومر (رسولی) کہتے ہیں جو کہ آگے چل کر کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے اگر یہ ٹیومر بریسٹ کے سیلز میں بن جائے تو بریسٹ کینسر کا موجب بن جاتا ہے۔

ڈی این اے کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں اب یہ بھی جان لیجیے کہ اس کے ایک حصے کو جین کہا جاتا ہے، کسی بھی کام کے لیے یہ جینز مخصوص ہوتی ہیں، بریسٹ کے سیلز کی بے اختیار تقسیم کو روکنے کے لیے دو طرح کی جینز ہیں جوکہ ’اور‘ کہلاتی ہیں، اگر ان جینز میں کوئی تبدیلی ہو جائے جسے سائنسی زبان میں ’میوٹیشن‘ کہا جاتا ہے تو یہ جینز بریسٹ کے سیلز کی بے اختیار تقسیم کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ اور بریسٹ کینسر کے اسباب میں سے یہ ’میوٹیشن‘ اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔

مزید براں اس کے اسباب میں بہت سے ماحولیاتی عوامل بھی شامل ہیں،کسی مریض میں اس کی وجہ جین کا ناکارہ ہو جانا بھی ہے اور کسی مریض میں اس کی وجہ ماحولیاتی عوامل بھی بنتے ہیں، کبھی یہ دونوں طرح کے اسباب مل کر بریسٹ کینسر کا موجب بھی بن سکتے ہیں، لیکن ان عوامل کے علاوہ بھی کچھ ایسے اسباب ہیں جو اس مرض کے رحجان کو بڑھا دیتے ہیں اور ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر کے دیگر عوامل میں درج ذیل بھی شامل ہیں۔

عمر -

ڈاکٹرز کے مطابق بریسٹ کینسر کا رحجان بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں اس مرض کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم بڑھتی عمر میں اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، ریسرچ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہر 3 میں سے 2 خواتین جن میں یہ مرض تشخیص ہوتا ہے ان کی عمر 55 سال کے قریب ہوتی ہے۔

جنس -

بریسٹ کینسر کے حوالے سے عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف عورتوں میں ہوتا ہے، ایسا بالکل درست نہیں ہے، یہ مرض مردوں میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس کا رحجان عورتں میں مردوں کی نسبت 100 گنا زیادہ ہوتا ہے، اس لیے یہ مرض صرف عورتوں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

خاندانی پس منظر -

بریسٹ کینسر کے اسباب میں سب سے بڑا سبب جینز کی تبدیلی ہے اس لیے اس مرض کے ایک ہی خاندان کی خواتین میں پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں، اگر کسی خاتون کی ماں، باپ، بہن یا بیٹی میں بریسٹ کینسر موجود ہے تو اس خاتون میں بھی اس مرض کا رحجان بڑھنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ذاتی صحت -

اگر کسی بھی مریض میں ایک بار ایک بریسٹ میں اس کی تشخیص ہو جائے تو دوسری بریسٹ میں اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

افزائش نسل کا نظام -

ری پروڈکٹو سسٹم (افزائش نسل کا نظام ) کا بریسٹ کینسر کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اگر حیض کا عمل 12 سال سے کم عمر میں شروع ہو جائے یا 55 سال کے بعد ختم ہو تو اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، ایسی خواتین جو عمر کے آخری حصے میں بچوں کو جنم دیں اور ایسی خواتین جو بانجھ ہوں ان میں بھی بریسٹ کینسر کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔

موٹاپا -

وزن کا زیادہ ہونا یا عورتوں میں موٹاپا اس مرض کے رحجان کو بڑھا دیتا ہے، ان خواتین میں موٹاپا اس مرض کا باعث بنتا ہے جن میں حیض کا عمل جلد ختم ہو جاۓ۔

جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا-

جو خواتین اپنی روز مرہ کی زندگی میں مناسب ورزش نہیں کرتیں اور سست زندگی گزارتی ہیں ان میں بھی بریسٹ کینسر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا تمام اسباب کے ساتھ ساتھ اگر کوئی خاتون اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے یا اس کی خوراک صحت افزا نہ ہو یا وہ سگریٹ نوشی کی عادی ہو تو اس مرض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی دہرانا لازمی ہے کہ کچھ ایسی وہمی باتیں معاشرے میں بریسٹ کینسر کی وجوہات کو لے کر پائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جیسا کہ بہت سے لوگ اسے وبائی مرض سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ مریض کو چھونے یا اس کے پاس جانے سے کسی دوسرے کو بھی ہو جائے گا ایسا بلکل نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ پرفیوم، ڈیوڈرنٹ، پسینہ خشک کرنے والے اسپرے، انڈرگارمنٹس، کیفین، میموگرامز، پلاسٹک کے بنے ہوئے کھانے کے برتن، مائیکرو ویو اوون اور موبائل فونز بھی بریسٹ کینسر کا سبب بنتے ہیں تو یہ سب سراسر وہم ہے، البتہ ان چیزوں کے استعمال کے بعض منفی نتائج سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان کی بہت سی خواتین صرف اس لیے اس مرض سے موت تک پہنچ جاتی ہیں کیونکہ وہ بر وقت تشخیص نہیں کروا پاتیں، اس کی تشخیص میں تاخیر کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں۔

اول تو یہ کہ پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی آگاہی ہی نہیں ہوتی، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ چھاتی کا سرطان کیا ہے اس کی وجوہات کیا ہیں اور تو اور اس کی علامات کا بھی علم نہیں ہوتا۔

دوئم یہ کہ مشرقی خواتین کو ایسے سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جہاں پہنچنا آسان ہو اور جلد از جلد ان کا ٹیسٹ ہو جائے اور مزید یہ کہ تشخیص کنندہ کا عورت ہونا لازمی تصور کیا جاتا ہے، ان تمام شرائط کا بروقت پورا نہ ہونا کینسر کی تشخیص میں رکاوٹ بنتا ہے۔

سوئم اور آخری وجہ جو بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص میں رکاوٹ بنتی ہے وہ ہے ثقافتی اہمیت، خاندان کی سپورٹ اور سب سے بڑھ کرمالی ضروریات کا مکمل نہ ہونا بھی ہے، کسی بھی طبقے کی خاتون کو یہ تینوں چیزیں بیک وقت میسر نہیں ہوتیں اسلیے بروقت تشخیص بھی نہیں ہو پاتی۔

مندرجہ بالا وجوہات خواتین کی ذاتی وجوہات ہیں اس کے علاوہ کچھ مسائل ہیلتھ سسٹم کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے اور ہیلتھ سینٹرز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ڈاکٹرز سے ملنے کا وقت جلدی نہیں ملتا، اسی وجہ سے مریضوں کی تشخیص جلد اور بروقت نہیں ہو پاتی اور بعض اوقات ڈاکٹرز کی جانب سے بیک وقت بہت سارے مریضوں کو چیک کرنے کے تھکا دینے والے عمل کے دوران ڈاکٹرز سے بھی غفلت ہوجاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں اس مرض کی آگاہی پیدا کی جائے، اس سلسلے میں اکتوبر کو اس مرض کی آگاہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، بہت سی این جی اوز اس آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور پنک ربن نامی (Pink Ribbon ) تنظیم بریسٹ کینسر کی آگاہی اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی میں سر فہرست ہے۔

اکتوبر 2018 میں شوکت خانم ہسپتال نے پانچ منٹس اپنے لۓ (5 minutes for me) کے نام سے ایک مہم چلائی جس میں پاکستان کی خوااتین کو آگاہی دی گئی کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص میں صرف پانچ منٹس ہی درکار ہوتے ہیں، اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سال سے کم عمر خواتین کو ہر مہینے اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے اور 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ریگولر چیک اپ کے ساتھ ساتھ میمو گرافی بھی کروا لیں جو کہ بریسٹ کینسر کا مخصوص ٹیسٹ ہے، کیوں کہ اس مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے، اس لیے بڑی عمر میں یہ ٹیسٹ ضروری ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سماج کے باشعور اور متحرک لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ بروقت تشخیص ہی اس مرض کا ممکن حل ہے اور یہ مرض قابل علاج ہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خاتون ناپاک یا اچھوت ہے جس کی بنا پر نہ تو مریض کا تیار کردہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔

بریسٹ کینسر کسی بھی دوسرے کینسر کی طرح ایک مرض ہے جو کہ وبائی مرض کی طرح نہیں پھیلتا، اکتوبر 2018 میں ایک آگاہی مہم کا نعرہ تھا "ہم کر سکتے ہیں، میں کر سکتی ہوں" بالکل اسی نعرے پر عمل کرتے ہوئے ہم خواتین اس مرض کو مات دے سکتی ہیں۔


سدرہ جمیل نے یونیورسٹی آف پنجاب سے بائیوکیمسٹری میں ایم ایس سی کرنے کے بعد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے بائیوکیمسٹری میں ایم فل بھی کیا۔

اس وقت وہ ایک تعلیمی ادارے میں بائیولوجی اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں، ساتھ ہی وہ بیماریوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے اور دوسروں کو آگاہ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

ان سے ٹوئٹر @sidraja92174961 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔