ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کے خطرے سے دوچار

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

ہر سال 90 ہزار نئے کیسز کے اضافہ بریسٹ کینسر ایشیا کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے — فائل فوٹو: میڈیکل نیوز ٹوڈے
ہر سال 90 ہزار نئے کیسز کے اضافہ بریسٹ کینسر ایشیا کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے — فائل فوٹو: میڈیکل نیوز ٹوڈے

لاہور: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک خاتون کے بریسٹ کینسر (چھاتی کا سرطان) میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے لیکن بروقت تشخیص اور فوری علاج کے ذریعے ہر سال ہزاروں خواتین کو بچایا جا سکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بریسٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں 7ویں نمبر پر ہے جبکہ ہر سال 90 ہزار نئے کیسز کے اضافہ سے یہ مرض ایشیا کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان میں ہر سال بریسٹ کینسر کے باعث 40 ہزار تک خواتین موت کا شکار ہوجاتی ہیں جسے صرف خواتین میں وقت سے پہلے تشخیص کی آگاہی دے کر ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینسر جیسی بیماری سے بچنا بہت آسان

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) میں بریسٹ کینسر کی آگاہی سے متعلق ہونے والے سیمینار میں انمول ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابو بکر شاہد کا کہنا تھا کہ اٹامک اینرجی کمیشن کے تحت چلنے والے 18 مختلف ہسپتالوں میں کینسر کے 89 فیصد مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ بریسٹ کینسر کے مریضوں کی ابتدائی مرحلے پر اسکریننگ کے لیے اٹامک اینرجی کمیشن کے ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کلینک بنائے گئے ہیں، مزید یہ کہ مَردوں میں بریسٹ کینسر کی شرح 2 سے 3 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: بریسٹ کینسر کون سی خواتین میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

اس حوالے سے معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عصمت لغاری کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کی جنگ جسمانی اور نفسیاتی دونوں محاذوں پر لڑی جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پاکستان میں بیماری کے خوف کے علاوہ خواتین کو معاشی خوف سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور یہ تمام خوف بھی انسان کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور نرسوں کی تربیت کرنا ضروری ہے کہ مریضوں سے کیسے بات چیت کرنی ہے ان کے مسائل کو کیسے شفقت اور ہمدردی کے ساتھ سننا ہے۔

ادھر وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر سمیت تمام کینسرز ملک میں بڑھ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے قومی سطح پر ایک تحقیقی گروہ تشکیل دیا گیا ہے، اس تحقیقی گروپ میں تمام میڈیکل جامعات سے سائنسدان اور محقیقین کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محض 3 منٹ میں خود ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات تشخیص کرنے کا طریقہ

انہوں نے کہا کہ اس گروپ میں پروفیسر فریدون، پروفیسر ندیم افضل، ڈاکٹر شاہ جہاں اور یو ایچ ایس کے دیگر دوسرے افراد بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹڈی گروپ بریسٹ کینسر کے ان مختلف عوامل کی نشاندہی کرے گا جو اس کے بڑھنے میں ممکنہ طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں، ایسے عوامل میں عمر، تولیدی صحت سے کی ہسٹری اور طرز زندگی شامل ہیں۔

پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ اسٹڈی گروپ اپنی رپورٹ کو اکتوبر 2021 تک عام کرے گا۔

مزید پڑھیں: بریسٹ کینسر کے علاج کا سب سے آسان اور سستا طریقہ دریافت

دوسری جانب اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بریسٹ کینسر قابل علاج بیماری ہے اور جلد تشخیص اس کے علاج کا پہلا قدم ہے۔

ماہر سرطان ڈاکٹر احسان الرحمٰن کا کہنا تھا کہ خواتین کے مقابلے میں مَردوں کو زیادہ بریسٹ کینسر سے متعلق معلومات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بریسٹ کینسر کی نشاندہی کرنے والی عام علامات

ان کا کہنا تھا 'جب تک آپ نیلے کو گلابی کے ساتھ نہیں ملا لیتے گراہ نہیں کھلے گی'، ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ بریسٹ کینسر کی آگاہی کے حوالے سے مَردوں کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

دریں اثنا کینسر کیئر ہسپتال کے بانی پروفیسر شہریار کا کہنا تھا کہ 71 فیصد خواتین آخری اسٹیج پر ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نتیجے میں بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کی آدھی تعداد تشخیص کے پہلے سال ہی انتقال کرجاتی ہیں۔


یہ خبر 29 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔