سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

ہم باہر کی کم معیار والی گندم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر مقامی کاشتکاروں کو ہم اچھی رقم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وزیر اعلیٰ سندھ - فائل فوٹو:اے پی پی
ہم باہر کی کم معیار والی گندم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر مقامی کاشتکاروں کو ہم اچھی رقم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وزیر اعلیٰ سندھ - فائل فوٹو:اے پی پی

سندھ کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے اور گنے کی 202 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گندم کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں سیکریٹری زراعت رحیم سومرو نے کابینہ کو بتایا کہ پنجاب اور بلوچستان حکومتوں نے 1700 روپے فی 40 کلوگرام کی تجویز دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 16-2015 سے 19-2018 تک سپورٹ پرائز 1300 فی 40 کلوگرام تھی جسے 20-2019 میں 1400 روپے فی 40 کلوگرام کیا گیا۔

وزیر خوراک ہری رام نے بتایا کہ درآمد شدہ گندم سندھ 5000 روپے فی 40 کلوگرام پر لیتا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ کابینہ نے کیماڑی کو ضلع بنانے کی منظوری دے دی

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ 'ہم درآمد شدہ گندم پر غیر ملکی زر مبادلہ خرچ کرتے ہیں جبکہ درآمد شدہ گندم کا معیار ہماری اپنے گندم کے معیار سے کم ہے۔

سیکریٹری خوراک کا کہنا تھا کہ سال 8-2007 میں سپورٹ پرائز 625 فی 40 کلوگرام تھی، سندھ حکومت نے 9-2008 میں سپورٹ پرائز بڑھا کے 950 فی من مقرر کی جس کے نتیجے میں گندم زیادہ اگائی گئی اور سندھ میں بہترین فصل ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم باہر کی کم معیار والی گندم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر مقامی کاشتکاروں کو ہم اچھی رقم دینے کے لیے تیار نہیں۔

اجلاس میں تمام وزرا نے گندم کی سپورٹ پرائز بڑھانے پر اتفاق کیا اور کہا کہ 'اگر گندم کی قیمت نہیں بڑھائی گئی تو اگلے سال پھر ہمیں گندم درآمد کرنی پڑے گی'۔

بعد ازاں کابینہ نے گندم پر 2000 روپے فی 40 کلوگرام کی سپورٹ پرائس مقرر کردی۔

گنے کی امدادی قیمت

صوبائی کابینہ میں گنے کی کم سے کم پرائز مقرر کرنے پر بھی تبادلہ خیال جہاں کابینہ کو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے 200 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔

سندھ حکومت نے 202 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ میں ترامیم

سندھ کابینہ میں کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینس ایکٹ 2991 میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ نے جزائر سے متعلق آرڈیننس واپس لینے تک وفاق سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا

وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ترمیم کا مقصد چند منشیات کا تفریح کے لیے استعمال پر پابندی لگانا ہے جیسے میتھم پھیتمائن (Methamphetamine) سے آئس نشہ بنتا ہے جس پر پابندی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس قسم کی دیگر ڈرگ کا تفریحی مقصد کے استعمال پر پابندی ہوگی، جس پر 7 سال قید / جیل کی سزا لگائی گئی ہیں۔

سندھ کو آپریٹو سوسائٹی رولز 2020 کی منظوری

کابینہ نے سندھ کلچرل ہیریٹج (پریزرویشن) ایکٹ 2094 کے رولز کی منظوری بھی دے دی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نئے رولز میں کچھ الفاظ کی تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 2553 قدیم عمارتیں سروے کی گئی ہیں جن میں سے 2 ہزار 111 ہیریٹیج نوٹیفائی ہوچکی ہیں جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہیریٹیج کمیٹی کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشاورتی کمیٹی کی مشاورت سے کسی علاقے کو ہیریٹیج ڈکلیئر کیا جاسکتا ہے۔