ماڈل فروا علی کاظمی بھی کورونا کا شکار

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

ٹوئٹر صارف نے ماڈل فروا علی کی فیشن شو میں شرکت پر تنقید کی—فوٹو: انسٹاگرام
ٹوئٹر صارف نے ماڈل فروا علی کی فیشن شو میں شرکت پر تنقید کی—فوٹو: انسٹاگرام

ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے سر اٹھانے کے بعد جہاں پاکستان بھر میں نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وہیں شوبز شخصیات میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہورہی ہے۔

حال ہی میں پاکستانی ماڈل فروا علی کاظمی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے خود سے رابطے میں رہنے والے افراد کو قرنطینہ میں جانے کی درخواست بھی کی ہے۔

انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، گزشتہ ہفتے میں مجھ سے رابطے میں رہنے والے افراد خود کو قرنطینہ کرلیں۔

—فوٹو:اسکرین شاٹ
—فوٹو:اسکرین شاٹ

فروا علی کاظمی نے مزید لکھا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے علامات کو غلطی سے فلو سمجھتے ہوئے نظرانداز کیا تھا، انہوں نے اپنے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

مزید پڑھیں: کورونا کی 'دوسری لہر': ملک میں شاپنگ مالز، مارکیٹس 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ

ایک اور انسٹا اسٹوری میں انہوں نے لکھا کہ وہ تمام افراد جنہیں کھانسی، جسم میں اور سر میں درد ہے لیکن بخار نہیں ہے، برائے مہربانی اپنا ٹیسٹ کروائیں۔

—فوٹو:اسکرین شاٹ
—فوٹو:اسکرین شاٹ

ماڈل فروا علی نے لکھا کہ انہوں نے یہ سوچ کر ٹیسٹ کرانے میں تاخیر کی کہ یہ موسمی زکام ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔

اس کے بعد انہوں نے خود میں کورونا وائرس کی علامات کی فہرست بھی بتائی جس میں مائگرین (درد شقیقہ)، جسم میں شدید درد، متلی ہونا اس کے ساتھ ساتھ ذائقے، سونگھنے کی حس اور بھوک میں کمی بھی شامل ہے۔

—فوٹو:اسکرین شاٹ
—فوٹو:اسکرین شاٹ

تاہم کورونا وائرس کا شکار ہونے کے اعلان کے بعد ماڈل فروا علی کو حال ہی میں ہونے والے حسین ریہر کے سولو شو میں شرکت پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ انہوں نے اس فیشن شو میں جاکر انڈسٹری کے ان گنت افراد کو وبا سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ گزشتہ ہفتے لاہور میں سال 2020 کا پہلا فیشن شو منعقد ہوا تھا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔

صارف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ایک ماڈل جو اس شو کا حصہ تھیں اور ماسک کے بغیر تھیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ پہلے وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ انہیں موسمی زکام ہے۔

ٹوئٹر صارف نے ماڈل فروا علی کی فیشن شو میں شرکت پر تنقید کی۔

فروا علی کاظمی نے صارفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شو کے وقت انہیں صرف کھانسی تھی جو اتنی زیادہ نہیں اس سے خوفزدہ ہو کر ٹیسٹ کروایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل مجھ میں فیشن شو کے دوران صرف ایک علامت ظاہر ہوئی تھی جو کھانسی تھی اور صرف اس کی وجہ سے کورونا کا ٹیسٹ نہیں کروایا جاسکتا۔

—فوٹو:اسکرین شاٹ
—فوٹو:اسکرین شاٹ

ماڈل نے کہا کہ لوگوں کو کسی ایسی چیز کے لیے مورد الزام ٹھہرانا بند کریں جس سے وہ واقف نہ ہو، اگر مجھ میں زکام جیسی علامات ہوتیں تو میں پہلے ہی ٹیسٹ کراچکی ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام، صحت سے زیادہ اہم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ مہینوں سے سخت قرنطینہ میں تھیں اور ایک شو کو چھوڑنے سے ان کے لیے مسئلہ نہیں ہوتا۔

فروا علی کاظمی نے کہا کہ میں دوسروں کی جانب اپنی ذمہ داری سے اچھے سے آگاہ ہوں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران ان کے گھر میں 2 افراد وائرس کا شکار ہوئے تھے اور وہ اچھے سے جانتی ہیں کہ صحت کے قواعد و ضوابط کیسے کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

حال ہی میں اداکار عثمان مختار میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ماڈل علیزے گبول بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں اور وہ اب صحتیاب ہوچکی ہیں۔

ان سے قبل بھی ڈیڑھ درجن کے قریب پاکستانی شوبز شخصیات کورونا کا شکار ہوئی تھیں، جن میں سے زیادہ تر شخصیات کم از کم 2 ہفتے بعد صحت یاب ہوئی تھیں۔

بعض شوبز شخصیات کو صحت یاب ہونے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کا وقت بھی لگا تھا۔

کورونا کے باعث پاکستان میں 2 اداکاروں کی موت بھی ہوچکی ہے، جن میں 9 ستمبر کو فلم اور ڈراموں کے سینئر اداکار مرزا شاہی اور 21 مئی کو سندھی و اردو اسٹیج ڈراموں و ٹی وی کے اداکار صغیر الہٰی کھچی چل بسے تھے۔

علاوہ ازیں اداکارہ سکینہ سموں، ندا یاسر، یاسر نواز، روبینہ اشرف، گلوکار ابرار الحق، بلال مقصود کامیڈین و میزبان شفاعت علی, واسع چوہدری اور نوید رضا ھی وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ ملک میں ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے 28 اکتوبر کی شب کو ہی نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن کے تحت شاپنگ مالز، دکانیں اور مارکیٹس رات 10 بجے بند کردی جائیں گی۔

دوسری لہر کے پیش نظر نافذ کی گئی پابندیوں کے مطابق ملک بھر میں تفریح گاہ اور پبلک پارکس بھی شام 6 بجے بند کردیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں ملک بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، مارکیٹس سمیت ان ڈور سرگرمیوں کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

پاکستان میں 29 اکتوبر کی صبح تک مجموعی کورونا متاثرین کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 108 تک جا پہنچی تھی، جس میں سے 3 لاکھ 12 ہزار 638 افراد صحت یاب جب کہ 6ہزار 775 افراد انتقال کرچکے تھے۔