گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی ایل اے 3 سے پی ٹی آئی اُمیدوار کامیاب

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

گلگت بلتستان اسمبلی کے دیگر نشستوں پر انتخابات کا انعقاد 15 نومبر کو ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے پی پی
گلگت بلتستان اسمبلی کے دیگر نشستوں پر انتخابات کا انعقاد 15 نومبر کو ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے پی پی

گلگت: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اُمیدوار سید سہیل عباس نے گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی ایل اے-3 سے انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے دیگر نشستوں پر انتخابات کا انعقاد 15 نومبر کو ہوئے تھے۔

تاہم جی بی ایل اے-3 میں پی ٹی آئی اُمیدوار اور مقامی صدر سید جعفر شاہ کی وفات کے باعث پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات میں کامیاب ہونے والے 4 آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل

سید جعفر شاہ، پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر تھے اور انتخابات کے سلسلے میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد 11 اکتوبر کو کورونا وائرس کے سبب انتقال کر گئے تھے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق اس نشست پر ہونے والے انتخاب میں سہیل عباس نے 5 ہزار 790 ووٹس حاصل کر کے آزاد اُمیدوار ڈاکٹر محمد اقبال کو شکست دی جو 3 ہزار 211 ووٹس حاصل کرسکے۔

سہیل عباس کی کامیابی اور 6 آزاد اُمیدواروں کی شمولیت کے بعد مجموعی طور پر پی ٹی آئی کی گلگت بلتستان اسمبلی میں 17 نشستیں ہوگئی ہیں اور اب وہ بآسانی حکومت بناسکتی ہے۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان کے نو منتخب اراکین 25 نومبر کو اپنا حلف اٹھائیں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے 4 خواتین سمیت 330 اُمیدوار انتخابات میں حصہ لیا تھا جس میں ایک نشست پر انتخاب ملتوی ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں حکومت کی تشکیل کیلئے آزاد اُمیدواروں کا اہم کردار

ابتدائی نتائج کے مطابق اس طرح 23 حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی جس کے بعد 7 آزاد اُمیدوار کامیاب ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 3 نشستوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) 2 جبکہ متحدہ وحدت المسلمین جس نے پی ٹی آئی کے ساتھ ایک نشست پر ایڈجسٹمنٹ کی تھی وہ ایک نشست پر کامیاب ہوئی۔

ایک جانب پی ٹی آئی کے کارکنان خطے میں اپنی اولین جیت کا جشن منا رہے ہیں تو دوسری جانب ملک کی 2 بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔