صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی ہی وکیل سے اظہار لاتعلقی

23 نومبر 2020

ای میل

صدر ٹرمپ نے سڈنی پاول سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
صدر ٹرمپ نے سڈنی پاول سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے بےبنیاد الزامات کے بعد وکیل سڈنی پاول سے فاصلہ اختیار کر لیا۔

سڈنی پاول نے انتخابی مہم کی پریس کانفرنس کے دوران ووٹوں کی جعل سازی سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے وکیل سڈنی پاول کی جانب سے پریس کانفرنس میں ووٹر فراڈ کے لگائے گئے بے بنیاد الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

انتخابی مہم کے وکلا روڈی گیولیانی اور جیننا ایلیس کا اعلامیے میں کہنا تھا کہ 'سڈنی پاول اپنے طور پر قانون کی پریکٹس کر رہی ہیں، وہ اب صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی رکن نہیں ہیں جبکہ ذاتی حیثیت میں بھی صدر کی وکیل نہیں ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کا فتح کا دعویٰ، امریکی صدر کا دھاندلی کا الزام

سڈنی پاول کا دعویٰ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، اپنے حریف جو بائیڈن کو بڑے مارجن سے شکست دے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا، وینزویلا اور دیگر ’کمیونسٹ‘ ریاستوں نے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے حق میں ہیکر حملوں کے ذریعے انتخاب میں ہیرا پھیری کرائی۔

تاہم ان کی جانب سے ان دعوؤں کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے تھے۔

ٹرمپ کی 3 نومبر کے انتخاب میں شکست کو بدلنے کی کوششوں کے سلسلے میں مہم کی جانب سے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی پنسلوانیا میں فتح کو روکنے کے لیے دائر درخواست کو جج نے خارج کردیا تھا جس کے ایک روز بعد یہ اعلان سامنے آیا۔

خیال رہے گزشتہ روز پنسلوانیا کے جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو مسترد کردیا تھا۔

جج میتھیو برن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے پنسلوانیا میں میل ان بیلٹ کے بارے میں اپنی شکایات میں 'میرٹ کے بغیر اور قیاس آرائیوں پر مبنی قانونی دلائل' پیش کیے تھے۔

جج کا کہنا تھا کہ 'امریکا میں اس طرح کے دعوؤں کی بنیاد پر کسی ایک ووٹر کے حق رائے دہی کو مسترد نہیں کیا جاسکتا'۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ہار نہیں مانیں گے، شکست پر لڑ پڑیں گے، سابق اہلیہ

جج میتھیو برن نے فیصلے میں کہا تھا 'ہمارے لوگ، قوانین اور ادارے زیادہ حقائق کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والے ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی اس فیصلے سے مایوس ہوئے تھے جبکہ انہوں نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

پنسلوانیا کے جج کی جانب سے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی پیش کردہ پٹیشن خارج ہونے کے بعد ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی کامیابی کی راہ ہموار ہوچکی ہے جبکہ ٹرمپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ مہم اب فلاڈیلفیا میں تیسری امریکی سرکٹ کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: شکست خوردہ ڈونلڈ ٹرمپ پر جیل کی تلوار لٹکنے لگی

واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتائج آنے سے قبل ہی صدارتی انتخاب میں بڑی فتح کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے حریف جو بائیڈن کی جانب سے فتح کا دعویٰ کیے جانے کے بعد ڈیموکریٹس پر الیکشن کو چرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کردیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ بڑی فتح کی جانب گامزن ہیں لیکن جو بائیڈن الیکشن چرانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا تھا ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے جبکہ ٹوئٹر نے فوری طور پر ٹرمپ کی وہ ٹوئٹ ہٹا دی تھی جس میں انہوں نے الیکشن کو چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور متعدد مرتبہ کہا تھا کہ وہ مقدمات کے ذریعے نتائج کو کالعدم کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کیا کچھ مختلف ہوا؟

علاوہ ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن سے شکست کے بعد سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کو برطرف کردیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ڈائریکٹر نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم سینٹر کرسٹوفر ملر قائم مقام سیکریٹری دفاع ہوں گے’۔

یاد رہے صدر ٹرمپ نے جولائی 2019 میں مارک ایسپر کو سیکریٹری دفاع مقرر کیا تھا، اس سے قبل جیمز میٹس کو مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے حوالے سے پالیسیوں میں اختلاف پر عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔