ملک کے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کی—اسکرین شاٹ
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کی—اسکرین شاٹ

ملک بھر میں کورونا وائرس خاص طور پر تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کی، جس میں فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7 فیصد سے زائد دیکھی گئی۔

اہم فیصلے

  • 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند ہوں گے
  • اس ایک ماہ کے عرصے میں گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا
  • اساتذہ کو اسکولز بلانے کی اجازت ہوگی
  • آن لائن کی سہولت جہاں موجود نہیں وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے
  • 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی
  • 11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے سے قبل ایک جائزہ اجلاس ہوگا
  • جامعات کے ہاسٹلز میں ایک تہائی طلبہ رہ سکیں گے
  • دسمبر میں ہونے والے امتحانات جنوری کے وسط تک ملتوی ہوں گے
  • پی ایچ ڈی طلبہ کو جامعات بلاسکیں گی

اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ آج ہونے والے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں فیصلے کیے گئے کہ 26 نومبر سے ملک کے تمام تعلیمی ادارے اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز، ٹیوشن سینٹرز بند کردیے جائیں گے تعلیمی اداروں میں طلبہ نہیں آئیں گے اور وہ گھروں سے تعلیم جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تعلیمی سلسلہ آن لائن ہے وہاں آن لائن جبکہ جہاں یہ سہولت نہیں ہے وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتیں فیصلہ کریں گی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: 2 ہفتوں کے دوران ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح دگنی ہوگئی

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام حکومتوں کی جانب سے یہ کوشش کی جائے گی کہ گھروں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہے لیکن طلبہ کی اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے اندر کوئی کلاسز نہیں ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی اور اس دوران تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ 11 جنوری کو حالات کی بہتری پر تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے تاہم جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک جائزہ اجلاس ہوگا۔

امتحانات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ دسمبر کے دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا اور اب یہ 15 جنوری اور اس کے بعد ہوں گے تاہم اس میں کچھ ایسے امتحانات ہیں جو جاری رہیں گے۔

اس حوالے سے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کچھ انٹرنس امتحانات جیسے ایم ڈی کیٹ وغیرہ جو انٹری کے لیے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں گے کیونکہ ان کا ایس او پیز اور ماسک کے ساتھ انتظام کرنا ممکن ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ منعقد کیا جاسکتا ہے۔

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے—اسکرین شاٹ
معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے—اسکرین شاٹ

انہیں کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اساتذہ یا کسی اور بھرتیوں کے سلسلے میں ہونے والے امتحانات بھی جاری رہیں گے لیکن طلبہ کے دسمبر میں ہونے والے امتحانات کو جنوری کے وسط تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن یونیورسٹیز فوری طور پر آن لائن تعلیم شروع کردیں گی جبکہ جامعات کے ہاسٹلز میں طلبہ کا ایک تہائی حصہ رہے گا، جس میں وہ طلبہ ہوں گے جو بیرون ملک سے آئے ہوئے یا جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ڈی طلبہ یا جنہیں لیب کا کام کرنا ہے تو انہیں یونیورسٹی بلانے سے متعلق جامعہ خود فیصلہ کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی دوسری لہر: پاکستان میں مزید 2 ہزار 756 افراد متاثر، فعال کیسز 38ہزار سے زائد

اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہنرمند ادارے جہاں ریگولر کلاسز کا طریقہ کار موجود نہیں ہے وہاں تعلیمی سلسلہ جاری رہے گا۔

شفقت محمود نے کہا کہ جب تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا تب تک اسکولز اساتذہ کو ضرورت کے مطابق بلانے کا فیصلہ کریں گے تاہم طلبہ کا وہاں داخلہ منع ہوگا۔

اجلاس میں کیے گئے مزید فیصلوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہماری سفارش ہے کہ مارچ اور اپریل میں ہونے والے بورڈ امتحانات کو مئی اور جون میں لے جایا جائے تاکہ طلبہ کو اپنا کورس ورک مکمل کرنے کا وقت مل جائے، اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سال کا آغاز اپریل کے بجائے اگست میں کیا جائے، اس سلسلے میں گرمیوں یا مارچ کی چھٹیاں کم کردی جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام معاملات کا جائزہ لیا جاتا رہے گا اور جنوری کے وسط میں تعلیم کا سلسلہ باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوجائے گا۔