سعودی عرب کی ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ملاقات کی تردید

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

فیصل بن فرحان نے ٹوئٹ کے ذریعے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی — فائل فوٹو / اے ایف پی
فیصل بن فرحان نے ٹوئٹ کے ذریعے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی — فائل فوٹو / اے ایف پی

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ 'میڈیا میں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں زیر گردش ہیں'۔

انہوں نے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور محمد بن سلمان سے مائیک پومپیو کی ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود تھے'۔

واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ، ولی عہد سے ملاقات کا انکشاف

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی 'موساد' کے سربراہ یوسی کوہن کے ہمراہ اتوار کے روز سعودی شہر نیوم کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جہاں ولی عہد امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھے۔

ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 ڈاٹ کام کے ڈیٹا کے مطابق تل ابیب کے قریب بین گوریئن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سے گلف اسٹریم IV نجی جیٹ طیارے نے 5 بجکر 40 منٹ جی ایم ٹی پرواز بھری۔

ڈیٹا کے مطابق یہ پرواز جزیرہ نما سینا کے مشرقی کنارے سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف نیوم میں 6 بجکر 30 منٹ پر اتری، طیارے نے 9 بجکر 50 منٹ پر نیوم سے واپس اڑان بھری اور اسی راستے کو اپناتے ہوئے تل ابیب پہنچی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے اس ملاقات کے حوالے سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطین سے امن معاہدے کے بغیر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں، سعودی عرب

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران ایک امریکی پریس کے وفد کے ساتھ سفر کیا، تاہم جب وہ ولی عہد سے ملاقات کے لیے گئے تو وفد کو نیوم ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔

خیال رہے کہ جہاں بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کیے ہیں وہیں سعودی عرب نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان طویل عرصے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں ان کی حمایت کرتے آئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں اور اندرونی ذرائع کا ماننا ہے کہ ان کا 35 سالہ بیٹا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ممکنہ طور پر امن عمل میں کسی بڑی پیشرفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کے بارے میں زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔

ریاست نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں: پومپیو کی سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی ترغیب

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی تھی۔

بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے کم از کم سعودی عرب کے بھی نظریے کا معلوم ہوتا کیونکہ جزیرے نما ریاست بحرین، ریاض پر انحصار کرتی ہے۔