پنجاب: سرکاری و نجی دفاتر میں عملہ 50 فیصد تک محدود کرنے کے احکامات

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: رائٹرز
—فائل فوٹو: رائٹرز

لاہور: سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں فوری طور پر عملہ 50 فیصد تک محدود کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

اس ضمن میں جاری نوٹی فکیشن میں کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ31 جنوری تک عملہ گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گا۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں کورونا وائرس مزید 22 افراد کی زندگی لے گیا

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو ممکنہ حد تک کنٹرول کرنے کے لیے دفاتر میں محض 50 فیصد عملے کو ہی بلایا جائے۔

کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ دفاتر میں آنے والا 50 فیصد عملہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے زور دیا کہ احتیاط نہ کرنے سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آسکتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے کووڈ 19 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب نے وائرس سے ہوئی 2 ہزار 826 اموات کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ ہی سندھ اور دیگر صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کورونا وائرس دوبارہ سر اٹھانے لگا

کورونا وائرس سے ہوئی اموات میں پنجاب کا پہلا نمبر قومی اعداد و شمار میں صوبے کی 292 ’غیر مرتب شدہ اموات‘ کو شامل کرنے کے بعد ہوا۔

دوسری جانب کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ پنجاب کے ماہرین صحت و میڈیکل نے خبردار کیا تھا کہ صوبے میں وائرس کی دوسری لہر کے دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ صوبے میں یومیہ اوسطاً 15 مریض وائرس کی وجہ سے انتقال کر رہے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یوز) میں سانس لینے میں دشواری کی شکایات کے ساتھ مریضوں کی بڑی تعداد داخل ہونا شروع ہونے کے بعد اموات بڑھ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کووڈ-19 کی دوسری لہر کی جانب بڑھتا ہوا صوبہ پنجاب

حکومت پنجاب کی جانب سے آڈٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ صوبے بھر کووڈ 19 سے ہوئی 292 اموات ایسی تھیں جو مارچ سے وسط نومبر کے درمیان مختلف وجوہات کے باعث رپورٹ نہیں ہوئیں۔

پنجاب کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان 292 اموات کو شامل کرکے قومی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرے۔