ایتھوپیا: الٹی میٹم کے بعد ٹیگرے کے دارالحکومت کے گرد گھیرا تنگ

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

ایتھیوپیا کی فورسز کا دعویٰ ہے کہ ٹیگرے کے دارالحکومت سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ایتھیوپیا کی فورسز کا دعویٰ ہے کہ ٹیگرے کے دارالحکومت سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں—فوٹو: اے ایف پی

ایتھوپیا کی حکومت نے کہا ہے کہ وفاقی فورسز نے ٹیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کو 72 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے بعد ٹیگرے کے علاقائی دارالحکومت کے گرد گھیراؤ تنگ کیا جا رہا ہے۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا کی حکومت کے ترجمان ریڈوان حسین نے تین ہفتوں سے جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘خاتمے کا آغاز شروع ہوا چاہتا ہے’۔

مزید پڑھیں: ایتھوپیا کی فوج کا عالمی ادارہ صحت کے سربراہ پر ٹیگرے کی حمایت کا الزام

قبل ازیں ایتھوپیا کے وزیراعظم آبے احمد نے 50 لاکھ آبادی پر مشتمل پہاڑی خطے ٹیگرے کی حکمران جماعت ٹی پی ایل ایف کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ بدھ تک ہتھیار ڈال دیں یا پھر میکیلے میں آخری معرکے لیے تیار ہوجائیں۔

دوسری جانب ٹی پی ایل ایف کے رہنما ڈیبریٹسیون نے میکیلے کے گھراؤ کی خبروں کو مسترد کردیا اور کہا کہ الٹی میٹیم سرکاری فورسز کا دوبارہ منظم ہونے کا ایک حربہ ہے کیونکہ انہیں تین اطراف سے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکی کیونکہ خطے میں فون اور انٹرنیٹ کا نظام سست ہے۔

خیال رہے کہ ایتھوپیا کی حکومت کی جانب سے 4 نومبر کو ٹی پی ایل ایف پر ملٹری بیس پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد کارروائی شروع کی گئی تھی۔

ایتھوپیا میں 4 نومبر کو شروع ہونے والی کشیدگی سے اب تک سیکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد پڑوسی ملک سوڈان ہجرت کرگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایتھوپیا کے منحرف رہنما کا اریٹیریا کے ہوائی اڈے پر بمباری کا دعویٰ

ٹی پی ایل ایف نے ٹیگرے کے ساتھ قریبی خطوں امہارا اور اریٹیریا کی سرحد پر بھی راکٹ فائر کیے تھے اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ٹیگرے کے خلاف وفاقی فورسز کی معاونت کر رہے ہیں۔

ریڈوان حسین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کے پاس ٹیگرے کے اکثر علاقوں کا قبضہ ہے اور مقبوضہ علاقوں میں لوگ ٹی پی ایل ایف کی جانب سے فراہم کیا گیا اسلحہ واپس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی فورسز ٹیگرے کے دارالحکومت میکیلے سے 50 کلومیٹر دوری پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری فورسز کا حامی خطہ احمارا کے دارالحکومت باہر ڈار پر بھی ٹیگرے کی فورسز نے راکٹ فائر کیے، جس سے نقصان پہنچا ہے۔

حکومتی ترجمان کا مقامی ہوٹل پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہا ‘اب تک جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور میرے خیال میں اب ہم اس کے عادی ہوئے ہیں اس لیے زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے’۔

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس بابا میں پولیس نے 796 افراد کو ‘دہشت گردی’ کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے جو ٹی پی ایل ایف کے لیے کام کرتے تھے۔

واضح رہے کہ حکومت اور ٹیگرے کی مقامی انتظامیہ کے درمیان طویل عرصے سے چپقلش تھی اور گزشتہ ہفتے جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔

مزید پڑھیں: ایتھوپیا میں پرتشدد لڑائی: فوجیوں سمیت ہزاروں افراد کی سوڈان ہجرت

فضائی کارروائی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ یہ لڑائی کہیں ملک میں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے اور اس سے پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ایتھوپیا کی مرکزی حکومت کے فوجیوں اور ٹیگرے فورسز کے درمیان 8 مختلف مقامات پر لڑائی جاری ہے۔

وزیراعظم آبے محمد نے خطے میں کارروائی کے لیے فوج کو احکامات جاری کیے تھے جبکہ اس سے قبل ٹیگرے حکومت کی حامی فورسز نے میکیلے میں مرکزی فوج کے ایک بیس پر قبضہ کیا تھا۔

ایتھوپیا کی کابینہ نے بھی خطے میں 6 ماہ کے لیے ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے۔