فیفا: کرپشن کے الزامات پر افریقن فٹ بال فیڈریشن کے صدر پر 5 سال کی پابندی

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

احمد پر اپریل 2019 میں کرپشن کے الزامات عائد کیے گئےتھے— فوٹو: اے ایف پی
احمد پر اپریل 2019 میں کرپشن کے الزامات عائد کیے گئےتھے— فوٹو: اے ایف پی

فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال کے سربراہ احمد احمد پر 5 سال کی پابندی عائد کردی۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق مڈغاسکر سے تعلق رکھنے والے احمد احمد نے مارچ 2017 میں کنفیڈریشن کی سربراہی سنبھالی تھی جبکہ فیفا کی جانب سے کرپشن پر پابندی کے بعد 2021 میں ان کا دوبارہ انتخاب خطرے میں پڑ گیا ہے۔

فیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘احمد احمد نے اپنے فرائض کی دیانت داری سے انجام دہی کی خلاف ورزی کی، تحائف اور دیگر سہولتیں حاصل کیں، فنڈز کا غلط استعمال کیا اور کنفیڈریشن کے سربراہ کے طور پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا’۔

مزید پڑھیں: کرپشن کا الزام عائد کرنے پر لیونل میسی کو پابندی کا سامنا

بیان میں کہا گیا کہ احمد پر 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جو عمرے کی ادائیگی کے لیے ادارے کا پیسہ خرچ کرنے اور کھیلوں کی مصنوعات کی کمپنی سے روابط کی بنیاد پر عائد کیا گیا ہے۔

افریقن فٹ بال کے سربراہ اس فیصلے کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 60 سالہ احمد احمد نے چند روز قبل ہی کورونا سے صحت یاب ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

احمد کو افریقن کنفیڈریشن کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد فیفا کا نائب صدر بھی بنایا گیا تھا۔

انہوں نے فیفا کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔

احمد پر پابندی کے اعلان پر افریقن کنفیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ کونسٹینٹ اوماری قائم مقام سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیں گے جس میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن الزامات: ہسپانوی فٹبال تنظیم کے سربراہ سمیت 4 افراد گرفتار

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ فیفا کی جانب سے احمد کے خلاف سنائے گئے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جس کے تحت اب وہ ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے۔

یاد رہے کہ کانگو سے تعلق رکھنے والے کونسٹنٹ اوماری جولائی 2019 میں احمد احمد کے نائب منتخب ہوئے تھے، اوماری کانگو فٹ بال فیڈریشن کے صدر اور فیفا کونسل کے رکن بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کنفڈریشن آف افریقن فٹ بال کے سابق صدر نے اپریل 2019 میں احمد پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور فیفا کو آگاہ کیا تھا کہ احمد نے ڈائریکٹرز کو رشوت دینے کے علاوہ فیڈریشن کے فنڈز استعمال کیے اور کئی عہدیداروں کا جنسی استحصال کیا۔

بعد ازاں انہیں پیرس میں فیفا کے اجلاس کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ایک دن کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔