کورونا ویکسین سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکرز کو دی جائے گی، فیصل سلطان

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں کورونا ویکسین دستیاب ہو سکے گی — تصویر: ڈان نیوز
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں کورونا ویکسین دستیاب ہو سکے گی — تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ وبا کے خلاف محاذ پر صف اول میں کام کرنے والے ورکرز کو فراہم کی جائے گی۔

ملک میں آئندہ روز سے شروع ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے پشاور کے دورے پر موجود معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تشکیل دیے گئے ایس او پیز کے تحت چلائی جائے گی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور دیگر اراکین اسمبلی نے شرکت کی جس میں پولیو مہم کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

اجلاس میں انسداد پولیو مہم میں نئی جدت لانے کا عزم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت، منتخب نمائندے، انتظامی افسران سمیت تمام شعبہ جات مل کر ملک سے پولیو کا خاتمہ کریں گے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ اگر اسی کوشش اور جذبے کے ساتھ پولیو مہم جاری رکھیں تو ممکنہ طور پر 2021 وہ سال ہوگا کہ جب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے آخری قدم اٹھا لیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس میں ملک بھر میں پولیو وائرس کے اب تک 82 کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں سندھ اور خیبر پختونخوا میں 22، 22 کیسز، بلوچستان میں 24 جبکہ پنجاب میں 14 بچوں کو پولیو نے متاثر کیا۔

معاون خصوصی نے پولیو کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی سربراہی کی—تصویر پاک فائٹ پولیو ٹوئٹر
معاون خصوصی نے پولیو کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی سربراہی کی—تصویر پاک فائٹ پولیو ٹوئٹر

کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں کورونا ویکسین دستیاب ہو سکے گی تاہم ویکسین کے کارآمد ہونے اور اس سے منسلک دیگر معاملات بھی دیکھنے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 2 ہزار 829 کیسز، 43 اموات کا اضافہ

انہوں نے بتایا کہ کووِڈ 19 کیسز مثبت آنے کی شرح فی الوقت 7 فیصد ہے، زیادہ تر مختلف بیماریوں کا شکار افراد، 55 سال سے زائد عمر کے افراد اس وائرس کا نشانہ بنتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ وائرس کی تبدیلی کا عمل قدرتی ہے، تبدیلی سے وائرس کے طاقت میں اضافہ یا کمی ایک الگ تفصیل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر اس وجہ سے آئی کہ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ کورونا ویکسین کے حصول کے لیے 15 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں اور اب اس رقم کی منظوری لی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایس او پیز کی خلاف ورزی کے باعث کورونا وائرس کی دوسری لہر آئی، یاسمین راشد

انہوں نے واضح کیا کہ پہلے مرحلے میں انسداد کورونا ویکسین فرنٹ لائن ورکرز کو فراہم کی جائے گی، ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہوم لرننگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ فروری میں کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں 3 لاکھ 95 ہزار 185 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

مجموعی متاثرین میں سے 3 لاکھ 39 ہزار 810 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جو 86 فیصد ہے جبکہ 7 ہزار 985 مریضوں کا انتقال ہوا ہے۔