کوئٹہ میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

گزشتہ برس ملک میں 147 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
گزشتہ برس ملک میں 147 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: بلوچستان میں ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا جس کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 24 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں اب تک 82 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا میں 22، 22 کیسز سامنے آئے جبکہ 14 بچوں کو پنجاب میں پولیو نے متاثر کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ملک میں 147 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2018 میں ہی تعداد صرف 12 تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو ویکسین کی کہانی: اس میں ایسا کیا ہے جو ہر سال 30 لاکھ زندگیاں بچاتی ہے

قومی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حالیہ کیس میں پولیو وائرس کے باعث بلوچستان کی 10 ماہ کی بچی متاثر ہوئی۔

عہدیدار کے مطابق بچی ضلع کوئٹہ کی تحصیل چلٹن اور یونین کونسل خروٹ آباد 2 کی رہائشی ہے، جس کی بائیں ٹانگ مفلوج ہوئی۔

بچی کے خاندان کی سماجی و معاشی حالت غریب قرار دی گئی ہے اور یہ مکمل طور پر ویکسینیشن سے انکار کا کیس ہے کیوں کہ بچی کے اہلِخانہ اس کے خلاف تھے۔

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی مرض ہے جو پولیو وائرس سے ہوتا ہے اور 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر فالج اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطرے، انجکشن یا دونوں؟ پولیو ویکسین کے حوالے سے عام سوالات کے جوابات

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

متعدد مرتبہ ویکسینیشن سے لاکھوں بچے پولیو سے محفوظ ہوچکے ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

دنیا میں اب صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ہیں، جہاں اس بیماری کے کیسز اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔