جوہری سائنسدان کے قتل کیلئے اسرائیلی اسلحہ استعمال ہوا، ایرانی ٹی وی کا دعویٰ

30 نومبر 2020

ای میل

ایرانی جوہری سائنسدان کو تہران کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا — فائل فوٹو: رائٹرز
ایرانی جوہری سائنسدان کو تہران کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا — فائل فوٹو: رائٹرز

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایران کے معروف جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیلی اسلحہ استعمال ہوا۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی غیر ملکی خبر رساں اداروں 'اے پی' اور 'رائٹرز' کی رپورٹس کے مطابق ایرانی نیوز چینل 'پریس ٹیلی ویژن' کو ایک نامعلوم ذرائع نے بتایا کہ 'دہشت گردی کے واقعے میں جائے وقوع سے (جہاں محسن فخری زادے کو قتل کیا گیا)، برآمد ہونے والے ہتھیار پر اسرائیلی فوجی صنعت کا لوگو اور تفصیلات درج ہیں۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ سے قبل اسرائیلی انٹیلیجنٹس کے وزیر ایلی کوہین نے ریڈیو اسٹیشن 103 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کون اس کا ذمہ دار ہے؟ وہ نہیں جانتے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ قتل

ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران کے دشمن ماضی میں محسن فخری زادے کے خلاف 'متعدد ناکام آپریشنز' کرچکے ہیں۔

مزید وضاحت کیے بغیر علی شمخانی کا کہنا تھا کہ 'اس مرتبہ دشمن نے مکمل طور پر نیا، پروفیشنل اور مختلف طریقہ کار استعمال کیا'۔

واضح رہے کہ عوامی سطح پر کم مقبولیت رکھنے والے محسن فخری زادے کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری ہتھیاروں کی دریافت میں اہم متحرک نام کے طور پر جانا جاتا تھا، تہران کے قریب ہائی وے پر گھات لگائے ہوئے مسلح افراد کی جانب سے ان کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جوہری سائنسدان کے قتل کا 'سوچ سمجھ کر فیصلہ کن' جواب دیں گے، ایران

سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن فخری زادے کی تدفین شمالی تہران کے ایک قبرستان میں کی گئی جبکہ وزیر دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلامک ریپبلک ان کے قتل کا بدلہ لے گا۔

ایران کے علما اور فوجی حکام کی جانب سے محسن فخری زادے کے قتل کا ذمہ دار ایران کے دیرینہ دشمن کو ٹہرایا جا رہا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ ہفتوں میں اسرائیل اور مغرب کے ساتھ نئی محاذ آرائی کے خطرات کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم ایران کے حکمران اسرائیل پر خطرناک حملہ کرنے میں فوجی اور سیاسی مشکلات کے بارے میں آگاہ ہیں۔

مزید یہ کہ اس طرح کے حملے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی جبکہ اس سے امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن، جو 20 جنوری کو دفتر سنبھالیں گے، ان کی تہران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کو بھی نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر جوہری سائنسدان کے قتل کا الزام

یاد رہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی 2018 سے بڑھی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں 6 عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں گئیں تھیں اور ایران کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا۔

اس کی جوابی کارروائی میں ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے جوہری پروگرام کو شروع کردیا تھا، جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ اگر ایران دوبارہ معاہدے کی تعمیل کرتا ہے تو پھر امریکا اس معاہدے میں واپس شامل ہوجائے گا۔

یاد رہے تہران کی جانب سے جوہری ہتھیار رکھنے کی ہمیشہ تردید کی گئی ہے۔