جوہری سائنسدان کے قتل کا 'سوچ سمجھ کر فیصلہ کن' جواب دیں گے، ایران

29 نومبر 2020

ای میل

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے محسن فخری کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا—فوٹو: رائٹرز
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے محسن فخری کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا—فوٹو: رائٹرز

ایران نے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل پر 'سوچ سمجھ کر فیصلہ کن' جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ایران کے اعلی عہدیدار کے مشیر نے کہا کہ ایران اپنے ایٹمی سائنسدان کی ہلاکت کا جواب دے گا۔

مزیدپڑھیں: ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ قتل

علاوہ ازیں ایران کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے انتقام میں اسرائیلی شہر حائفہ پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔

ایران کی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ کمال خرازی نے ایک بیان میں کہا کہ 'بلا شبہ ایران شہید ہونے والے محسن فخری زادے کے مجرموں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

ایران میں روزنامہ اخبار کیہن کے چیف ایگزیکٹو نے محسن فخری زادے کے قتل میں اسرائیلی کردار ثابت ہونے پر اسرائیلی بندرگاہ شہر حائفہ پر حملے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ اخبار کے چیف ایگزیکٹو کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامہ ای نے مقرر کیا تھا۔

سعد اللہ زری نے ایک تحریر میں کہا کہ 'حملہ اس طرح کیا جانا چاہیے کہ بندرگارہ کو تباہ کرنے کے علاوہ اسرائیل کو بھاری انسانی جانوں کا بھی نقصان پہنچے'۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے مشیروں سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی بات کی، امریکی اخبار کا انکشاف

خیال رہے کہ مغرب کو ایک طویل عرصے سے محسن فخری پر ایک خفیہ جوہری بم پروگرام کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا شبہ تھا۔

ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے محسن فخری زادہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس ہلاکت پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر زازی ہینگبی نے کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کام کس نے کیا۔

مغربی اور اسرائیلی حکومت کے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا منصوبہ سازی کرنے کے طویل عرصے سے مشتبہ فخری زادے کو جمعہ کے روز تہران کے قریب ایک شاہراہ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا اور ان کی کار میں گولی مار دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر جوہری سائنسدان کے قتل کا الزام

ایران کے علما اور فوجی حکمرانوں نے اس قتل کے لئے اسلامی جمہوریہ کے دیرینہ دشمن اسرائیل کو مورد الزام قرار دیا ہے۔

ایران ماضی میں اسرائیل پر 2010 کے بعد سے متعدد ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔