بلوچستان کی پہلی خاتون اسپورٹس جرنلسٹ

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

مہک شاہد اپنے یوٹیوب چینل پر اسپورٹس کی کوریج کرتی ہیں—فوٹو: مہک شاہد فیس بک
مہک شاہد اپنے یوٹیوب چینل پر اسپورٹس کی کوریج کرتی ہیں—فوٹو: مہک شاہد فیس بک

صوبہ بلوچستان کو ملک کا پسماندہ ترین صوبہ مانا جاتا ہے، جہاں نہ صرف خواتین کے لیے کم مواقع ہوتے ہیں بلکہ وہاں مرد حضرات کو بھی آگے بڑھنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

تاہم وہاں کی ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو خالصتاً مرد حضرات کی فیلڈ میں اپنا نام پیدا کر رہی ہیں۔

جی ہاں، بلوچستان کی مہک شاہد اسپورٹس کی فیلڈ کی پہلی صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔

اسپورٹس کی فیلڈ میں زیادہ تر مرد حضرات ہی صحافت کے کارنامے سر انجام دیتے ہیں، کیوں کہ اس میں بہت ہی زیادہ فیلڈ کا کام ہوتا ہے۔

تاہم مہک شاہد نے اسپورٹس کی فیلڈ میں خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس میں اپنا نام پیدا کیا۔

مہک شاہد نے شاہد آفریدی اور احمد شہزاد کے انٹرویو بھی کیے ہیں—فائل فوٹو: مہک شاہد فیس بک
مہک شاہد نے شاہد آفریدی اور احمد شہزاد کے انٹرویو بھی کیے ہیں—فائل فوٹو: مہک شاہد فیس بک

ڈان میگزین میں شائع مجتبیٰ جاوید کے مضمون کے مطابق مہک شاہد بلوچستان کی پہلی اور اب تک کی واحد خاتون صحافی ہیں، جو نہ صرف بڑے کرکٹرز کے انٹرویوز کر چکی ہیں بلکہ وہ کھیل کے میدانوں میں بھی جاکر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

مہک شاہد نے بلوچستان یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور انہوں نے صحافت کا ابتدائی تجربہ مقامی ویب ٹی وی چینل میں انٹرن شپ کے دوران حاصل کیا۔

مہک شاہد نے کچھ عرصے تک ویب چینل میں انٹرن شپ کرنے کے بعد آزادانہ حیثیت سے بطور اسپورٹس جرنلسٹ کام شروع کیا اور اب تک وہ کئی اسپورٹس ایونٹ کور کر چکی ہیں۔

مہک شاہد نے کسی صحافتی ادارے کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دینے کے بجائے آزادانہ طور پر فری لانسر کی حیثیت سے کام کیا اور انہوں نے اپنا ایک یوٹیوب چینل بنایا، جہاں پر وہ اسپورٹس سے متعلق اسٹوریز، انٹرویوز اور رپورٹس جاری کرتی ہیں۔

مہک شاہد کے یوٹیوب چینل کے ایک ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور وہ یوٹیوب پر نہ صرف کرکٹ اور فٹ بال بلکہ دیگر مقامی کھیلوں کی اسٹوریز بھی شائع کرتی ہیں۔

ڈان سے مجتبیٰ جاوید سے بات کرتے ہوئے مہک شاہد نے بتایا کہ انہیں بطور اسپورٹس جرنلسٹ ابتدائی طور پر کچھ مشکلات پیش آئیں اور اس وقت ان میں جذبے و ہمت کی بھی کمی تھی لیکن اب وہ پرانی ہوچکی ہیں اور انہیں کام کرنے کی عادت ہوچکی ہے۔

مہک شاہد نے بتایا کہ کوئٹہ کے کئی صحافی انہیں جانتے ہیں اور وہ اسپورٹس خاتون جرنلسٹ ہونے کے ناطے ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ کسی عالمی پلیٹ فارم کے ساتھ کام کریں تاہم اس وقت وہ اپنے کام سے خوش ہیں۔

مہک شاہد نے اپنی آواز سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر ان کی آواز بہت خراب تھی، تاہم اب انہوں نے اسے کافی بہتر بنایا ہے اور انہیں اب اسپورٹس کی خبریں دینا اور انٹرویوز کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

مہک شاہد نے اسپورٹس اینکر زینب عباس کو اپنا آئیڈیل قرار دیا اور کہا کہ انہیں دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی ایک دن ان کی طرح بنیں گی۔

مہک شاہد نے بتایا کہ اسپورٹس جرنلسٹ بننے کے لیے انہیں والدین نے سپورٹ کیا اور انہیں آج بھی والدین کوئی کام کرنے سے نہیں روکتے بلکہ وہ اپنا من پسند کام کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

انہوں نے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد بلوچستان میں کھیلوں کو فروغ دینا ہے، کیوں کہ اسی صوبے نے انہیں نام، پہچان اور شہرت بھی بخشی ہے۔

مہک شاہد نے بلوچستان یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کر رکھا ہے—فوٹو: فیس بک
مہک شاہد نے بلوچستان یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کر رکھا ہے—فوٹو: فیس بک