کوررونا وائرس کی نئی اقسام نے سائنسدانوں کی نیند کیوں اڑا دی؟

20 جنوری 2021

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی کم از کم 4 نئی اقسام نے سائنسدانوں کی نیند کو اڑا دیا ہے۔

ان میں سے ایک تو وہ ہے جو سب سے پہلے جنوب مشرقی برطانیہ میں سامنے آئی اور اب تک کم از کم 50 ممالک میں پہنچ چکی ہے۔

یہ قسم بظاہر پرانی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت سے لیس نظر آتی ہے۔

2 اقسام جنوبی افریقہ اور برازیل میں نمودار ہوئیں جو وہاں سے باہر کم پھیلی ہیں مگر ان میں آنے والی میوٹیشنز نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔

اور ایک نئی قسم امریکی ریاست کیلیفورنیا میں دریافت ہوئی ہے، جس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات ابھی حاصل نہیں۔

نیویارک کی راک فیلر یونیورسٹی کے محقق کرسٹین گیبلر کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری تو نیند اڑ چکی ہے۔

اب تک سائنسدان کا ماننا ہے کہ یہ نئی اقسام بیماری کی شدت کو بڑھا نہیں سکے گی جبکہ ویکسین کی افادیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

بی 1.1.7

سائنسدانوں کی توجہ سب سے زیادہ بی 1.1.7 پر مرکوز ہے جو سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے حال ہی میں خبردار کیا گیا تھا کہ اس نئی قسم کا پھیلاؤ وبا کو بدترین بناسکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب تک جو معلوم ہوا ہے کہ انسانی مدافعتی نظام نئی اقسام کو ہینڈل کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری کی شدت میں اضافے یا کمی کا باعث نہیں، یہ ہسپتال میں زیرعلاج افراد کی تعداد یا اموات میں بھی تبدیلی نہیں لاتی، اب تک ہم نے جو جانا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا پھیلاؤ بالکل پرانی اقسام کی طرح ہے'۔

آسان الفاظ میں جو اقدامات اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے گئے ہیں وہ نئی اقسام کی روک تھام میں بھی مددگار ہوں گے، جیسے فیس ماسک کا استعمال، سماجی دوری، ہجوم میں جانے سے گریز اور اکثر ہاتھ دھونا۔

اہم چیز اس نئی قسم میں میوٹیشنز سے اسے خلیات میں داخلے میں آسانی سے داخل ہونے میں مدد دیتی ہیں، جیسے ہوا میں وائرل ذرات موجود ہو تو یہ ذرات بہت آسانی سے نتھنوں یا پھیپھڑوں کے خلیات میں جگہ بناسکتے ہیں۔

میوٹیشنز سے وائرسز کے اسپائیک پروٹین زیادہ آسانی سے خلیات کو جکڑنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ بی 1.1.7 زیادہ آسانی سے پھیل سکتی ہے۔

یہ قسم جنوب مشرقی برطانیہ میں نومبر اور دسمبر میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی تیزی سے پھیلی اور پرانی اقسام کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ افراد کو بیمار کیا۔

ماہرین کے مطابق پرانی اقسام سے متاثر افراد سے رابطے میں آنے والے ہر 100 میں سے 11 افراد میں وائرس منتقل ہوا جبکہ بی 1.1.7 میں یہ تعداد 16 دیکھی گئئی، یعنی اس نئی قسم سے متاثر افراد کے رابطے میں آنے والے زیادہ تعداد میں اس سے متاثر ہوئے۔

مزید براں ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ بی 1.1.7 سے متاثر افراد کو زیادہ وائرل لوڈ کا علم نہیں ہوتا، یعنی ان کے جسموں میں وائرس کی نقول بننے کی شرح زیادہ تھی، جو آسانی سے پھیلنے والی قسم کے حوالے سے قابل فہم ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ نئی قسم بچوں کو زیادہ آسانی سے متاثر کرسکتی ہے، بظاہر اس تاثچر کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران اسکول کھلے ہوئے تھے، اس لیے بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئی قسم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، جب تک ویکسینیشن کی رفتار بڑھ نہیں جاتی۔

تاہم مینیسوٹا یونیورسٹی کے وبائی امراض کے شعبےک ے سربراہ مائیک اوسٹرہوم کو نہیں لگتا کہ لوگ اس حوالے سے کچھ کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں یہ نئی قسم آئندہ 6 سے 8 ہفتوں میں نئے کیسز کی تعداد میں جان لیوا اثرات مرتب کرے گی، میں تو چاہتا ہوں کہ میں غلط ثابت ہوں'۔

بی 1.3.5.1

جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کو بی 1.3.5.1 یا 501Y.V2 کا نام دیا گیا ہے، جس میں میوٹیشنز برطانوی قسم سے مختلف ہیں، جس کی وجہ سے اسپائیک پروٹین کی ساخت میں زیادہ تبدیدلیاں آئی ہیں۔

ایک اہم میوٹیشن E484K سے ریسیپٹر کو جکڑنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے جو کہ وائرس کو خلیات میں داخل ہونے میں مدد دینے والا اہم ترین حصہ ہے۔

اس سے وائرس کو جزوی طور پر ویکسینز کے اثرات سے بچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم ابھی اس حوالے سے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

ویکسینز تیار کرنے والی کمپنیاں اور محققین کی جانب سے اس قسم کے نمونوں پر آزمائش کی جارہی ہے، تاکہ دیکھا جاسکے کہ کیا واقعی یہ قم ویکسین کے مدافعتی ردعمل کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہے یا نہیں۔

راک فیلر یونیورسٹی کے ڈاکٹر مائیکل نیوسینزویگ کے خیال میں ایسا نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جسم سیکڑوں متعدد اقسام کی اینٹی باڈیز وائرس پر حملے کے لیے بناتا ہے۔

لوگوں میں پیدائشی طور پر کچھ اینٹی باڈیز ہوتی ہیں اور بیماری کے بعد مدافعتی ردعمل بہتر ہوتا ہے اور وائرس کو ہدف بنانے کے لیے زیادہ اچھا کام کرتا ہے۔

ویکسینز سے جسم میں پیدا ہونے والا ردعمل قدرتی جیسا ہوتا ہے، تو اگر نئی قسم میں موجود میوٹیشنز اسے کچھ اقسام کے ردعمل سے بچنے میں مدد ھی دیں تو بھی جسم دیگر اینٹی باڈیز سے وائرس کو ہدف بناسکتا ہے۔

جنوبی افریقہ میں یہ نئی قسم اب سب سے بالادست قسم ہے جبکہ وہاں سے باہر 20 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔

پی 1 اور پی 2

یہ دونوں اقسام سب سے پہلے برازیل میں نمودار ہوئی تھیں، جن میں سے پی 1 قسم کو ایک سروے میں برازیل کے شہر میناوس میں 42 فیصد کیسز میں دریافت کیا گیا اور جاپان میں بھی برازیل سے آنے والے 4 مسافروں میں اسے دیکھا گیا۔

سی ڈی سی کے مطابق یہ نئی قسم کورونا وائرس سے بیمار ہونے والے افراد کو دوبارہ بیمار کرنے یا تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ صلاحیت رکھتی ہے۔

اس قسم میں میں بھی E484K میوٹیشن کو دیکھا گیا ہے۔

پی 2 بھی سب سے پہلے برازیل میں نظر آئی اور جنوری میں اسے 11 افراد میں دریافت کیا گیا۔

ایل 425 آر

یہ نئی قسم امریکی ریاست کیلیفورنیا میں نمودار ہوئی ہے جس کے بارے میں ابھی تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔

تاہم اب تک عندیہ ملتا ہے کہ اس کے اسپائیک پروٹین میں میوٹیشن ہوئی ہے تاہم ابھی واضح نہیں کہ یہ زیادہ آسانی سے پھیل سکتی ہے یا نہیں۔

ایک پری پرنٹ تحقیق میں لاس اینجلس کے سیڈرز۔ سینائی کی تحقیقی ٹیم نے نومبر کے آخر اور دسمبر میں 192 مریضوں میں سے 36 فیصد میں اس نئی قسم کو دریافت کیا، جبکہ جنوبی کیلیفورنیا میں یہ شرح 24 فیصد تھی۔

کیلیفورنیا پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ نئی قسم تیزی سے ریاست میں پھیل رہی ہے۔