نیا دور، انصاف کی تحریک شروع ہو رہی ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا—فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم مشکل سے نکل رہے ہیں اور نیا دور شروع ہو رہا ہے اور انصاف کی تحریک شروع ہو رہی ہے۔

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد لوگ ہی آزاد فیصلے کرتے ہیں، جس کو جاگیرداری نظام کہتے ہیں وہاں لوگوں کی حیثیت نہیں ہوتی لیکن صدیوں پرانے جرگہ نظام میں مشاورت سے سب فیصلے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا وزیرستان میں تھری اور فور جی سروسز شروع کرنے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہمیشہ لوگوں نے اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑی اور انگریزوں کے خلاف محسود علاقوں نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور شہادتیں دیں اور جب کشمیر میں ظلم ہو رہا تھا یہاں سے لوگ گئے اور انہوں نے جان کی قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اعتراف کرتا ہوں کہ یہ علاقے پاکستان کے دیگر علاقوں سے پیچھے رہ گئے ہیں، قبائلی علاقے اور بلوچستان کے علاقے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہاں ترقیاتی کاموں کے لیے بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے کیونکہ علاقہ بڑا ہے اور مسائل زیادہ ہیں، تعلیم کے مسائل ہیں، ہسپتال بنانے ہیں اور ایک ہسپتال 2016 سے زیر تعمیر تھا جو اب مکمل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں کوئی بھی آپ سے وعدہ کرے کہ میں آپ کے مسئلے حل کردوں گا تو وہ آپ سے سچ نہیں بول رہا ہے، آپ کے حالات مشکل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک علاقہ 70 سال سے پیچھے رہ گیا ہے تو یہ امید نہ لگانا کہ دو سال میں ایک دم انقلاب آئے گا، میں آپ سے سچ بولوں گا اور میں کوئی ایسا وعدہ نہیں کروں گا جو پورا نہ کرسکوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کدھر گیا نیا پاکستان اور مدینے کی ریاست کہاں گئی، میں ان سے کہتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ پڑھیں، کیا ایک دم مدینے کی ریاست بنی تھی، 4،5 سال اس ریاست نے بڑا مشکل وقت گزارا، امت جنگ احد اور خندق میں خطرے میں تھی اور بڑی مشکل سے نکلی لیکن آہستہ آہستہ تبدیلی آئی۔

انہوں نے کہا کہ دو طرح کی تبدیلی آئی، وہ نئے قانون لے کر آئے، قانون کی بالادستی، انصاف کا نظام لے کر آئے پھر فلاحی ریاست بنائی اور نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا، وقت لگا اور دنیا جہاں بادشاہت کی طرف جارہی تھی اس کا رخ موڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکلات آئیں اور پھر دیکھتے دیکھتے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آیا اور آج پاکستان میں وہ جدوجہد ہورہی ہے، پاکستان میں اس انقلاب کی شروعات ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انصاف کی فراہمی کی راہ میں حائل پولیس اہلکاروں کو کڑی سزا دی جائے، وزیراعظم

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ایک معاشرے کے بڑے بڑے ڈاکو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور ایک حکومت کہتی ہے میں نے این آر او نہیں دینا، جنرل پرویز مشرف فوج اس کے نیچے، آرمی چیف، ملک کا صدر، امریکا اس کے ساتھ، جج اور نیب اس کے نیچے لیکن وہ دباؤ برداشت نہ کر سکا اور دو مرتبہ این آر او دیا اور تبدیلی اس طرح آتی ہے کہ ریاست کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ قانون کے اوپر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون کی بالادستی کی جنگ میں جیسے جیتیں گے تو قومیں ایسے بنتی ہیں، مشرف نے اتنی طاقت کے باوجود ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان سے زیادہ خوش حال ہوگا، جب بنگلہ دیش بنا تو لوگوں نے کہا تھا کہ مشرقی پاکستان کا بڑا بوجھ پڑا ہوا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ایک ملک کے اندر بڑے بڑے ڈاکو ملک کی سربراہی کرتے ہیں تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا اور خوش حال نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مشکل حالات سے نکل رہے ہیں، آج پاکستان پر تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں اور ہم اس سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک کو صحیح راستے پر لے کر آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرتا جہاں طاقتور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہو، ہمارے لیے ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ دور جس پر میرا نظریہ انصاف کی تحریک شروع ہو رہی ہے، اصلاحات ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہیں، دنیا میں کوئی ایک ملک بتائیں جہاں تبدیلی آرہی ہو اور اصلاحات ہورہی ہوں اور آسان ہو۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جرمنی اور جاپان تباہ ہوگیا تھا تو ان کو کتنی دیر لگی تھی، مشکل وقت سب نے گزارا اور وہ قومیں کھڑی ہوگئیں، جب ایک ملک پر تاریخی قرضے چڑھ جائیں اور اس کا دیوالیہ نکل جائے تو تھوڑی دیر مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے پاس پیسہ ہوتا تو یہاں سرمایہ کاری کرتے کیونکہ یہاں وسائل بہت زیادہ ہیں اور بڑی جلدی تبدیلی آسکتی ہے، لیکن ہمارے مشکل حالات کے باوجود جتنے بھی وسائل ہیں قبائلی علاقوں پر خرچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایجوکیشن سٹی بنا رہے ہیں جس کے لیے زمین آگئی ہے، 5 ہزار کینال پر ایجوکیشن سٹی بنے گی اور صحت کارڈ دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری اس وقت ترجیح ہے کہ وزیرستان کو آگے رکھنا ہے کیونکہ یہاں جنگ سے زیادہ تباہی ہوئی ہے، پھر سارے قبائلی علاقے اور خاص طور پر جنوبی بلوچستان پر میری حکومت کی زیادہ توجہ ہے اور نظر آئے گا کہ نیا وزیرستان بننے جا رہا ہے۔