وزیراعظم کا وزیرستان میں تھری اور فور جی سروسز شروع کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

وزیراعظم نے وانا میں خطاب کیا—تصویر: ڈان نیوز
وزیراعظم نے وانا میں خطاب کیا—تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے دورے کے دوران علاقے میں آج سے ہی تھری اور فور جی سروسز شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں 30 سال قبل پہلی مرتبہ وانا آیا تھا اور اس کے بعد انتخابی مہم اور وزیراعظم بن کر یہاں آیا تاہم میں وزیرستان کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت کا فلسفہ یہ ہے کی پیچھے رہ جانے والے لوگوں اور علاقوں کو اوپر لائیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ووٹ لینے یا الیکشن میں کیے جانے والے وعدے کرنے نہیں آیا بلکہ ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کے غریب طبقے کو اوپر اٹھایا جائے، جہاں انہیں تعلیم کی فراہمی دی جائے اور اسکول، کالجز، جامعات اور تکنیکی تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان ہیں اور اگر ہم انہیں تعلیم، تکنیکی تعلیم دے دیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک کو اوپر لے جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا سب سے بڑا چیلنج روزگار ہے، گزشتہ 15 سال میں سب سے زیادہ تباہی وزیرستان میں ہوئی، لہٰذا یہاں کے نوجوانوں کو روزگار دینے کی بہت ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کے بیانیے کی براہ راست نگرانی کا انکشاف

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کامیاب جوان پروگرام کے تحت جو چیک دیے ہیں وہ شروعات ہیں، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ یہاں اور بلوچستان علاقوں میں زور لگائیں کیونکہ وہاں کے لوگ بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ وزیرستان کے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ یہاں کہ لوگوں نے انگریز کے خلاف سب سے زیادہ جنگ لڑی تھی، یہاں سب سے زیادہ لوگ بھی شہید ہوئے اور انگریز بھی سب سے زیادہ یہاں مرے، مزید یہ 1947 میں جو مسلمانوں پر ظلم ہوا پنجاب اور کشمیر میں تو یہاں کے لوگ کشمیر میں لڑنے کے لیے گئے تھے، یہ اس علاقے کی ایک تاریخ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے پورا اندازہ ہے کہ آپ ہمیشہ پاکستان کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، 1965 کی جنگ میں یہاں سے بہت لوگ گئے اور ملک کے لیے آپ کا جذبہ جانتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا سے ضم ہونا بہت مشکل کام تھا، اس سلسلے میں اتنشار پھیلانے کی بہت کوشش کی گئی اور مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگوں نے کوشش کی کہ یہ ضم نہ ہوں تاہم مجھے بہت قبائلی علاقے اور وزیرستان کے لوگوں نے جس طرح اس انضمام کو کامیاب کیا میں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے مستقبل کے لیے بہترین فیصلہ تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور گورنر خیبرپختونخوا یہاں آکر آپ کے تمام مطالبات سنے ہیں، جس میں سے بہت سے جائز مطالبات ہیں اور آپ نے ڈسٹرکٹ اور سب ڈویژن کا جو مطالبہ کیا ہے اس پر وزیراعلیٰ آپ سے اور مجھ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جلد بازی کے فیصلے میں مشکلات کے بڑھنے کا خوف ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ آپ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور عنقریب ہم آپ کو ایک خوشخبری دیں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ کا تھری اور فور جی کا مطالبہ بہت جائز ہے اور میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ آج سے یہاں تھری اور فور جی سروسز کھل جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ نوجوانوں کا مطالبہ تھا جو جائز تھا کیونکہ موبائل فون، انٹریٹ اور 3 اور 4 جی کی سہولت سے تعلیم و ترقی کے لیے ضروری ہے۔

تھری اور فور جی میں تاخیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے مسائل تھے کیونکہ ہمارے دشمن بھارت میں ایک ایسی انتہا پسند حکومت ہے جو مسلمان اور پاکستانیوں کی دشمن ہے اور 73 سالہ تاریخ میں ایسا بھارتی وزیراعظم اور حکومت نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان میں انتشار پھیلانے اور دہشت گردی کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، بلوچستان میں بھی پوری کوشش کر رہے ہیں یہ انتشار پھیلانے کی اور ان گروپس کے پیچھے پیسہ چل رہا ہے جو ہمیں معلوم ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ وزیرستان میں بھی نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف اکسائیں، اسی لیے تھری اور فور جی کا مسئلہ بنا ہوا تھا کیونکہ اسے دہشت گرد بھی استعمال کرسکتے ہیں تاہم میں نے اپنی سیکیورٹی ایجنسیز، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے بات کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور ہم آج سے تھری اور فور جی بحال کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’افراتفری پھیلانے والوں سے چوکنا اور ثابت قدم رہنا ہوگا‘

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ احساس پروگرام کے ذریعے غربت سے نیچے لوگوں کو پیسے دیں، خواتین کے لیے مویشی دیں تاکہ وہ آمدنی بڑھا سکیں جبکہ تعلیم میں مدد کرتے ہوئے اسکالرشپس بھی فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کا بہت نقصان ہوا، آپ بے فکر ہوجائیں یہ سمجھیں کہ یہ آپ کی حکومت ہے، آپ نے چاہے جسے بھی ووٹ دیا اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اس علاقوں کو اٹھانا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں زیتون کا انقلاب لا رہے ہیں، اگلے مہینے یہاں پر پوری پلانٹیشن کرنے لگے ہیں، یہاں اگر زیتون کے درخت اگ گئے تو آپ کو باہر نوکریوں کے لیے جانا نہیں پڑے گا۔

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اب علاقے کے ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ ملے گا جس سے آپ کسی بھی ہسپتال میں 7 لاکھ روپے تک مفت علاج کروا سکتے ہیں۔