شہباز شریف کے ہتک عزت کے مقدمے میں عمران خان کی درخواست منظور

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

شہباز شریف کے ہتک عزت کے مقدمے پر عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی درخواست قبول کر لی— فائل فوٹوزانسٹا گرام/اے پی پی
شہباز شریف کے ہتک عزت کے مقدمے پر عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی درخواست قبول کر لی— فائل فوٹوزانسٹا گرام/اے پی پی

لاہور کی سیشن عدالت نے جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے وکیل کو اپنے مؤکل کے خلاف زیر التوا تمام مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے ہتک عزت کے مقدمے میں درخواست دائر کی تھی، جس میں ان کے خلاف شہباز شریف 2017 سے پیروی کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہتک عزت کا دعویٰ: شہباز شریف کی درخواست پر عمران خان کے وکلا سے جواب طلب

عمران خان نے اس مقدمے میں اپنا جواب داخل نہیں کیا بلکہ عدالت سے استدعا کی کہ وہ پہلے مدعی کے خلاف زیر التوا بدعنوانی ریفرنسز کی تفصیلات طلب کرے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یاسر حیات نے گزشتہ سماعت پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جب عمران خان کے وکیل نے کہا تھا کہ شہباز کے خلاف مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے۔

جج نے جمعرات کو فیصلہ سنایا اور درخواست کی اجازت دیتے ہوئے مدعی کے وکیل کو 10 فروری کو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

2017 میں دائر ہتک عزت کے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے شہباز کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بیانات دینا شروع کیے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں زیر التوا پاناما پیپرز کا معاملہ واپس لینے کے عوض ایک مشترکہ دوست کے ذریعے انہیں 10 ارب روپے کی پیش کش کی۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا عمران خان پر 10 ارب روپے ہرجانے کا مقدمہ

اس میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے مدعا علیہ کو قانونی نوٹس دیا اور کہا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے 14 دن کے اندر معافی مانگیں تاہم مدعا علیہ معافی مانگنے میں ناکام رہا اور مدعی کو ہرجانے کی وصولی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔

اس مقدمے میں استدعا کی گئی تھی کہ میڈیا کے ذریعے مدعا علیہ کی طرف سے مبینہ طور پر پھیلائے جانے والے بے بنیاد اور توہین آمیز بیانات نے مدعی کی سالمیت کو متاثر کیا اور یہ ان کے لیے انتہائی ذہنی اذیت اور اضطراب کا باعث بنا۔

اس نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ مدعی کے حق میں ہتک عزت آمیز مواد کی اشاعت کے معاوضے کے طور پر 10 ارب روپے کی وصولی کا حکم جاری کرے۔