چینی قونصل جنرل کا شہباز شریف کو خط، سی پیک سے متعلق کاوشوں کی تعریف

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

شہباز شریف نے کہا کہ میں نے جو قوم کے پیسے بچائے اس پر سفارت خانے نے مجھے یہ اعزازی خط بھیجا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
شہباز شریف نے کہا کہ میں نے جو قوم کے پیسے بچائے اس پر سفارت خانے نے مجھے یہ اعزازی خط بھیجا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور میں چین کے قونصل جنرل لانگ دنگ بن نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ارسال کردہ الوداعی خط میں سی پیک کے حوالے سے ان کی کاوشوں کی تعریف کی ہے۔

چینی قونصل جنرل نے اپنے خط میں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب سی پیک منصوبے کے لیے آپ کے جوش و جذبے سے بے حد متاثر ہوا'۔

خط میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے نہ صرف متاثر کن پنجاب سپیڈ کے ساتھ سی پیک منصوبوں کی تعمیر کو عملی شکل دی بلکہ گہرے دوطرفہ تعلقات کو مجسم بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قیامت تک بھی میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکتا، شہباز شریف

قونصل جنرل نے بتایا کہ وہ 25 جنوری کو پاکستان میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل پر سبکدوش ہو کر چین واپس جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے بارے میں چینی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ 'پاکستان مسلم لیگ (ن)، حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، وہ ہمیشہ کیمونسٹ پارٹی چین کی دوست رہی ہے'۔

شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'آپ چین اور اس کے عوام کے دیرینہ دوست ہیں، آپ نے پاکستان اور چین دوطرفہ دوستی کو ایک نئی مہمیز دی'۔

چینی قونصل جنرل نے اُمید ظاہر کی کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر دونوں جماعتوں، دونوں ممالک اور دونوں اقوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف، حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 جنوری تک توسیع

ساتھ ہی خط کے اختتام پر چین کے قونصل جنرل نے شہباز شریف کے لیے صحت وشادمانی اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

احتساب عدالت کی سماعت

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران شہباز شریف نے روسٹروم پر آکر ایک خط جج کے حوالے کیا اور کہا کہ میں نے جو قوم کے پیسے بچائے اس پر سفارت خانے نے مجھے یہ اعزازی خط بھیجا ہے۔

شہباز شریف نے خط عدالت میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اگر نیب پراسیکیوٹر پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی پڑھ لیں بلکہ شوق سے پڑھیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ میری عزت نہیں خدا کی قسم پورے پاکستان کی عزت ہے۔

دوران سماعت شریف فیملی نے منی لانڈرنگ ریفرنس کے دوران عدالت میں جیمرز لگانے کے خلاف درخواست دی گئی جس میں کہا گیا کہ جیمرز انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ ریفرنس: ’شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹا، بیٹی اور داماد کے اثاثے قرق’

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمرہ عدالت میں کینسر سے لڑنے والے مریض بھی موجود ہیں اور کمرہ عدالت میں جیمرز انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

جج نے کہا کہ اگر آپ مجھے یقین دہانی کروائیں کہ کمرہ عدالت میں کچھ نہیں ہوگا تو ہٹا دیتے ہیں، عدالت میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

شریف فیملی کے وکیل نے کہا کہ جیمرز کمرہ عدالت سے باہر لگا دیے جائیں جس پر عدالت نے ایس پی سیکیورٹی کو طلب کرلیا۔

نیب کے گواہ محمد شریف سے وکلا نے جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے 1979سے 94 تک کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا، گواہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 1999 سے اپنا ریکارڈ پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ ریفرنس: ایف بی آر سے شہباز شریف کی جائیداد کا آڈٹ ریکارڈ طلب

وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ آپ نے اپنے ریکوری میمو پر 1994کا زکر کیا ہے، جسے نیب گواہ نے تسلیم کیا۔

وکیل شہباز شریف نے دریافت کیا کہ آپ نے جو ریکارڈ دیا ہے وہ چارٹ سے متصادم ہے، نیب گواہ نے اس کا بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے جو ریکارڈ دیا ہے وہ چارٹ سے متصادم ہے۔

گواہ نے جذباتی ہو کر نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ میں مانتا ہوں کہ ریکارڈ میں کچھ غلطیاں ہوئیں ہیں لیکن میں قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ میں نے پوری ایمانداری سے کام کیا۔

جس پر عدالت نے گواہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔

بعدازاں احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 فروری تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔