لاہور: کیمپس امتحانات کے خلاف احتجاج جاری، گارڈز سے جھڑپ میں 5 طلبہ زخمی

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021

ای میل

طلبہ نے لاہور میں کیمپس امتحانات کے خلاف احتجاج کیا — فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
طلبہ نے لاہور میں کیمپس امتحانات کے خلاف احتجاج کیا — فائل فوٹو: وائٹ اسٹار

لاہور میں کیمپس امتحانات کے خلاف اور مطالبات کی منظوری کے لیے جاری احتجاج کے دوران گارڈز سے جھڑپ میں 5 طلبہ زخمی ہوگئے۔

نجی یونیورسٹی کے باہر اپنے مطالبات منظوری کے لیے طلبا و طالبات کا احتجاج تاحال جاری ہے۔

خیابان جناح پر موجود نجی یونورسٹی کے طلبہ کی جانب سے مین گیٹ پر دھاوا بول دیا گیا جس پر گارڈز نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس میں زخمی ہونے والے طلبہ کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق 2 طلبہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ طلبہ نے آن لائن پیپرز کے انعقاد تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بعد ازاں طلبہ نے شوکت خانم روڈ پر دھرنا دیا اور یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 5 کے شیشے اور لائٹس بھی توڑ ڈالیں۔

معمول کے امتحانات کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر وزیر تعلیم کا نوٹس

اس سے قبل کیمپس امتحانات کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) سے کہا ہے کہ وہ جامعات کے وائس چانسلرز سے مشاورت کرے کہ آیا ان کا آن لائن امتحانات کا مطالبہ ’رواں سال خصوصی حالات کے پیش نظر ممکن ہے‘۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کا یہ بیان پیر کو ہونے والے طلبہ کے احتجاج اور اس پر مبینہ طور پر پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد سامنے آیا۔

گزشتہ ہفتے سے ملک بھر خاص طور پر لاہور میں جامعات کے طلبہ کیمپس میں امتحانات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

طلبہ کا مؤقف ہے کہ عالمی وبا کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے جامعات نے آن لائن کلاسز لیں، اس دوران جامعات نے مختلف مضامین کا نصاب بھی مکمل نہیں کروایا لیکن اب ان اداروں کی انتظامیہ امتحانات کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہور: طلبہ کا احتجاج، پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج سے متعدد زخمی

تاہم اب اس معاملے پر وفاقی وزیر تعلیم کا بیان سامنے آیا ہے اور انہوں نے طلبہ کے مطالبے کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کچھ جامعات کے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ان کے امتحانات آن لائن ہونے چاہئیں کیونکہ انہوں نے آن لائن تعلیم حاصل کی ہے‘۔

انہوں نے لکھا کہ یہ فیصلہ جامعات نے کرنا ہے لیکن میں نے ایچ ای سی کو کہا ہے کہ وہ وائس چانسلرز سے مشاورت کریں اور دیکھیں کہ آیا رواں سال خصوصی حالات میں یہ ممکن ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ معاملے سے متعلق فیصلہ لینے کے دوران جامعات اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام طلبہ امتحانات میں بیٹھنے کے قابل ہوں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جامعات کو بھی اس کا اندازہ لگانا چاہیے کہ آیا تو تمام طلبہ کے لیے امتحانات لینے کی تکنیکی صلاحیت رکھتی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جاسکتا، مزید یہ کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آن لائن امتحان کے نظام کا آسان گریڈز کے لیے غلط استعمال نہ کیا جائے، اچھے سوالیہ پیپرز/اسیسمنٹ ضروری ہے۔

طلبہ سراپا احتجاج

یاد رہے کہ گزشتہ روز پروگریسو اسٹوڈنٹس کولیکٹیو (پی ایس سی) نے کہا تھا کہ ان کے لاہور کے صدر زبیر صدیقی کو پولیس نے یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) سے گرفتار کر لیا ہے جو مظاہرے کی قیادت کر رہے تھے۔

پی ایس سی نے بعد ازاں ٹوئٹ میں کہا تھا کہ زبیر صدیقی اور دیگر طلبہ مبینہ طور پر پولیس کے لاٹھی چارج سے شدید زخمی ہوگئے ہیں اور انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) منتقل کردیا گیا ہے۔

تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کی خبروں کو مسترد کردیا تھا اور ڈان ڈاٹ کام کو ایس پی صدر ڈویژن آپریشنز حفیظ الرحمٰن بگٹی نے کہا تھا کہ 'پولیس نے کسی طالب علم پر تشدد نہیں کیا اور نہ ہی تشدد کریں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی ہے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کو کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے مذاکرات کریں۔

تاہم یو ایم ٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'جامعہ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے جاری کردہ احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: لمز کی فیسوں میں اضافے پر طلبہ اور اساتذہ کا احتجاج

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سرکاری اور نجی جامعات کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے گزشتہ ہفتے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ براہ راست امتحانات لیے جائیں، اسی طرح ایوان اقبال کے باہر بھی طلبہ نے جامعات کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

طلبہ کا کہا تھا کہ جامعات نے ہوسٹل بند کر دیے اور دوسرے شہروں سے آئے ہوئے طلبہ کو رہنے کے لیے جگہ نہیں ہے اور ایسے حالات میں وہ کیسے تیاری کریں اور امتحان میں شریک ہوں گے۔

فیس کے معاملے پر طلبہ کا کہنا تھا کہ نجی جامعات نے لاکھوں فیس وصول کی ہے اور سلیبس بھی مکمل نہیں کیا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعات کو مزید فیس لینے سے روکا جائے اور ان کے پاس مزید فیس دینے کی حیثیت بھی نہیں ہے۔