جنوبی افریقہ 220 رنز پر آؤٹ، پاکستان 4 وکٹیں گنوا کر مشکلات سے دوچار

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

جنوبی افریقی بلے باز وین ڈر ڈوسن کو رن آؤٹ کرنے پر ساتھی کھلاڑی محمد رضوان کو مبارکباد دے رہے ہیں — فوٹو: اے پی
جنوبی افریقی بلے باز وین ڈر ڈوسن کو رن آؤٹ کرنے پر ساتھی کھلاڑی محمد رضوان کو مبارکباد دے رہے ہیں — فوٹو: اے پی

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم منشکلات سے دوچار ہے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم کو پہلی اننگز میں 220 پر آؤٹ کرنے کے بعد پاکستان کی ٹیم 33 رنز پر 4 وکٹیں گنوا بیٹھی۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

ابتدائی چند اوورز میں پاکستانی باؤلرز نئی گیند کے ساتھ لائن ولینتھ سے بالکل عاری نظر آئے اور 4 اوورز میں مہمان بلے بازوں نے 28 رنز جڑ دیے۔

پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 30 کے مجموعی اسکور پر پہلا میچ کھیلنے والے عمران بٹ نے سلپ میں شاندار کیچ لے کر ایڈن مرکزم کی اننگز کا خاتمہ کردیا جنہوں نے 13 رنز بنائے۔

جنوبی افریقی بلے باز وین ڈر ڈوسن کے آؤٹ ہونے کا منظر— فوٹو: اے پی
جنوبی افریقی بلے باز وین ڈر ڈوسن کے آؤٹ ہونے کا منظر— فوٹو: اے پی

راسی وین ڈر ڈوسن اور ڈین ایئلگر نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کراتے ہوئے اسکور کو 63 تک پہنچایا لیکن اس مرحلے پر وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں ڈوسن کی 17 رنز کی اننگز رن آؤٹ کی شکل میں اختتام کو پہنچی۔

فاف ڈیو پلسیی اور ڈین ایلگر نے 45 رنز کی شراکت قائم کی لیکن یاسر شاہ کے ہاتھوں ڈیو پلیسی کی اننگز اختتام کو پہنچی، انہوں نے 23 رنز بنائے۔

کپتان کوئنٹن بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے اور 15 رنز بنانے کے بعد نعمان علی کی انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی وکٹ بن گئے۔

نعمان نے اپنے اگلے اوور میں ایک اور اہم وکٹ حاصل کرتے ہوئے 58 رنز بنانے والے ڈین ایلگر کو کپتان بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

پانچ وکٹیں گرنے کے بعد ٹیمبا باووما کا ساتھ دینے جیارج لنڈے آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 43 رنز جوڑے۔

سلپ میں کھڑے عمران بٹ جنوبی افریقی بلے باز ایڈن مرکرم کا کیچ لے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
سلپ میں کھڑے عمران بٹ جنوبی افریقی بلے باز ایڈن مرکرم کا کیچ لے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، رن آؤٹ کے نتیجے میں باووما پویلین واپسی پر مجبور ہو گئے۔

چائے کے وقفے کے بعد یاسر شاہ نے کیشپ مہاراج کی وکٹیں بکھیر دیں جبکہ 35 رنز بنانے والے جیارج لنڈے کو حسن علی نے اپنی وکٹ بنایا۔

اینرچ نورجے کی اننگز بھی جلد اختتام پذیر ہوئی اور یاسر شاہ نے انہیں بھی اپنا شکار بنا لیا۔

220 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو آخری کامیابی حاصل ہوئی جب شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر لنگی نگیدی ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے دو، دو وکٹیں اپنے نام کیں۔

پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز نے محتاط انداز اپناتے ہوئے سست رفتاری سے اننگز کا آغاز کیا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی وکٹیں محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔

کگیسو ربادا نے عمدہ اسپیل کرتے ہوئے پہلے عابد علی کو بولڈ کیا اور پھر پہلا میچ کھیلنے والے عمران بٹ کی بھی وکٹ لے لی۔

قومی ٹیم کی تمام اُمیدیں پہلی مرتبہ قیادت کرنے والے بابر اعظم سے وابستہ تھیں لیکن وہ بھی کیشپ مہاراج کی گیند پر وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار پائے۔

دن کے اختتام پر وکٹ بچانے کے لیے نائٹ واچ مین شاہین شاہ آفریدی کو بھیجا گیا لیکن وہ کھاتا کھولے بغیر ہی اینرچ نورجے کا شکار بن گئے۔

جب میچ کے پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 33 رنز بنائے تھے اور اسے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز کا اسکور برابر کرنے کے لیے 187 رنز درکار ہیں۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے ٹاس کا سکہ اپنے حق میں دیکھ کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: کوچ کے مشورے کے بغیر ٹیم نہیں بنا سکتے، بابر اعظم

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ میں پاکستان نے دو کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا۔

پاکستان نے اوپننگ بلے باز عمران بٹ اور اسپنر نعمان علی کو ڈیبیو کرایا جبکہ حسن علی کی دو سال بعد قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

ٹاس کے بعد بر اعظم نے کہا کہ وکٹ کافی خشک لگ رہی ہے اور ہمارا بھی پہلے بیٹنگ کا ارادہ ہے لیکن بدقسمتی سے ٹاس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے گیند کافی ٹرن ہو گا کیونکہ وکٹ خشک ہے اور اسپنرز کو مدد ملے گی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ عمران بٹ اور نعمان علی کا ڈیبیو ہے اور وہ دونوں کافی پرجوش ہیں جبکہ کافی عرصے بعد ایک بڑی ٹیم پاکستان آئی ہے تو ہم بھی کافی پرجوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے کنڈیشنز ہمارے لیے سازگار ہیں لیکن کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لینا چاہیے اور جنوبی افریقہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ کو ٹیم کے انتخاب میں 'بہادرانہ' فیصلہ کرنا ہوگا، مارک باؤچر

یاد رہے کہ بابر اعظم پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔

اس موقع پر جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے تصدیق کی کہ وہ میچ میں تین اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے تھے لیکن ٹریننگ کے دوران تبریز شمسی انجری کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے وہ میچ نہیں کھیل سکیں گے اور آخری لمحے پر لنگی نگیدی کا نام شامل کیا گیا۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک (کپتان)، ڈین ایلگر، ایڈن مرکرم، فاف ڈیو پلیسی، راسی وین ڈر ڈوسن، ٹیمبا باووما، جیورج لنڈے، کیشپ مہاراج، کگیسو ربادا، اینرچ نورجے اور لنگی نگیدی

پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عمران بٹ، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، نعمان علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 14سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے آخری مرتبہ 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور پاکستان نے تقریباً 9 سال اپنی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی تھی اور اس دوران پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اپنا عارضی ہوم گراؤنڈ بناتے ہوئے وہاں اپنی تمام ہوم سیریز کھیلیں۔