جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے میں 5 جوان شہید

20 فروری 2021
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے گھر، گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے گھر، گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

قبائی ضلع جنوبی وزیرستان میں سراروغہ کے علاقے میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے میں 5 اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی دیر رات ہونے والے اس حملے سے متعلق پولیس کا کہنا تھا کہ شہید ہونے والے اہلکار فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 223 ونگ سے تعلق رکھتے تھے۔

واضح رہے کہ پیراملٹری فورس ایف سی قبائلی اضلاع میں عسکریت پسنوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے حملے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان: دہشتگردوں سے فائرنگ کا تبادلہ، پاک فوج کے 4 جوان شہید

شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت نائب صوبیدار شاہد انور، نائیک احمد خان، لانس نائیک شہریار، سپاہی ایوب اور شہزاد کے نام سے ہوئی جبکہ زخمی کی شناخت شاہد افضل کے نام سے ہوئی۔

تاہم ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ادھر سراروغہ کے ایک رہائشی اقبال محسود نے ڈان کو بتایا کہ رات گئے شدید فائرنگ شروع ہوئی جو کافی دیر تک جاری رہی، مزید یہ کہ فائرنگ کی آوازیں سن کر مقامی لوگ گھروں سے باہر آگئے۔

بعد ازاں پولیس اور پیراملٹری فورسز نے حملے کے مجرمان کو پکڑنے کے لیے گھر، گھر سرچ آپریشن کیا۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 2009 میں آپریشن راہ نجات کے بعد سراروغہ کا علاقہ دہشت گردوں سے صاف کردیا تھا۔

تاہم حالی ہی میں ضلع جنوبی وزیرستان کے احمدزئی وزیر اور محسود قبائل کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوئے ہیں، مزید یہ کہ گزشتہ اتوار کی رات کو جنوبی وزیرستان کے انتظامی صدر مقام وانا کے قریب امپرووائزڈ دھماکا خیز مواد سے گاڑی کو نشانہ بنائے جانے میں 2 اہلکار شہید اور 5 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں عسکریت پسندوں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا اور ان کے 10 اہم رہنماؤں سمیت 60 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد ضلع انتظامیہ نے بدھ کو وانا اور اطراف کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا تھا، تاہم رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے مقامی عمائدین سے مذاکرات کے بعد جمعہ کو کرفیو ہٹا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان: وانا میں غیرمعینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ

اس سے قبل کرفیو کے خلاف وانا کے قریب مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، جس میں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مقابلوں کے دوران متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا تاہم اس دوران کئی جوانوں نے مملکت خداداد کی خاطر جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔

12 فروری کو جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوگئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں بتایا تھا گیا کہ دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس کا اہلکاروں نے فوری جواب دیا۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ اہلکاروں کے بھرپور ردِ عمل کے نتیجے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

قبل ازیں 4 فروری کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کو ایک کمپاؤنڈ میں دہشتگردوں کی موجودگی کا علم ہوا تھا، جس پر اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا تھا۔

آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 42 سالہ چترال کے رہائشی نائب صبیدار امین اللہ اور لنڈی کوتل کے رہائشی 24 سالہ سپاہی شیر ضامن شہید اور 4 دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد ہلاک

اس سے قبل 2 فروری کو سیکیورٹی فورسز نے پاک-افغان سرحد کے قریب لوئر دیر میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

قبل ازیں 24 جنوری کو سیکیورٹی فورسز نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی او خیسور میں کارروائی کرکے دو اہم کمانڈروں سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

18 جنوری کو خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ ہلاک دہشت گرد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سجنا گروپ کے سرگرم اراکین اور آئی ای ڈی ماہر، دہشت گردوں کے ٹرینر، موٹی ویٹر تھے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں