شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں دو دہشت گرد کمانڈر بھی ہلاک ہوئے—فائل/فوٹو: اے ایف پی
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں دو دہشت گرد کمانڈر بھی ہلاک ہوئے—فائل/فوٹو: اے ایف پی

سیکیورٹی فورسز نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی او خیسور میں کارروائی کرکے دو اہم کمانڈروں سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 'شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی اور خیسور میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'کارروائی کے دوران دو دہشت گرد کمانڈر کالعدم ٹی ٹی پی کے اے کے کے گروپ کے سید رحیم عرف عابد اور ٹی ٹی پی گوہر گروپ کے کمانڈر سیف اللہ نور سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا'۔

مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 'کمانڈر سید رحیم عرف عابد 2017 سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی 17 کارروائیوں میں ملوث تھا'۔

بیان کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر 'وانا اور میر علی کے علاقوں میں دو خود کش بمبار مراکز کا انچارج تھا اور انہیں دہشت گرد گروپوں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ، نئے دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں منظم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی'۔

دہشت گردی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 'کمانڈر سید رحیم عرف عابد نومبر 2020 سے تاحال جنوری 2021 تک دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں ملوث تھا'۔

بیان کے مطابق 'وہ میرعلی کے علاقے میں 4 ملکوں اور شمالی وزیرستان میں ایک کمپنی میں کام کرنے والے 3 انجینئروں کے قتل اور کئی حملوں میں ملوث تھا'۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 'کمانڈر سیف اللہ نور خیسور میں سیکیورٹی فورسز پر آئی ای ڈی حملوں میں براہ راست ملوث تھا'۔

اس سے قبل سیکیورٹی فورسز نے 18 جنوری کو ضلع جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے نارگوسا میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر آپریشن کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد عثمان علی اور وحید لشتئی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ہلاک دہشت گرد ٹی ٹی پی سجنا گروپ کے سرگرم اراکین اور آئی ای ڈی ماہر، دہشت گردوں کے ٹرینر، موٹی ویٹر تھے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔

یاد رہے کہ وزیرستان خاص طور پر اس کے شمالی حصے میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، جس میں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مقابلوں کے دوران متعدد اہم دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، تاہم اس دوران کئی جوانوں نے مملکت خداداد کی خاطر جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔

رواں ماہ ہی 15 جنوری کو میرعلی سب ڈویژن کے علاقے عزیز خیل میں چیک پوسٹ کے قریب سیکیورٹی اہلکار پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں لانس نائیک عباد علی نے جام شہادت نوش کیا تھا۔

14 جنوری کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 فوجی جوان شہید ہوگئے تھے۔

سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 2 خفیہ آپریشنز کیے تھے جن میں 2 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بنانے والا ماہر بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: آپریشن کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

اس واقعے سے دو روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے اسپِن وام میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 فوجی شہید اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں گزشتہ پیر کی رات کو بھی اسی علاقے میں دہشت گردوں نے ایک اور سیکیورٹی پوسٹ پر بھی حملہ کیا تھا جس میں ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں 24 دسمبر 2020 کو خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگیا تھا جبکہ 2 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں