ضمنی انتخابات: نوشہرہ میں پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، مسلم لیگ (ن) کا امیدورار کامیاب

اپ ڈیٹ 20 فروری 2021

ای میل

افتخار ولی کو پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی—فائل فوٹو: فیس بک
افتخار ولی کو پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی—فائل فوٹو: فیس بک

سیالکوٹ/نوشہرہ: ایک طرف جہاں پنجاب میں ضمنی انتخاب میں پرتشدد واقعات میں 2 افراد زندگی کی بازی ہار گئے وہیں خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گڑھ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی حکمران جماعت کے لیے ایک بڑے سرپرائز کے طور پر سامنے آئی ہے اور وہ 2018 میں جیتی گئی صوبائی اسمبلی کی نشست کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 75 ڈسکہ اور قبائلی ضلع کرم کی این اے 45 سمیت صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی پی 51 گوجرانوالہ اور پی کے 63 نوشہرہ میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی جہاں ایک جارحانہ ماحول میں روایتی حریف ایک دوسرے کے مدمقابل رہے۔

جمعہ کی رات تک آنے والے غیرسرکاری نتائج کے مطابق 4 میں سے 3 حلقوں پر مسلم لیگ (ن) فاتح بن کر سامنے آئی۔

مزید پڑھیں: وزیرآباد میں پی ٹی آئی کیلئے ووٹ چوری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، مریم نواز

سال 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے این اے 75 اور پی پی 51 کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور گزشتہ شب آنے والے غیرسرکاری نتائج کے مطابق پارٹی سخت مقابلے کے بعد ان دونوں نشستوں پر اپنی جیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

تاہم پی کے 63 نوشہرہ سے مسلم لیگ (ن) کی فتح پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے جو 2013 سے خیبرپختونخوا میں حکمرانی کر رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار ولی جسے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حمایت بھی حاصل تھی، انہوں نے ضمنی انتخاب میں 21 ہزار 112 ووٹس حاصل کرکے فتح سمیٹی جبکہ ان کے مقابلے پی ٹی آئی کے میاں عمر کاکا خیل 17 ہزار 23 ووٹس لے سکے۔

مذکورہ نشست پی ٹی آئی کے قانون ساز اور عمر کاکا خیل کے والد میاں جمشید الدین کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی، مزید یہ کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی آسانی سے انتخاب جیتے گی کیونکہ وہ اپنے آبائی علاقے میں ہمیشہ ناقابل شسکت رہے ہیں۔

ادھراین اے 75 کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی صاحبزدہ سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، اس حلقے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے علی اسجد ملہی کے درمیان تھا۔

حلقے کے کُل 360 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق نوشین افتخار ایک لاکھ 58 ہزار 791 ووٹس لے کر کامیاب رہیں جبکہ اسجد ملہی کو ایک لاکھ 42 ہزار 311 ووٹس مل سکے۔

اسی طرح پی پی 51 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی طلعت شوکت چیمہ کامیاب رہیں اور مجموعی 162 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق انہوں نے پی ٹی آئی کے یوسف آرائیں کے 48 ہزار 484 ووٹوں کے مقابلے 53 ہزار 903 ووٹس حاصل کیے۔

مذکورہ نشست مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز شوکت منظور چیمہ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

علاوہ ازیں این اے 45 کے حلقے میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی، جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار ملک جمیل خان، پی ٹی آئی کے فخر زمان اور آزاد امیدوار بابا کرم کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔

اس سے قبل اگرچہ دیگر حلقوں میں کوئی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا تاہم این اے 75 ڈسکہ میں پورا دن کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم، فائرنگ اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 3 بجے تک پولنگ پرامن طریقے سے جاری تھی کہ جب کچھ ملزمان نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گوئنڈ کی بمبان والا میں قائم پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ شروع ہوئی۔

جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹس ماجد اور ذیشان پولنگ اسٹیشن کے اندر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 2 حمایتی ساجد اور فہد شدید زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات: سیالکوٹ میں فائرنگ سے دو افراد جاں بحق

واقعے کے بعد دونوں جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے پر دونوں سیاسی کارکنان کے قتل کا الزام لگایا۔ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر حسن اسد علوی کا کہنا تھا کہ بمبان والا پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔

علاوہ ازیں 10 موٹرسائیکلوں پر مشتمل ایک گروپ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ڈسکہ، گورنمنٹ جناح ایمنٹری اسکول، میاں بازار ڈسکہ اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ڈسکہ کلاں میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوائی فائرنگ کی۔

مذکورہ واقعہ کی وجہ سے وہاں صورتحال کشیدہ ہوئی جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے پولنگ بھی معطل کرنا پڑی جبکہ ان فائرنگ کے واقعات کی ویڈیو کلپس آن لائن وائرل ہوگئیں۔

مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پی ٹی آئی کے لوگوں کو فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ پولنگ شروع ہونے سے قبل مختلف پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ باکسز بغیر سیل پائے گئے تھے۔

انہوں نے ڈسکہ پولیس پر دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ انہوں نے تقریباً ہر پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند رکھے تھے جس کی وجہ سے پولنگ سست رہی۔

وہیں پنجاب کے وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے فائرنگ اور 2 سیاسی کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کو ٹھہرا دیا۔